سعودی عرب میں انقلابی لہر اور پاکستانی میڈیا بے خبر

Security forces dispersed a protest in the central Saudi Arabian city of Buraidah and detained some 15 women on March 1, 2013

Security forces dispersed a protest in the central Saudi Arabian city of Buraidah and detained some 15 women on March 1, 2013


رپورٹ: صفدر عباس سید: سعودی عرب کے صوبے الغسیم کے صوبائی دارالحکومت بریدہ میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے احتجاجی مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے جن میں سعودی وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نائف کی تصاویر کو نذر آتش نظر آتش میں کیا گیا۔ سعودی عرب کی تاریخ میں اس واقعے کو اس لئے سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے کہ اس سے پہلے کبھی کسی عوامی اجتماع میں کسی بھی حکومتی وزیر یا آل سعود خاندان کے کسی فرد کے خلاف عوامی سطح پر اس طرح غم و غصے کا اظہار نہیں کیا گیا۔

http://edition.cnn.com/video/?/video/international/2013/01/20/saudi-arabia-protest-jamjoom-pkg.cnn
In Buraida, Saudi Arabia, women protesting detentions are arrested, sparking more protests. CNN’s Mohammed Jamjoom reports.

A political analyst tells Press TV (2 March 2013) that that the wall of fear is coming down because of the continued protests in Saudi Arabia and we will see an increased protest movement in the country. The comments came after Saudi security forces arrested over 300 people in the central province of Qassim after hundreds of Saudis staged a protest sit-in to demand the release of political prisoners. The protest gathering was held outside the investigation and prosecution bureau in the town of Buraidah on Friday. Press TV has conducted an interview with Ali al-Ahmed, Director of the IGA, to further discuss the issue.

http://youtu.be/x-sqRD4bLwc

Qassim police said security officers arrested scores of people in Buraidah on suspicion of engaging in an illegal gathering and refusal to disperse from the front side of the office of the Prosecutions and Investigations Commission early yesterday. The arrests were made at 3 a.m. after efforts lasting 12 hours to disperse the crowd failed.
“The arrested were 161 people accompanied by 15 women and six children assembled in order to mobilize public opinion by exploiting the cases of a number of convicts and accused in criminal cases related to the activities of a deviant (militant) group,” the spokesman said in statement. (Source: Arab News)

Free Our Sisters

ادھر امریکی وزیر خارجہ جان کیری ان دنوں عرب ملکوں کے دورے پر ہیں اور اتوار کو سعودی عرب کے سرکاری دورے پر پہنچ رہے ہیں۔ ان کی آمد سے قبل سعودی سکیورٹی فورسز نے اعورتوں اور بچوں سمیت حتجاج میں حصہ لینے کئی افراد کو گرفتار کر کے مختلف جیلوں میں بند کردیا ہے۔

سعودی عرب میں اٹھنے والی احتجاج کی اس لہر کو سی این این ،ایمنسٹی انٹرنیشنل ، انڈین پریس اور دنیا کے دوسرے حصوں سے تعلق رکھنے والے ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے لیکن خبروں میں سب سے آگے اور ہر خبر پر نظر رکھنے کا دعویٰ کرنے والے پاکستانی نیوز چینلز اور اخبارات نے کئی روز سے جاری ان احتجاجی مظاہروں اور خواتین اوربچوں کی گرفتاریوں کی خبروں کو قابل ذکر نہیں سمجھا۔

تجزیہ کارسعودی عرب میں جاری احتجاجی تحریک کے پاکستانی میڈیا میں بلیک آؤٹ کی وجہ پاکستانی میڈیا اور السعود نواز حکمراں طبقے اداروں میں گٹھ جوڑ کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ پاکستانی میڈیا میں سعودی برانڈ آف اسلام کے ماننے والوں کا غلبہ بھی ہے۔

سعودی عرب میں شیعہ کمیونٹی کی جانب سے احتجاج کا یہ سلسلہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری تھا۔احتجاج کی یہ تازہ لہر اس وقت شروع ہوئی جب سینکڑوں لوگوں نے مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ اور ان لوگوں کو سعودی سکیورٹی فورسز نے اپنی تحویل میں لے کر نامعلوم مقام پر جیلوں میں بند کر دیا تھا۔ ان لوگوں کے عزیز و اقارب تک کو ان سے ملنے نہیں دیا جا رہا اور نہ ہی ان کے خلاف مقدمات کا اندراج کر کے انہیں عدالتوں میں پیش کیا گیا ہے۔

سعودی انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن کے مطابق حالیہ احتجاجی مظاہرے پچھلے سوموار کو گرفتار ہونے والی ان اٹھائیس خواتین اور ان کے بچوں کی رہائی کے سلسلے میں کئے جا رہے تھے جن کے رشتہ داروں کو پچھلے کئی سالوں سے جیلوں میں قید رکھا گیا ہے۔ ان قیدیوں کو ان کے وکلاء سے بھی ملنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی انہیں عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سعودی عرب میں ہونے والے ان واقعات پر تنقید کی ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ کے پروگرام ڈائریکٹر فلپ لوتھر نے سعودی عرب کے حکام کی جانب سے بلی اور چوہے کے اس کھیل کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکام کو پر امن احتجاج کرنے والوں پر تشدد کی بجائے ان کے مطالبات سننے چاہئیں اور ان کے مطالبات کو پورا کرتے ہوئے ان قیدیوں کو رہا کرنا چاہئیے۔

احتجاج میں شامل ایک خاتون نے سی این این سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سعودی پولیس اور سکیورٹی فورسز نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ انہیں اپنی گرفتاری کا خوف ہے لیکن ان کا عزم ہے کہ وہ اپنے مطالبات پورے ہونے تک پر امن احتجاج جاری رکھیں گے۔ اس خاتون نے اپنی حفاظت اور خطرے کے پیش نظر اپنا نام خفیہ رکھنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مظاہرے میں شامل تمام لوگ اپنے عزیز و اقارب اور بچوں کی رہائی کے مطالبے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں ۔ جس طرح اس کا شوہر بھی کئی سال سے غیر قانونی طور پر سعودی حکام کی قید میں ہے۔اس کا کہنا تھا کہ وہ سعودی وزیر داخلہ محمد بن نائف کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان مظاہرین نے احتجاج کی غرض سے تین خیمے لگائے تھے جہاں انہوں نے اپنے مطالبات کی منظوری تک دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا۔لیکن اگلے روز ان کے خیموں کو اکھاڑ کر تمام خواتین اور بچوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ خواتین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے ہیں جن پر گرفتار شدگان کی جیلوں سے رہائی کے مطالبہ کے ساتھ سعودی حکام کے خلاف نعرے درج تھے۔ ایک حالیہ ویڈیو میں مظاہرے میں شریک ایک خاتون کو دکھایا گیا جس نے پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس پر سعودی خاندان کے سب سے طاقتور وزیر شہزادہ محمد بن نائف جن کے زیر اثر سعودیہ کی تمام پولیس ، خفیہ ادارے ، انسداد دہشت گردی فورسز ،افواج کے کئی ادارے اور مذہبی پولیس ہے کی برطرفی کے نعرے درج تھے۔

سعودی عرب ایک ایسا قدامت پرست ملک ہے جس میں کسی قسم کے مظاہرے کرنے پر مکمل پابندی عائد کی جاتی ہے۔حالیہ ’عرب بہار‘ کے بعد سعودی عرب میں اس قسم کے مظاہروں میں شامل ہونے کی کوشش کرنے والوں سے حکام سختی سے نمٹ رہے ہیں۔

بین الاقوامی امن کے لئے قائم کارنیگی اینڈوومنٹ کے سینئر ایسوسی ایٹ فریڈرک وہری کے مطابق قدامت پرست سعودی عرب کے وزیر کی تصویر کا جلنا ایک اہم واقعہ ہے۔تاہم سعودی عرب کے منظم اور طاقتور خاندان کے اقتدار کو چیلنج کرنا ابھی بہت دور کی بات ہے۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکن یہ خیال کرتے ہیں کہ احتجاج کے یہ سلسلے بریدہ کے علاقے سے سعودی عرب کے دیگر شہروں میں بھی شروع ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ہزاروں لو گ اپنے عزیزوں رشتہ داروں کی ضیر قانونی گرفتاریوں کی وجہ سے اشتعال میں ہیں۔وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے سی این این کو بتایا کہ گرفتار افراد کا معاملہ عدالتوں کے سامنے ہے اس لئے سعودی حکام اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔

سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں شیعہ مسلمانوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے اب شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ جن میں شیعہ مظاہرین سعودی عرب میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کے ساتھ ساتھ مساوی حقوق کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔فریڈرک وہری کے مطابق یہ مطالبے اور یہ مسئلہ سعودی حکمران خاندان کے لئے سب سے زیادہ دھماکہ خیز ہے۔

Source: Top Story Online

Comments

comments

Latest Comments
  1. Abdullah AlFaisal
    -