مسلم لیگ نون اور کالعدم جماعتوں کی سرپرستی – گل زہرا

پاکستان میں جب کبھی کہیں دہشت گردی ہوتی ہے تو تبصرے میں سب سے پہلے بیرونی ہاتھ کا نام لیا جاتا ہے اور ہمیشہ اندونی ہاتھ کو اگنور کر دیا جاتا ہے یا ایجنسیوں کا نام لیا جاتا ہے اور سیاسی پارٹیوں کا ذکر نہیں ہوتا۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان میں کالعدم جماعتیں سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے تعاون سے اتنی مضبوط ہو چکی ہیں کہ بیرونی ہاتھ کو کم ہی زحمت کرنی پڑتی ہے۔

 

بالخصوص مسلم لیگ نون جو کالعدم جماعتوں کی سرپرست ، سیاسی اتحادی بلکہ سیاسی ونگ ہے اور مسلسل کالعدم دہشتگرد جماعتوں سے اپنے غیر اعلانیہ رابطے مضبوط کر رہی ہے ۔ کبھی وزیر داخلہ کالعدم گروہ اہلسنت و الجماعت کے رہنمائوں کیساتھ نظر آتے ہیں، کبھی وزیر قانون الیکشن کمپین کے دوران کالعدم دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے سرگرم افراد کے ساتھ مسکراتے ہیں، کبھی صوبائی و بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگی رہنما کالعدم جماعتوں سے ووٹ لینے کےلئے کارنر میٹنگز کرتے ہیں ۔ زیادہ دور نہ جائیں ابھی کل ہی کراچی میں ضمنی الیکشن سےقبل مسلم لیگ سندھ کےسینیئرنائب صدر اور نامزدامیدواربرائےپی ایس 114 علی اکبرگجّر نے مرکز اہل سنت میں ڈپٹی سیکرٹری جنرل اہل سنت والجماعت کراچی سلیم کھتری,مولانا صابرنقشبندی ودیگر رہنماؤں سے ملاقات کی ہے اور ضمنی الیکشن میں تعاون کی درخواست کی ہے ۔

 

اب آپ خود سمجھ جائیں کہ کیسے اتنے آرام سے جیل ٹوٹ جاتے ہیں اور دہشت گرد بال کٹوا کر، نہا دھو کر ٹہلتے ہوئے نکل جاتے ہیں۔ کیوں لاہور، کوئٹہ، پارا چنار، پشاور سے لیکر کراچی تک ہونے والے پے درپے خود کش بم دھماکوں کے ماسٹر پلانر کبھی گرفتار نہیں ہوتے ۔ کیوں کالعدم تنظیمیں ریلیاں نکالتی ہیں، جسلے منعقد کرتی ہیں، جھنڈے لہراتی ہیں ۔ ظاہر ہے جب پشت پر حاظر سروس وزرا ہوں، سیاستدان ہوں، رولنگ پارٹی ہو تو کس کا ڈر؟ لطف کی بات تو یہ ہے کہ اندروں اندری پناہہ گاہ فراہم کرنے والے یہ سیاستدان میڈیا کے ذریعے عوام کو بے وقوف بناتے ہیں اور عام آدمی یہی سمجھتا ہے کہ نیشل ایکشن پلان کے ذریعے دہشتگردوں کی ’کمر‘ توڑی جا رہی ہے جبکہ درحقیقت نون لیگ کی صوبائی اور مرکزی قیادت کے اہم افراد کالعدم جماعتوں کے ذریعے اپنا ووٹ بینک استوار کر رہے ہوتے ہیں ۔

 

نون لیگ ابھی بھی باز آجائے، کہ ایک دن چاہے اس دنیا میں یا اس دنیا میں انکا بھی احتساب ہو گا اورکالعدم جماعتوں کو سپورٹ کرنے کے نتیجے میں ہزاروں معصوم پاکستانیوں کا خون انکے سر ہو گا

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*