PPP fully prepared to face all challenges: President Zardari


“Without naming anyone, the president said that some people write our obituaries almost daily, but the more they write … the more they are disappointed and frustrated. I salute the party, its workers and the people. We have stood together in the past and will stand together in the future as well,” presidential spokesman Farhatullah Babar said after the meeting.

ISLAMABAD, Nov 16 (APP): President Asif Ali Zardari on Monday said that the PPP was a huge political force and it was fully prepared to face all challenges confronting it politically.He said this while addressing the Central Executive Committee (CEC) of the party here.

Briefing the media, Spokesperson to the President former Senator Farhatullah Babar said that the President said that the PPP had formed government with coalition partners in the centre and all provinces and had thrown out dictatorship restoring Presidency to democratic forces and had embarked upon a course of political and economic reformation and reconstruction.

He said that the PPP was not doled out political victories through the charity of anyone but it had triumphed politically with the help of people of all provinces.

The President said that “no matter what our opponent said and no matter how much the party leadership was subjected to a campaign of vilification, the party will not be deterred and will continue its forward march in the service of the people”.

The Party Co-Chairman said that the vilification campaign against the party was aimed at weakening the party politically and warned that those hoping to weaken us politically were living in a fools’ paradise.

He said that the party had a long history of rendering great sacrifices for the sake of democracy and peoples’ rights and was not afraid of rendering sacrifices if need arose.

President Zardari said that the results of elections in Gilgit-Baltistan had convincingly demonstrated yet again that the people stood by the party and rejected the vilification campaign against it, Babar informed.

Without naming anyone, the President said that some people write our obituaries almost daily but the more they write our obituaries the more they are disappointed and frustrated. “I salute the party, its workers and the people. We have stood together in the past and will stand together in the future as well,” Babar quoted the President.

A number of participants spoke on the occasion and gave their own assessment of the political situation.

The meeting also adopted a unanimous resolution reposing complete confidence in the leadership of the party Co-Chairman and President Asif Ali Zardari and the Government.

The meeting was also attended by Prime Minister Syed Yusuf Raza Gilani, Makhdoom Amin Fahim, Shah Mehmood Qureshi, Jahangir Badar, Mian Raza Rabbani, Raja Pervaiz Ashraf, Ms. Faryal Talpur, Chief Minister Sindh Syed Qaim Ali Shah, Naveed Qamar, Dr. Babar Awan, Syed Khursheed Ahmed Shah, Shahbaz Bhatti, Rehman A. Malik, Sardar Latif Khosa, Sardar Assef Ahmed Ali, Yousaf Talpur, Qamar Zaman Kaira, Ms. Farahnaz Ispahani, Mir Ejaz Jhakrani, Ms. Farzana Raja besides members from all provinces, Gilgit-Baltistan and Kashmir. Source

ہمارے قدم نہیں ڈگمگائیں گے: زرداری

صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک بڑی سیاسی طاقت ہے اور سیاسی طور پر درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جو لوگ ان کی جماعت کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کی توقع رکھتے ہیں وہ احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں۔

صدر زرداری کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستانی میڈیا میں ان کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ایوانِ صدر میں برسرِ اقتدار جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی مجلسِ عاملہ سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری، جو پارٹی کے شریک چیئرمین بھی ہیں، نے کہا ’ہمارے مخالفین کچھ بھی کہیں اور ہماری قیادت کے خلاف بدنامی کی کتنی ہی مہم کیوں نہ چلائی جائے، پیپلز پارٹی کے قدم نہیں ڈگمگائیں گے اور پارٹی لوگوں کی خدمت کے مقصد کو آگے بڑھائے گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک بڑی سیاسی طاقت ہے اور سیاسی طور پر درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

ایوانِ صدر میں رات گئے تک جاری رہنے والے مجلسِ عاملہ کے اس اجلاس میں وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی اور صوبائی قیادت نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بتایا کے شرکاء نے ایک قرارداد کے ذریعے شریک چیئرمین اور ملک کے صدر آصف علی زرداری کی قیادت اور حکومت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

فرحت اللہ بابر کے بقول صدرِ پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر جمہوری طریقۂ کار سے وفاقی اور صوبائی حکومتیں بنائیں اور آمریت کا خاتمہ کرتے ہوئے ملک کو سیاسی و معاشی اصلاح اور تعمیرِ نو کی راہ پر گامزن کیا۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا ’پاکستان پیپلز پارٹی کو سیاسی فتوحات کسی نے خیرات میں نہیں دی بلکہ اُس نے تمام صوبوں کے لوگوں کی مدد سے سیاسی فتح حاصل کی۔‘

صدر کے ترجمان کے مطابق انہوں نے شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی برتری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں اور انہوں نے بدنامی کی مہم کو مسترد کر دیا ہے۔

فرحت اللہ بابر نے میڈیا کو بتایا کہ صدر آصف علی زرداری نے کسی کا نام لیے بغیر کہا ’ کچھ لوگ روزانہ ہماری موت کی خبر لکھ لیتے ہیں، جتنی مرتبہ وہ ہماری موت کی خبر لکھتے ہیں اتنا ہی دفعہ وہ مایوسی اور بے چینی کا شکار ہوتے ہیں۔ میں اپنی جماعت، کارکنوں اور عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جو ماضی میں بھی متحد رہے اور مستقبل میں بھی ایک ساتھ رہیں گے۔‘

عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد صدر آصف علی زرداری کی طرف سے یہ سخت ترین الفاظ سے بھرپور خطاب تھا اور بظاہر انہوں نے پاکستانی میڈیا میں ان خبروں اور تجزیوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جن میں صدر آصف علی زرداری کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ صدارت کا عہدہ رکھنے کا جواز کھو چکے ہیں۔

Source

پاکستان پیپلز پارٹی اور سکیورٹی اسٹیبلشمینٹ کی لڑائی کی کہانی تقریباً تین عشروں پر محیط ہے اور اس لڑائی میں تاحال نقصان پیپلز پارٹی کو ہی اٹھانا پڑا ہے۔ چاہے وہ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہو یا ان کے دو بیٹوں مرتضیٰ اور شاہنواز یا پھر ان کی بیٹی بینظیر بھٹو کی ’سٹیٹ آف دی آرٹ‘ منصوبہ سازی سے قتل کی کہانیاں۔

لیکن تاحال ایک بات ضرور ہوئی ہے کہ اس ملک کی ’غریب، بھوکی اور ان پڑھ‘ عوام نے پیپلز پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا اور پانچ مرتبہ اس جماعت کو اقتدار کے ایوانوں میں اپنے کندھوں پر بٹھا کر پہنچایا

Source