یزید تھا ، حسین ع ہے ۔ گل زہرا رضوی

کلام پاک کی دو آیات میری بہت پسندیدہ ہیں ، ان میں ایسی تابناکی اور باہمی ربط ہے کہ جب جب پڑھوں ، اندر روشنی بھر جاتی ہے ۔ ایک جب کہا گیا ، اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے اور ایک جب کہا گیا ، حق آگیا اور باطل مٹ گیا ۔ بیشک باطل مٹنے کیلئے ہی ہے ۔

 

یہ دو آیات مجھے ایام محرم و صفر میں بہت یاد آتی ہیں جب چاروں طرف بالخصوص سوشل میڈیا پر عزاداری کیخلاف جھاگ اڑ رہی ہوتی ہے ۔ کہیں جماعتی لونڈے اپنے مرشدوں کی باتیں بلا سوچے سمجھے دھڑا دھڑ دھرا رہے ہوتے ہیں ، کہیں قاری ڈار جیسے مولوی تحریف شدہ روایتیں سنا کر تین دن سے زیادہ سوگ کو رو رہے ہوتے ہیں ، کہیں بابے کوڈے جیسے گوگل سرچ سے اپنی من گھڑت تاریخ اخذ کر رہے ہوتے ہیں ۔ سوڈو لبڑلز عزاداری کو پسماندگی اور قدامت پسندی کہتے ہیں ، کوئی کمرشل ازم کا مارا اسراف کو روتا نظر آتا ہے ۔ کچھ ٹٹ پونجئے فیس بکی تجزیہ کار رستے و موبائل سروس بند ہونے کو معیشت کی تباہی گردانتے ہیں ۔

 

پھر روز عاشورہ آتا ہے ۔ روز اربعین آتا ہے
سارے کمرشل لبرلزسوڈو سیکولرز کوڈوں ڈاروں سے بے نیاز حسین بادشاہ بتاتا ہے کہ “یزید تھا ، حسین ہے” ۔

 

جتنی شدت سے عزاداری کیخلاف کیمپینز چلتی ہیں ، عزاداری اتنی ہی ابھر کر ، نکھر کر سامنے آجاتی ہے ۔ کتنی عجیب بات ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ دہشتگردی اور تکفیریت کا شکار ہونے والی شیعہ قوم ہر سال پہلے سے زیادہ مجالس کرتی ہے ، پہلے سے زیادہ سبیلیں لگاتی ہے ، پہلے سے زیادہ جلوس نکلتے ہیں ، پہلے سے زیادہ عزاداری ہوتی ہے ۔ وہ پاکستان ہو یا نائجیریا ، یو کے ہو یا امریکا ، ہندوستان ہو یا سعودی عربیہ دنیا کے ہر کونے میں (تکفیری وہابی دیوبندی سلفی گروہ کے فکری اور جسمانی خودکش حملوں کے باوجود!) عزاداری جاری رہتی ہے ۔ وہ اردو ہو یا انگریزی ، پنجابی ہو یا سرائیکی ، سپینش ہو یا جرمن ، بنگالی ہو یا ہندی ، دنیا کی ہر زباں پہ ہے قبضہ حسین ع کا ۔ وہ شیعہ ہو یا سنی ، ہندو ہو یا کرسچن ، سکھ ہوں یا بھلے ملحد ، ہر باضمیر انسان ضمیر یعنی حسین ع کی آواز پر لبیک کہتا ہے۔

 

اس سال بھی ہر سال کیطرح عزاداری ہوئی ، پوری آن بان سے ہوئی ۔ دنیا بھر میں ہوئی ۔ پاکستان میں ہوئی ۔ ہرگائوں، قصبے، شہر، صوبے میں ہوئی۔ ہر سال کی نسبت اس سال جلوسوں میں عزاداروں کی تعداد کہیں زیادہ تھی جن میں شیعہ عزاداروں کیساتھ ساتھ سنی عزادار بھی نواسہٗ رسول ص سے محبت و عقیدت کا اظہار کرنے بچوں کیساتھ شریک ہوئے ۔ جہاں عزاداروں کی شرکت بے مثال رہی ، وہیں ریاستی ادارے بھی قابلِ ستائش ہیں جنہوں نے دہشتگردی کی ہر بڑی چھوٹی سازش کو ناکام بنایا (جیسا کہ چہلم کے موقع پر روہڑی امامبارگاہ میں رینجرز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے تین دیوبندی دہشتگرد) ۔ یہ اسلئے بھی ایک بڑی کامیابی ہے کہ ۲۰۱۳ میں راولپنڈی میں دیوبندی فرقے کی مسجد کو اسی فرقے کے تکفیری کارندوں نے جلا کر حالات کشیدہ کرنے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کی تھی ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس کیبعد جو تھوڑے بہت شکوک و شبہات لوگوں کے دل میں تھے، وہ بھی پوری طرح دور ہو گئے اور یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ ان تکفیری عناصر کا اصل ایجنڈہ ملک کی سالمیت ، امن و امان کو نقصان پہنچانا ہے ۔ تکفیریوں کی تدبیر تو اچھی تھی ، لیکن چونکہ اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے ، اسلئے اب یہ تکفیری دیوبندی عناصر پوری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں اور پاکستانی شیعہ و سنی نواسے کا غم منانے کیبعد اب نانا ص کا میلاد اسی جوش و جذبے کیساتھ منانے کیلئے تیار ہیں ۔

 

احمقوں کی جنت میں رہنے والے سوڈو لبرلز ، ٹٹ پونجئے تجزیہ نگار، نام نہاد سیکولرز اور سب سے بڑھ کر سلفی وہابی دیوبندی گروہ کو سمجھ آجانی چاہئے کہ عزادارئ سید الشہداء کو ختم کرنا تو دور رہا ، اسے محدود بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ ایسے موسمی رپورٹرز سے یہ بھی گزارش ہے کہ جیسے آپ سال بھر شیعہ نسل کشی پر ستو پی کر سوئے رہتے ہیں ، مجالس، جلوسوں، میلادوں، مزاروں پر خود کش حملوں پر ایک رٹے رٹائے بیانئے سے آگے نہیں بڑھتے ، ویسے ہی ایام محرم و صفر میں بھی بولنے کی تکلیف نہ کیا کریں ۔ یہ آپ سے نہیں ہو گا chase .

 

تم نے جس خون کو مقتل میں چھپانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں آ نکلا ہے

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*