وطن کی فکر کر ناداں – گل زہرا

داعش کے جھنڈے ایکسپرس وے پر تو اب لگے ہیں انکے دفتر اسلام آباد ہمک روڈ پر عرصے سے ہیں ۔ داعش کی پاکستان میں موجودگی کوئی ایسی ڈھکی چھپی بات نہیں رہ گئی ۔ چوہدری ذمہ واری جو مدتوں اپنے سسرالیوں یعنی لال مسجد ایٹ آل کو بچانے کیلئے مسلسل جھوٹ بولتے رہے اور پاکستان میں داعش کی موجودگی کا انکار کرتے رہے ، اندرون_خانہ خود بھی جانتے تھے کہ یہ جنگجو تنظیم مشرق_وسطی میں کمزور ہونے کیبعد اب پاکستان میں جڑیں گہری کر رہی ہے ۔

داعش کے پاکستان میں لال مسجد سے گہرے مراسم ہیں جسکا اظہار خود مولوی عبد العزیز اور جامعہ حفصہ کی عورتیں بارہا کر چکی ہیں ۔ حال ہی میں داعش نے پاکستان میں کئی بڑے دہشتگردی کے واقعات کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے، جن میں سر فہرست سندھ میں لال شہباز قلندر اور بلوچستان میں شاہ نورانی کے واقعات شامل ہیں ۔ ان واقعات کی ماسٹر پلاننگ اگر داعش نے کی تو انہیں مقامی زمینی لاجسٹکل سپورٹ اسی لال مسجد اور دیگر نظریاتی تکفیری ساتھی تنظیموں جیسے سپہ صحابہ ، لشکر جھنگوی وغیرہا نے دی ۔ داعش خود اپنے قدم جمانے کیساتھ کیساتھ ان ہمخیال تنطیموں سے راہ و رسم بھی بڑھا رہی ہے ۔

یہ بات بھی نئی نہیں ہے کہ پاکستان بالخصوص خیبر پختونخواہ سے وہابی دیوبندی نوجوان داعش میں مسلسل بھرتی کئے جا رہے ہیں ۔ ان نوجوانوں کو ٹریننگ کیلئے عراق اور مصر بھیجا جاتا ہے ، ٹریننگ کے مراحل بتدریج طے کرتے ہوئے کچھ سوریا اور عراق میں برسر پیکار جنگجوئوں کیساتھ جا ملتے ہیں جبکہ کچھ وطن واپس آکر پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیلنے میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔

داعش کے طریقہ واردات میں ایک بات جو نہایت ہولناک ہے ، وہ پڑھے لکھے لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانا ہے ۔ دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی داعش ان افراد کیساتھ ساتھ جو پہلے سے کسی شدت پسند تنظیم سے منسلک ہوں ، یونیورسٹی سٹوڈنٹس ، پروفیسرز ، پیشہ ور افراد کو بھی ہم خیال و ہم فکر بناتی ہے ۔ یہ وہی افراد ہوتے ہیں جو پہلے ہی سے وہابی دیوبندی شدت پسند سوچ سے متاثر ہوں ، داعش کی ہیجان انگیز جہادی داستانیں انہیں جہاد کے نام پر متشدد بنا دیتی ہیں ۔ بھلا کون بھول سکتا ہے IBA کے طالبعلم اور یونی لیور کے انٹرن سعد عزیز کو ، جس نے سبین مھمود کو قتل کیا ؟ کون بھول سکتا ہے جامعہ پنجاب سے ایم فل کرنے والی بشری چیمہ کو جس نے بشری نیٹورک چلایا اور لاہور سے جہادی بھرتی کر کے شام بھیجے ؟ کون بھول سکتا ہے میڈیکل کی طالبہ نورین لغاری کو اور دعا کو جو پاکستان سے شام داعش کے عشق میں گئیں ؟ زیادہ دور کی بات نہیں جب داعشی کارکن کامران گجر کی گرفتاری اور تفتیش پر 121 عورتوں کی تفصیلات ملیں جو شہر_قائد میں داعش کیلئے برین واشنگ اور بھرتیوں کا کام کرتی تھیں ۔

داعش پاکستان کیلئے سنگین ترین خطرہ ہے ۔ اس بات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ داعش محض افرادی قوت نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے جو تیزی سے ہمارے آپکے آس پاس بسنے والے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں کینسر کیطرح لے رہا ہے ۔ یہ کینسر صرف شیعہ نہیں بلکہ بریلوی سنیوں کےلئے بھی مہلک و قاتل ہے کیونکہ داعشی شیعہ تکفیر ہی نہیں بلکہ ہر اس انسان کی تکفیر و قتل کے قائل ہیں جو انکی سلفی وہابی آئیڈیالوجی سے متفق نہ ہو ۔ اسکی مثال داعش کے اولیاء کے مزار پر کئے گئے حملے ہیں ۔

بالخصوص ماہ_محرم میں وفاقی دارالحکومت میں جھنڈے لہرائے جانا ایک سنگین خطرے کیطرف نشاندہی ہے ۔ اب بھی کچھ نادان دوست ہیں جو چوہدری ذمہ واری کیطرح داعش کی موجودگی کو جھٹلا رہے ہیں اور ان جھنڈوں کو غیر سنجیدہ لے رہے ہیں ۔ صاحبو ، عالمی نمبر ون دہشتگرد تنظیم کے جھنڈے اسلام آباد کی مرکزی شاہراہ پر آویزاں ہونا مذاق نہیں ہے !


وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*