Do you know where God lives? A real story from Phoolnagar!

Do you know where God lives. God lives in that old cottage which provided the jhugga (shirt) to the women undressed by the religion / morality brigade in Phoolnagar.
Do you know where the devil lives? Go no further from the CM house in Raiwind, not very far from the markaz of the Tablighi Jamaat.

Mob disgraces three women in Phoolnagar
Tuesday, 29 Sep, 2009 (Dawn)

KASUR: With their faces painted black and hair cut, three women were forced to parade semi-naked in a Phoolnagar village by a mob on charges of prostitution on Sunday night.

When a civil court set them at liberty on Monday, a large number of people blocked the national highway for about one-and-a-half hours.

Denying prostitution charges, the aggrieved women said the motive behind the entire episode was political rivalry and litigation over property dispute.

One of them said that her 13 years old daughter had been missing since Sunday night.

Reports said that Jamber Kalan union council nazim Muhammad Ilyas Khan and Abdul Sattar along with some 200 villagers had raided the alleged brothel of former councilor Shahnaz alias Sarajan Bibi and recovered her, Azra and Shabana while two men managed to escape.

The charged crowd also brought out the households and set them ablaze before humiliating the women in full public view. The women were finally handed over to the Phoolnagar police on Sunday night.

On Monday, the accused women were produced before a Pattoki court from where they got the bail.

The court scolded investigation officer Bashir Ahmed for giving divergent statements. The IO stated that he along with a police party raided the alleged brothel, but later he changed his statement and said that villagers had handed over the women to police.

The court ordered registration of a case under section 496 of the PPC.

Hearing about the release of women, more than 500 villagers gathered at Ada Jamber Kalan and blocked the Multan Road to protest the court decision and demanded immediate arrest of the accused women.

SP (investigation) Waqas Ahmed along with a police team reached the spot and succeeded in dispersing the protesters.

It is learnt that accused Shahnaz has a land dispute with former TMA chairman Rana Naseeruddin. The alleged brothel is said to be the disputed property.

According to complainant Shahnaz, she had a property dispute with former TMA chairman Rana Naseeruddin and she won the case in the court. She said Naseeruddin accused her of running a prostitution ring to avenge his defeat in the court and tried to occupy her house. She said Naseeruddin reached her house along with 200 people, seized her and her two women guests and then incited the people to attack her.

She stated in the FIR (later registered as per court’s orders) that the accused cut her and her guests’ hair, tore up their clothes and forced them to parade naked in the village streets in the presence of hundreds of people for two hours. She said her teenaged daughter Asma, a student of 10th class, was missing since Sunday night. She said the accused met out this treatment to her with the backing of the local police. (Dawn)

Evil on the streets
Wednesday, September 30, 2009
We hear of many appalling acts in our society. Few are as horrifying as the incident that took place in Phoolnagar near Kasur – where a mob forced three women to walk naked on the streets. There is worse to come: police registered a case against the women for allegedly running a brothel. None was registered against the men who stripped and humiliated them. Presumably the police, and other people in the town, stood and watched passively as this happened. It is obvious that influential individuals were involved. The women say the union council nazim wanted to take possession of their house and instigated the action against them. This is easy to believe. It is of course also a telling reflection on our society that while the women were targeted in so terrible a fashion for their alleged involvement in prostitution, no attempt was made to punish the men who must necessarily be a party to any such racket. The question of prostitution is irrelevant. Regardless of whether or not a business existed, what was done to the women is unacceptable. It is unacceptable in any civilized society; it is especially unacceptable in one that calls itself Islamic. Such acts suggest it has no right to call itself that.

Letting the perpetrators go scot-free is one way of ensuring that other women will be made to suffer in exactly the same way. So far the criminals have not been touched. The local police have made it clear whose side they are on. The message has gone out to everyone. Only now that orders have come from higher places will any effort be made to bring the perpetrators to book. The possibility though is that they will be allowed to escape as the spotlight switches away. We must not allow this to happen. As citizens we must speak up against this atrocity. (The News)

پھولنگر:عورتوں کی درخواست

علی سلمان

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پھولنگر

پھولنگر کی متاثرہ خواتین

’ہمیں الف ننگا کردیا تھا انہیں خدا کا خوف نہیں رہا تھا‘

لاہورکے نواحی علاقے پھولنگر (بھائی پھیرو) کےگاؤں جمبر کلاں کی تین خواتین نے ان مقامی لوگوں کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے لیے درخواست دے دی ہے جنہوں نے مبینہ طور پر انہیں برہنہ کر کے مرکزی شاہراہ پرکھڑا کر دیا تھا۔

شہناز عرف سراجو کے وکیل محمد فاروق ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے اپنی درخواست میں خواتین کی سرعام بےحرمتی کرنے، ان کے گھر زبردستی گھس کر لوٹ مار کرنے سمیت سنگین دفعات کی درخواست پولیس کو دی ہے اور اگر پولیس نے مقدمہ درج نہ کیا تو وہ عدلیہ سے رجوع کریں گے۔

پولیس نے ان خواتین کی درخواست پر تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا ہے البتہ ان خواتین کے خلاف جسم فروشی کا اڈا چلانے کا جو مقدمہ درج کیا گیا تھا سول جج نے ان کی اہم دفعات حذف کرتے ہوئے ان تینوں کو ضمانت پر رہا کردیا ہے۔

شہناز عرف سراجو کا گھر ایک کھنڈر کا منظر پیش کررہا ہے گھر میں موجود ریفریجریٹر سے لے کر پنکھے اور چھت کے بلب تک لوٹ لیے گئے۔

جمبرگاؤں کی متاثرہ گلی میں پہنچے تو دور سے ایسا لگا کہ کوئی جنازہ جارہا ہے قریب جاکر دیکھا تو پانچ چھ افراد فریج اٹھائے بھاگ رہے تھے

دیہاتی محمد بوٹا

تمام دروازے چوکھٹوں سمیت اکھاڑ لیے گئے۔ ایک ہمسائے نے بتایا ہے کہ شہناز عرف سراجو نے اپنی بیٹی کے لیے تقریباً پانچ لاکھ روپے مالیت کا جو جہیز اکٹھا کیا تھا وہ بھی لوٹ لیا گیا ہے۔

مستری محمد بوٹا نے کہا کہ وہ شام کو جمبرگاؤں کی متاثرہ گلی میں پہنچے تو دور سے ایسا لگا کہ کوئی جنازہ جارہا ہے، قریب جاکر دیکھا تو پانچ چھ افراد فریج اٹھائے بھاگ رہے تھے۔

شہناز عرف سراجو کا گھر جس گلی میں قائم ہے اس میں رہائش پذیر ایک سکول ٹیچرماسٹر مرزا حنیف بیگ نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی شہناز عرف سراجو کو کہہ دیا تھا کہ اس کے گھر پر حملہ ہونے والا ہے لیکن اس نے ان کی تنبیہہ پر کان نہ دھرا۔

انہوں نے بتایا کہ جب بلوائی ان کے گھر گھسے تو وہ گھبرا کراپنی دومنزلہ چھت سے ہمسائے کی نچلی چھت پر کودی اور پھر گلی میں چھلانگ لگائی لیکن پکڑی گئی۔

ماسٹر حنیف بیگ گاؤں کے ان متعدد لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے عورتوں کی برہنہ پریڈ کا منظر دیکھا لیکن وہ کسی تھانے کچہری میں گواہی دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ایڈیشنل ایس پی قصورجاوید مقامی پولیس چوکی میں بیٹھے ملے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک انہیں ایسی کوئی گواہی یا ثبوت نہیں ملا جس کی بنیاد پر وہ کہہ سکیں کہ عورتوں کو برہنہ کیا گیا ہے یا ان کے گھر میں لوٹ مار کی گئی البتہ ان کا کہنا تھا کہ یہ تو واضح ہے کہ عورتیں قحبہ خانہ چلاتی رہی ہیں۔

ایک شخص محمد صدیق نے کہا کہ یہ عورتیں محلے کی لڑکیوں کو ورغلا کر غلط راستے پر لگا رہی تھیں اور ان کے ساتھ جو ہوا وہ درست ہے۔

بلوائیوں کی قیادت کرنے والے بااثر سیاسی افراد نے اعلان کیاتھا کہ اگر کسی نے ان عورتوں کا ساتھ دیا یا ان کے حق میں گواہی دینے کی کوشش کی تو اس کا براحشر کیا جائےگا

خواتین کے وکیل میاں فاروق ایڈووکیٹ نے کہا کہ جب سول جج نے عورتوں کو ضمانت پر رہا کیا تو علاقے کے بااثرافراد نے عدالت کے احاطے میں ہی دھمکی دی کہ اگر یہ عورتیں واپس موضع جمبر گئیں تو انہیں مار دیا جائے گا۔ اسی وجہ سے یہ عورتیں روپوشی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

پتوکی عدالت کے احاطے میں موجود شہناز عرف سراجو نے اپنا سر دکھایا جس کے بال کٹے ہوئے تھے اور چہرے پر نیل صاف دکھائی دے رہے تھے۔ شہناز عرف سراجو نے کہا ’ہمیں الف ننگا کردیا تھا انہیں خدا کا خوف نہیں رہا تھا۔‘

مقامی لوگوں نے بتایا کہ سراجو کو ننگا کرنے کے علاوہ اس کے چہرے پر کالک ملی گئی تھی اور گلے میں جوتوں کا ہار ڈال کر گلی میں پھرایا گیا اور بچوں کو چھڑیاں پکڑا کر کہا گیا کہ انہیں چبھوتے ہوئے آگے کی طرف لے کر چلو۔

مقامی لوگوں کے بقول بلوائیوں کی قیادت کرنے والے بااثر سیاسی افراد نے اعلان کیا تھا کہ اگر کسی نے ان عورتوں کا ساتھ دیا یا ان کے حق میں گواہی دینے کی کوشش کی تو اس کا براحشر کیا جائےگا۔

ان عورتوں کے کپڑے پھاڑ کر جب ننگا کیا جارہا تھا تو گاؤں میں متعدد ایسے افراد موجود تھے جو اس حرکت کو غلط سمجھنے کے باوجود آگے بڑھ کر ان عورتوں کی مدد نہیں کرسکے۔

اسی گاؤں میں ایک گھرانہ ایسا بھی ہے جسے اس کے مال اسباب کے لحاظ سے غریب ترین کہا جاسکتا ہے کیونکہ وہ پورا گھر پیوند لگے کپڑے کی ایک چھوٹی سے جھونپڑی میں رہتا ہے۔

شہناز بی بی کی ساتھیوں میں سے ایک کو جب مبینہ طور پر برہنہ کردیا گیا تو اس نے خود کو لوگوں کی نظروں سے بچانے کے لیے ایک کے بعد ایک ہمساؤں کے دروازے کھٹکھٹائے لیکن کوئی دروازہ نہ کھلا جس پر وہ بھاگ کر اسی جھونپڑی کے سامنے جاکر گرگئی۔

جھونپڑی کے غریب مالک نے بی بی سی کو اپنا نام تو نہیں بتایا لیکن کہا کہ وہ عورت کو اندر لے گیا اس کی بیوی نے اپنا جھگا (قمیض) اس کو پہنایا آنسو پونچھے، اسی دوران پولیس آئی اور اسے اپنے ساتھ لے گئی