Deobandi militants’ role in violence against Polio-vaccination workers in Pakistan – by Mukhtar Askari

Landhi Town, Gulshan-e-Buner and other mostly Pashtun areas of Karachi have become a hub of Takfiri Deobandi militants of Sipah Sahaba Taliban (SST).

Saudi-funded Sipah Sahaba pays Rs. 15,000 per unemployed Pashtung adult to hire them for terrorist activities. One such Deobandi militant killed an Ahle Hadith (Salafi) prayer leader a few days ago.

Polio vaccination workers, Ahmadiyya Muslims, Shias and Sunni Barelvis are being killed by the Takfiri Deobandi militants of SST.

The BBC Urdu has published a number of articles which suggest that all of the areas where Poloio workers have been attacked are dominated by Sipah Sahaba Deobandi militants. There are number of Sipah Sahaba mosques, madrassas and wall chalkings in such areas – which are inhabited by Pashtun migrants from Waziristan, Swat etc. Pashtun nationalist party (ANP) remains silent, threatened and in some cases complicit with the Sipah Sahaba in Karachi. It may be recalled that for all practical purpsoes, the Sipah Sahaba represents Taliban in settled areas of Pakistan including Karachi.

Jamaat-e-Islami’s pro-Deobandi newspaper daily Ummat has published a number of misleading reports about the polio vaccine to enable violence against polio vaccination teams. Thus, Jamaat Islami, Sipah Sahaba and Taliban are working together to cripple Pakistan both ideologically and also physically.

Thank you Sipah Sahaba Taliban, For Crippled Pakistan

لانڈھی ٹاؤن کا یہ علاقہ ایک کچی بستی ہے، جائے وقوع سے آدھا کلومیٹر دور مقتول فہمیدہ اور مدیحہ شاھ کے مکانات ہیں۔

فہمیدہ اور مدیحہ کو جس جگہ قتل کیا گیا، اس سے پہلے واقع ایک میدان میں بچے کرکیٹ کھیلنے میں مصروف تھے۔ پورے علاقے میں ایسا کوئی تاثر ہی نظر نہیں آیا کہ یہاں کوئی ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔

میدان کے ساتھ ہی دیوار پر ایک اسلامی اکیڈمی موجود تھی جس پر تحریر تھا ’بچے ہمارا مستقبل ہیں دیکھنا یہ ہے کہ ہم ان کا مستقبل کیسے سنوارتے ہیں‘۔

اس سے پہلے دوپہر کو جب فہمیدہ اور مدیحہ کے گھر جانے کے لیے ہم مدد کے لیے قائد آْباد پولیس تھانے پہنچے تھے تو ایک اہلکار نے ہمیں مشورہ دیا کہ جب بھی پشتون آبادی میں آئیں تو قمیض شلوار پہن کر آئیں۔ بعد میں تھانے کے کئی اہلکار بھی قمیض شلوار میں نظر آئے۔

جینز اور شرٹ پہنے ہوئے واحد شخص سب انسپکٹر نے بتایا کہ وہ قمیض شلوار نہیں پہنتے لیکن تھانے تک محدود رہتے ہیں۔

ڈیوٹی افسر نے گلشن بونیر اکیلا نہ جانے کا مشورہ دیا لیکن ہماری درخواست پر ایک پولیس موبائل اور تین موٹر سائیکلوں پر سوار اہلکاروں کے ساتھ ہماری روانگی ہوئی۔

پولیس کا جس گلی سے بھی گذر ہوتا لوگ حیرانگی سے ان کی طرف دیکھتے۔ ایسا محسوس ہوتا جیسے پولیس پہلی بار یہاں آئی ہے۔ بعض مقامات پر پیپلز پارٹی اور عوامی نینشنل پارٹی کے جھنڈے جھولتے نظر آئے مگر دیواریں زیادہ تر کالعدم تنظیم کے نعروں سے بھری ہوئی تھیں۔ یہاں سے عوامی نیشنل پارٹی کے امان اللہ محسود رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔ امان اللہ کا اس صورتحال پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

علاقے میں سڑکیں ٹوٹی ہوئی تھیں جبکہ جگہ جگہ کچرا بکھرا ہوا تھا۔ ایک مدرسے پر یہ ہدایت تحریر تھی کہ ’مدرسے کے اوقات میں یہاں بیٹھنا منع ہے‘۔ ایک مسجد کے باہر ’گاڑی قریب نہ کھڑی کرنے‘ اور دوسری مسجد پر ’گانا بجا کر گذرنے پر منع ہے‘ کا ہدایت نامہ موجود تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اکثر آبادی محسود، سوات اور ہزارہ وال لوگوں پر مشتمل ہے جو ان علاقوں میں وہاں پر آپریشن کے بعد یہاں آئی ہے۔ انہوں نے اس پہاڑی علاقے میں گھر بنائے اور اپنے سٹائل میں زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں اور اس میں وہ مداخلت برداشت نہیں کرتے۔

ملک کے سب سے بڑے اور ماڈرن شہر میں یہ سٹائل آزاد خیال شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک سر درد بنتا جا رہا ہے جس کی دوا فی الحال کسی کے پاس دستیاب نہیں۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/12/121219_buneer_colony_gulnaz_rh.shtml

پریشانی کے عالم میں جب گلناز گلشن بونیر پہنچیں تو انہیں بھانجی مدیحہ اور بھابی فہمیدہ کی ہلاکت کے بارے میں معلوم ہوا

صوبہ خیبر پختونخواہ اور دیگر علاقوں میں سخت مذہبی رجحان رکھنے والے لوگ پولیو کے قطرے پلانے کی مخالفت کرتے رہے ہیں مگر کراچی میں پچھلے چند سالوں میں اس کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے۔ محکمۂ صحت کے مطابق یہ مخالفت چار یونین کونسلوں سے شروع ہوئی اور اب چار ٹاؤنز تک پھیل چکی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات نہیں تھی کہ کراچی میں پولیو ٹیموں کو ٹارگٹ کیا جائے گا، مکمل نگرانی اور منظم منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ہے۔

پولیو مہم سے وابستہ محکمۂ صحت کے ملازمین اور رضاکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے بھی دھمکایا گیا تھا۔ مقتولہ مدیحہ کی والدہ رخسانہ بی بی کے مطابق لوگ انہیں کہتے تھے کہ انگریزوں کے کہنے پر آکر یہ قطرے پلاتے ہو، جس پر وہ چپ ہوجاتے تھے۔
سپروائزر گلناز کا کہنا ہے کہ انہیں لوگ کہتے تھے کہ ہم محسود ہیں، یہ علاقہ غیر ہے یہاں نہ آیا کرو، انہوں نے ان سے سوال کیا کہ یہ کیسے علاقہ غیر ہوسکتا ہے۔

’ کچھ لڑکوں نے بدتمیزی بھی کی تھی، میں نے انہیں کہا کہ ہم اپنی محنت مزدوری کرتے ہیں کیوں تنگ کرتے ہو، اس بارے میں میں نے اپنے انچارج ڈاکٹر کو آگاہ کیا تھا انہوں نے مشورہ دیا کہ میں ان لڑکوں کے گھر جاکر شکایت کروں۔‘

پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں پولیو ٹیموں پر حملے کے بعد یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ کیا اب یہ ٹیمیں دوبارہ ان ’حساس ‘ علاقوں میں دوبارہ جائیں گی اور بچوں کا مستقبل بچانے کے لیے اپنی زندگی خطرے میں ڈالیں گی

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/12/121218_polio_karachi_attack_tim.shtml

On the morning of 18Dec2012, this news item was published by pro-Jamaat Islamic newspaper Ummat. By noon on that day, Sipah Sahaba Deobandi militants had killed 5 polio vaccination workers.

Deobandi militants of Sipah Sahaba circulated Ummat news item to incite violence against polio vaccination teams in Peshawar, Charsadda & Karachi

http://ummatpublication.com/2012/12/18/news.php?p=news-08.gif

Mufti Naeem Deobandi rationalizes violence against Polio vaccination team. http://www.dailyislam.pk/epaper/daily/2012/december/21-12-2012/city/24.html

Tahir Ashrafi Deobandi rationalizes Sipah Sahaba Taliban’s attacks on anti-Polio workers

Ref:
http://ummatpublication.com/2012/12/20/news.php?p=story2.gif
http://ummatpublication.com/2012/12/18/news.php?p=news-16.gif
http://www.dailyislam.pk/epaper/daily/2012/december/21-12-2012/city/24.html