قاتل دیوبندی اور مقدس گائے۔ گل زہرا

کچھ روز پہلے دو بریلوی سنی بھائیوں کے ہاتھوں دیوبندی تبلیغی جماعت کے ایک کارکن کا قتل ہوا ، جسکا ملا جلا رد_عمل سامنے آیا ۔ کئیوں نے اسکی مذمت کی اور یقینا یہ عمل قابل_مذمت ہے ۔ بغور پڑھنے والے یقینا ایک بات پر چونکے ہونگے جس نے ہمیں مسلسل تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ جی ہاں ، اس سانحے میں بالخصوص دو فرقوں یعنی “بریلوی سنی کو بطور قاتل” اور “دیوبندیوں کو بطور مقتول” خوب اچھالا گیا ۔

ٹھیک ہے قاتل و مقتول کی پہچان ہونی چاہئے ، لیکن یہ تشخیص اسوقت کہاں جا سوئی تھی جب داتا دربار سانحے میں سو کے قریب بریلوی سنیوں کا دیوبندی دہشتگردوں نے قتل_عام کیا تھا ؟ ان دیوبندی قاتلوں کی شناخت کو کیوں چھپایا جاتا ہے جو پچھلے ایک عشرے سے بریلوی سنی علماء اور سکالرز کو شہید کرتے چلے آ رہے ہیں ؟ کوئٹہ میں 100 وکلاء اور اے پی ایس میں معصوم بچوں کی شہادت کے المناک واقعات کے ذمہ دار گروہ طالبان / جند اللہ کو کیوں اسیطرح دیوبندی قاتل کہہ کر نہیں مشخص کیا گیا جیسے اب بریلوی سنیوں کو “قاتل” بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ؟

صاف ظاہر ہے ، دیوبندی قاتل جنکا تعلق متعدد دہشتگرد عسکری گروہوں سے ہے ، کی شناخت کو دانستہ منظر_عام پر لانے سے گریز کیا جاتا ہے جبکہ یہ بات اب واضح ہو چکی ہے کہ سکول کے بچوں سے لیکر وکلاء تک ، سنیوں سے لیکر شیعوں تک ، عیسائیوں سے لیکر سکھوں تک اور پولیس سے لیکر افواج تک سب پر جتنے دہشتگردانہ حملے ہوئے، انکے 90 فیصد سے زیادہ ذمہ دار یہی دیوبندی عسکری گروہ تھے ۔ صاف ظاہر ہے کہ میڈیا اور مخصوص سماجی طبقہ دیوبندیوں کی عمومی دہشتگردی کو تو چھپاتا اور عذر پیش کرتا ہے اور رد_عمل کے طور پر ہونے والے اکا دکا واقعات میں بریلوی سنی یا شیعہ شناخت کو خوب اچھالا جاتا ہے تاکہ رائے عامہ دہشتگرد دیوبندی گروہ کے لئے ہموار کی جا سکے ۔

اسیطرح تبلیغی جماعت ، جو تکفیری عسکری دہشتگرد گروہوں جیسے داعش اور القائدہ وغیرہ کے لئے نقطہ آغاز ہے ، کو بھی اسکی دیوبندی شناخت کیساتھ پکارا جانا چاہئے ۔ تبلیغی جماعت نہ صرف تکفیری دہشتگردوں کے لئے جائے امن ہے بلکہ مسلسل ان سے تعاون بھی کرتی ہے جسکی ایک تازہ مثال طارق جمیل اور اورنگیب فاروقی کی خوشگوار ملاقاتیں ہیں ۔

اسی سلسلے کی ایک کڑی وہ خود ساختہ مذہبی رکھوالے ہیں جو توہین کے نام پر پاکستانیوں کو قتل کر دیتے ہیں، واحد موقع جب ایسے افراد کی مذہبی شناخت کو اچھالا گیا وہ سلمان تاثیر کے معاملے میں تھا جب ملک ممتاز قادری جسکو پنجاب پولیس نے گورنر کی حفاظت پر مامور کیا تھا ، کی بریلوی فرقے سے وابستگی کا بارہا ذکر کیا گیا ۔ سابق گورنر کے قتل میں باقی تمام عناصر پر یوں پردہ ڈالا گیا جیسے وہ ہیں ہی نہیں! مسلم لیگ نون کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ کے اس کردار کویکسر نظر انداز کیا گیا جو انہوں نے اس قتل کےلئے لوگوں کے جذبات ابھارنے میں ادا کیا گیا ۔ مسلم لیگ نون کے اس مجرمانہ کردار کا بھی کہیں ذکر نہیں ہوا جو اس نے گورنر سلمان تاثیر کی حفاظت کا ذمہ فیڈرل سیکیورٹی سے لیکر صوبائی سیکیورٹی کے حوالے کر دیا۔ اگر ذکر ہوا تو بس یہ کہ ملک ممتاز قادری ایک بریلوی سنی تھا، آخر کیوں؟

یہاں یہ اضافہ بھی ضروری ہے کہ تین ماہ پہلے پارا چنار حملوں کیبعد کچھ حلقوں نے شور مچایا تھا کہ پارا چنار سے شیعہ مسلمان شام زینبیون میں شرکت کرنے جا رہے ہیں وہ یہ بتانا کیوں بھول گئے کہ خیبر پختون خواہ سے سینکڑوں، ہزاروں وہابی دیوبندی دہشتگرد شام جا کر داعش میں شمولیت اختیار کررہے ہیں؟

اگر شام جا کر حرم کا دفاع کرنے والوں کی شیعہ شناخت پر شور مچایا جاتا ہے تو اسیطرح شام جا کر داعش میں شامل ہونے والوں کی دیوبندی شناخت بتا کر شور کیوں نہیں کیا جاتا؟یا یہ متعصبانہ رویہ صرف اور صرف پاکستان میں شیعہ نسل کشی کا جواز پیدا کرنے کے لئے ہے؟ یہ کیسا جواز ہے کہ شیعہ مسلمان جو مقتول ہیں، انہیں تو شام بھیج کر انکی نسل کشی کا جواز پیدا کیا جائے اور وہابی دیوبندی تکفیری جو قاتل ہیں انکا نام ہی نہ لیا جائے ؟

یہ جو دیوبندی قاتلوں کو مظلوم بنا کر گلوریفائی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پاکستان میں شیعہ نسل کشی اور سنی قتل_عام کے جواز پیدا کئے جا رہے ہیں ، اس سازش کو سمجھنے اور اس پر کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے ۔

نوٹ ۔ اس تحریر کا ابتدائی حصہ ریاض ملک کی انگریزی تحریر کا ترجمہ ہے

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*