دمشق کاانقلاب اور ناصبوں کی ناصبیت- گل زہرا رضوی

دمشق کا محضر انقلاب حقیقتا امام حسین ع کی چار سال کی بیٹی سکینہ بنت الحسین ع نے لکھا ۔ یزید کے دربار میں اور قید خانہ شام میں عورتیں جو کہتی تھیں، وہ تو کہتی ہی تھیں، بچوں نے بھی شامیوں کے دماغوں کو جھنجھوڑنا شروع کیا ۔ مثلا سکینہ ع کہتی تھیں ، میرے بابا پیغمبرِ اسلام کے نواسے ہیں ۔ کبھی سوال کرتی تھیں ، ہم جنکا کلمہ پڑھتے ہیں ، انہی کے نواسے کو مار ڈالا؟ یہ وہ غیر سیاسی معصومانہ سوالات تھے کہ شامی بوڑھے جنکی تردید کسی صورت نہ کر سکتے تھے ۔ عام حالات میں بچے ایسے تبصروں پر ڈانٹ دئے جاتے ہیں لیکن دمشق کے کوچہ و بازاروں کو سیدہ زینب س کے خطبات نے ایسا سوگوار کر دیا تھا کہ عام لوگ سکینہ ع کے ان سوالوں سے ہل کر رہ گئے ۔ سکینہ ع کا وطیرہ تھا کہ درِ زندان کی سلاخیں تھام کر بابا اور چچا کی محبت کا ذکر کرتیں، خود بھی روتیں اور چھوٹے بچوں کو بھی آبدیدہ کرتی رہتیں ۔

یہ تھی واقعہ کربلا کیبعد مجلسِ حسین ع کی ابتدا جسکی داغ بیل دو ماہ چند روز کی زندگی میں حسین ع کی چہیتی بیٹی ڈال گئی ، آج دنیا کا طرزِ عزا خواتینِ کربلا بالخصوص سکینہ ع کی تاسی کا مصداق ہے ۔ تاریخ کی پہلی باقاعدہ مجلس عزا اہلیبیت ع کی رہائی سے قبل شام میں ہوئی ، پھر کربلا میں جناب جابر بن عبداللہ انصاری نے زیارتِ قبرِ امام حسین ع کا شرف حاصل کیا ۔

پھر ورودِ مدینہ کیبعد شب و روز مجلس ہی مجلس، ماتم ہی ماتم ، گریہ ہی گریہ ۔ حسین ع کی لاڈلی سکینہ ع تو زندہ نہ رہی تھی ، انکی جگہ حسین ع کی نانی جناب امِ سلمہ رض نے لے لی ۔ ظاہر ہے مدینہ کے اموی اس گریہ کو برداشت نہ کر سکے ، انہوں نے ہر جبر کیا کہ اولادِ فاطمہ س یہ ماتم یا بند کر دیں یا مدینہ چھوڑ کر چلی جائیں ۔ چالیس روز بعد جناب ام کلثوم س کا انتقال ہوگیا تو زینب س کے پائوں کی یہ زنجیر بھی ٹوٹ گئی ، امویوں کا تشدد بڑھتا جا رہا تھا ، زینب ع ماں کی قبر پر گئیں، نانا کے روضے سے رخصت ہوئیں ، بھتیجے کو گلے لگایا اور مدینہ چھوڑ دیا اور کربلا سے ہوتی ہوئیں دمشق پہنچ گئیں اور ذکرِ کربلا زینب کیساتھ ساتھ سفر کرنے لگا ۔ کربلا سے شام تک جہاں جہاں زینب ع گئیں ، وہاں بنی امیہ کے ظلم کے چرچے ہونے لگے ۔ پہلے صرف زینب ع خطیب تھیں، آہستہ آہستہ سب محبانِ آل رسول مجالس کرنے لگے ۔ ایک بیان کرتا، باقی سنتے اور شورِ گریہ بلند ہوتا ۔

 

اسیطرح یہ مجالس پھیلتی رہیں، اموی اور انکے جانشین روکتے رہے ، باتیں بناتے رہے (جسکا سلسلہ آج بھی جاری ہے) لیکن ہر دور میں مجالس و عزا کا یہ سلسلہ جاری رہا کیونکہ کربلا ایک ایسی صراطِ مستقیم ہے جسے حشر تک جانا ہے ، یزید کسی بھی عہد کا ہو ، اس صراطِ مستقیم کو نہیں روک سکتا ۔ (ایسی صراطِ مستقیم جسکے دونوں طرف بنی امیہ کے سفاکانہ تشدد کی داستانیں منعکس ہیں) ۔ حقیتت یہ ہے کہ ابنِ خلدون کی ناصبیت، ابن تیمیہ کے فقہی اجتہادات اور محمد بن عبدالوہاب کی محمد و آل محمد ص دشمنی نہ کبھی ذکرِ کربلا کو روک سکی، نہ روک سکے گی ۔ حسین ع کی پہلی ذاکرہ اس خوش اسلوبی سے مجلس کا آغاز کر گئی کہ تب بھی اسکا انعقاد ہوتا رہا جب محبانِ علی ع نام بدل بدل کر تقیہ میں زندہ تھے ، امویوں کے سلاطین محرم کا چاند نکلتے ہی اپنے کارندوں کو سراغ لگانے کیلئے بھیج دیتے کہ ذکرِ کربلا کہاں کہاں ہو رہا ہے ۔ یہ سلسہ بنی عباس و بنی امیہ دونوں کے دور میں جاری رہا ، منصور دوانیقی اور ہارون رشید نے اسے عروج پر پہنچا دیا ، متوکل کے دور میں تو شیعوں کا خون پانی سے بھی ارزاں تھا ۔ پھر بھی ہر عشرہ محرم میں فرشِ ماتم بچھتا رہا ۔

 

جب طاہریوں نے آزادانہ حکومت قائم کر لی تو ذی الحج کی آخری تاریخوں سے ہی شہادتِ امام ع کا بیان ہونے لگا ۔ پھر علوی اور صفاری حکومتوں میں مجالس کا رواج بڑھ گیا ، اگرچہ عباسی زیرِ اقتدار علاقوں میں اب بھی ماضی کی سی پابندیاں تھیں ۔

 

ذکِرِ حسین ع کی کھلی آزادی آلِ بویہ اور معزالدولہ کے دور میں ملی ، کہا جاتا ہے اس دور میں بعض خلفاٗ بھی باقاعدہ شیعہ ہو گئے تھے ۔ معزالدولہ نے عاشور کے دن بغداد کو سیاہ پوش کیا ، اور ماتمِ حسین ع کا وہ جلوس نکالا ، جسکی بنیاد سکینہ بنت الحسین ع نے رکھی تھی ۔ دس محرم ۳۵۳ ہجری کو منصور دوانیقی اور متوکل کا بغداد سوگوارانہ فضا میں ڈوبا ہوا تھا ، ہر فرد سیاہ پوش تھا، ایک جلوس سیاہ پوشوں کا شاہراہ سے گزر رہا تھا ، جس میں عورتیں بال بکھرائے سروں پر خاک ڈالے ہائے حسین کے نعرے لگاتے اور سینہ کوبی کرتی جا رہی تھیں ، مرد پریشان حال تھے اور اس جلوس کی قیادت اس دور کا با جبروت سلطان معز الدولہ کر رہا تھا ۔ یہ مظالمِ بنی امیہ کیخلاف نکالنے جانے والا پہلا جلوس تھا ۔ اور مجلس کیساتھ باقاعدہ ماتم کی ابتدا اسی جلوس سے ہوئی تھی ۔ یہ جلوس بارگاہِ سید الشہدامیں اتنا مقبول ہوا کہ نا صرف بغداد بلکہ مصر، مراکش، ہندوستان ،سندھ اور اطراف میں اسکی تقلید کی جانے لگی۔ امیر تیمور کے زمانے سے اس میں تعزیہ کا اضافہ ہو گیا ۔

 

اس جلوس کو دیکھ کر عوام کی ایک بڑی تعداد شیعہ ہو گئی اور ایک حصہ مشتعل ہو گیا ۔ لیکن یہ سوال آجتک جواب کا محتاج ہے کہ کیوں ایک طبقہ ہمیشہ اس ذکر کوبڑھتا دیکھ کر غصے سے بے قابو ہو جاتا ہے ؟

 

تغلق کے دور میں شیعوں کے ذہن میں امامباڑے کا تصور تھا ، ممکن ہے جس جگہ مجلس ہوتی ہو اسی کو امامباڑہ کہہ دیا جاتا ہو ؟ کہیں اسے حسین خانہ کہا جاتا تھا ، کہیں عاشور چوک ۔ بہرحال سلاطین الشرق کے ذہنوں میں امامباڑہ بنانے کی آرزو ہمیشہ سے رہی ۔ اماباڑہ اگر آٹھویں ہجری میں کہیں اور نہیں پایا جاتا تھا تو ہندوستان میں پہلا امامباڑہ سلاطین شرقیہ نے ہی بنوایا ۔ اس موقع پر دکن کی سلطنتوں نے بھی اہم کردار ادا کیا اور عاشور خانے بنوائے ۔

 

جہاں تک تعزیہ کی بات ہے تو غالبا تیمور وہ پہلا سلطان تھا جس نے پہلا تعزیہ جلوسوں میں رکھوایا ۔ تیمور کو ایک سید عالم سے بہت عقیدت تھی جنہوں نے اسے تبرک کے طور پر خاکِ شفا سے بنی ہوئی ایک ضریح اور ایک تسبیح دے رکھی تھی ، جس سال تیمور نے ہندوستان پر حملہ کیا ، اسکے تیسرے سال اسے اس نقلِ روضہ کا خیال آیا ، اس نے وہ ضریح ایک کھلی عماری پر رکھوائی ، تسبیح اسکے اوپر ڈلوائی اور ایک فوجی دستے کے ہمراہ اسے جلوس میں گشت کروایا کہ لوگ روضے کی نہیں تو روضے کی نقل کی زیارت ہی کر لیں ۔ اسکے بعد مٹی اور لکڑی کی ضریحوں کا رواج بڑھنے لگا ۔ مسلمانوں کیساتھ ساتھ ہندوعقیدت مند بھی ضریح نکالنے لگے اور اس ضریح نے بتدریج تعزیے کی شکل اختیار کر لی ۔

 

جلوس تو نکلتا ہی تھا ، اس میں تعزیے کا اضافہ ہو گیا تو رونق بڑھ گئی اور جب امام کیطرف سے حاجت روائی ہوئی تو تعزیہ مرکزِ عقیدت بن گیا ، جسکے لئے ہندو، مسلم، شیعہ ، سنی، اچھوت اور برہمن کی کوئی قید نہ تھی ۔ امام حسین ع کی بارگاہ سبکے لئے کشادہ تھی، یہ دور وہ تھا جب محمد بن عبدالوہاب کے پیدا ہونے میں صدیاں تھیں، عالم اسلام پر تصوف کی چھاپ لگی ہوئی تھی، صوفیائے کرام محبت اہلبیت و کو جزو ایمان قرار دیتے ۔ شاید ہندوستان کا یہی مستقبل سیدالشہداکے پیشِ نظر ہو گا جب ہی انہوں نے یزیدیوں سے کہا تھا کہ انکے لئے ہندوستان کا راستہ ہی کھول دیں ؟

 

آج جلوس و ماتم و تعزیہ کسی ایک علاقے سے مخصوص نہیں بلکہ دامنِ ہمالہ سے انٹارکٹکا تک، تبت سے کشمیر تک اور بنگال سے سندھ و مکران تک ہر جگہ امامبارگاہیں سجائی جاتی ہیں، اور مقامی رواج کے مطابق عزاداری ہوتی ہے ۔ کچھ ممالک بشمول پاکستان و ہندوستان میں ماتمی دستے ہوتے ہیں جو قمہ زنی اور زنجیر زنی سے ماتم کرتے ہیں ، جس مظاہرے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر ہم کربلا میں ہوتے تو نصرتِ امام میں اسطرح خون میں نہا کر جہاد کرتے ۔ بعض جگہوں پر سیاہ لباس اور بکھرے ہوئے بالوں کے ماتمی دستے گرد و غبار میں اٹے ہوئے ماتم کرتے ہیں اور اس قافلے کی یاد تازہ کرتے ہیں جو رسیوں سے باندھ کر خاک میں اٹا ہوا کربلا سے لے جایا گیا تھا ۔ بعض جلوسوں میں شبیہہ ذوالجناح بھی ہوتی ہے اور بعض میں تابوت بھی ، جو اس آرزو کو ظاہر کرتے ہیں کہ اگر ہم ہوتے تو شہدا کی میتیں تین دن تک گرم ریت پر نہ پڑی رہتیں ۔

 

آج جب کہ واقعہ کربلا کو چودہ سو سال سے اوپر کا وقت گزر گیا، کتنے ہی بچے اور جوان ، عورتیں اور بزرگ حبِ اہلیبیت ع کے جرم میں ماخوذ ہوئے ، انکا شمار بھی ممکن نہیں ۔ ایسا بھی ہوا کہ قبرِ امام حسین ع کی زیارت ممنوع قرار دے دی گئی اور لوگ اعضائے بدن بطور ٹیکس دے کر بھی زیارت کو جاتے رہے ۔ متوکل نے تو مزار کو ہی منہدم کر دینے کا عزم کیا ۔ اسی بغضِ اہلیبیت کے تحت من گھڑت کہانیاں بنائی جاتی رہیں ، کبھی شامِ غریباں کو متنازعہ بنایا گیا، کبھی جلوس و مجلس و تعزیہ کو ، کبھی ماتم و گریہ زاری کو ۔ حتی کہ آج کے نام نہاد روشن خیال دور میں بھی متعصب افراد سامنے آتے رہتے ہیں جو سستی شہرت اور چند روپوں کے بدلے میں تاریخ کو مسخ کرنے سے بھی نہیں چوکتے (مثال کے طور پر بابا کوڈا!) ، تاریخ کو اگر بنظر غائر اور تعصب کی عینک اتار کر پڑھا جائے تو عزاداری کی جڑیں باآسانی ۶۱ ہجری میں کربلا سے جڑی ملیں گی ۔ لیکن ظاہر ہے ، سچ بول دیں تو انکی جھوٹ کی دکان کیسے چلے گی ؟ ریٹنگز اور لائیکس کیسے ملیں گے؟

تاریخ بہت لمبی ہے اور طوالت کے خوف سے بہت ہی کم لکھا ہے ۔ یزید و متوکل جیسے ہزاروں بادشاہ ، بابے کوڈے جیسے کروڑوں کیڑے اگر روز بھی پیدا پوتے رہیں تو بھی شہادتِ امام حسین ع کو کالعدم نہ کر سکیں گے ۔ متوکل بھی یزید کیطرح ختم ہو گیا ، کل کو انکے نظریاتی جرثومے بھی انہی کیطرح بے نام و نشان رہ جائیں گے اور حسین ع شہنشاہ کی عظمت دن دوگنی رات چوگنی ہوتی رہے گی ۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*