لعنت اللہ علی ضیاالحق و اولادہ و باقیاتہ -ٴ گل زہرا

کچھ لوگ کہتے ہیں جنرل ضیاالحق کا سب سے بڑا جرم پاکستان کوافغان وار میں دھکیلنا تھا

کچھ کے خیال میں جمہوریت کا جنازہ نکال کر 5 جولائی کو پاکستان میں اپنی ڈکٹیٹر شپ قائم کرنا تھا

میرے نزدیک ضیاالحق ایٹ آل کی سب سے بڑی نحوست قائد اعظم کے پاکستان کو دیوبندی وہابی تکفیری دہشتگردوں کے حوالے کرنا اور کالعدم جماعتوں کی وہ فصل اگانا ہے جو آج کم ہونے کے بجائے پھیلتی ہی جا رہی ہے۔ یہ ضیاالحق ہی ہے جس نے پاکستان میں دیوبندیانے اور وہابیانے کے عمل کو تیز کیا اور پاکستان میں سعودی وہابی برانڈ اسلام کو مسلط کرنے کی کوشش کی۔ آج پاکستان میں جب جب جہاں جہاں دہشتگردی، انتہا پسندی اور بالخصوص تکفیریت نظر آئے گی ، جہاں جہاں انسان جنت کے شوق میں پھٹیں گے ، جہاں جہاں کسی مشال خان کو پتھرائو کر کے جاں بحق کیا جائے گا، جب کسی چرچ کو آگ لگائی جائے گی ، جب کسی ہندو کو زندہ جلایا جائے گا ، یہ سب ضیاالحق کا تحفہ ہے۔ جہاں کسی جلسے میں شیعہ کافر کے نعرے لگیں گے اور اسکے نتیجے میں شیعہ نسل کشی ہوگی، یہ ضیا الحق کا تحفہ ہے ۔ جہاں مزاروں درباروں کو شرک قرار دیا جائے گا اور سہون شریف، داتا دربار، شاہ نورانی پر بم دھماکے ہوںگے ۔ صاحبو ، یہ بھی ضیاالحق کا تحفہ ہے ۔ یقینا جس روز ذرے ذرے ، قطرے قطرے اور پائی پائی کا حساب لیا جائے گا تو ضیاء الحق پر اسلام سے ٹھٹہ مخول اور چھیڑ خانی کی تعزیر کے علاوہ بھی ایک اور فرد عائد کی جائے گی کہ انکے شوق_اقتدار نے رکوع و سجود و روزہ میں مشغول مسلمانوں کو قتل کرنے کی قباحت کربلا کے بعد عام کی ۔

یہ بھی بتا دوں کہ ایک ضیا الحق اکیلا یہ سب نہیں کر سکتا تھا نہ اس نے کیا ۔یہ فصل ایک انسان کی لگائی ہوئی نہیں نہ ہی یہ صرف اسکی اپنی سوچ ہے ۔ اس پر اربوں روپے کی اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری کی گئی۔ جنرل ضیاء الحق نے جب پاکستان کے آئین کی دیوبندی وہابی ریڈیکل آئیڈیالوجی تشکیل دینا شروع کی تو یہ انکے ذاتی رحجانات تو تھے ہی لیکن حاضر سروس ’جنرل‘ اس انویسٹمنٹ میں اکیلے نہیں تھے ۔ پاکستانی آئین کو مذھبی فاشزم میں ڈھالنے کا قصوروار اگر آپ صرف جنرل ضیا کو ٹھہراتے ہیں تو آپ کا نالج ادھورا ہے یا آپ فکری مغالطوں میں مبتلا ہیں

جنرل ضیا زندگی میں تو قدرت کے انتقام کا شکار ہوئے ہی ، لیکن یزید کی طرح انکی قبر بھی مقامِ عبرت ہے جہاں کتے بلیوں کا بسیرا ہے ۔ یہ بھی جنرل کی بد قسمتی کہ پاکستان کو تکفیریت کی بھینٹ چڑھانے والے ڈکٹیٹر کا جائے مدفن آج بھی پاکستان میں شیعہ تکفیر کا گڑھ بنا ہو اہے جہاں درو دیوار پر شیعہ مسلمانوں کے خلاف تکفیر پر مبنی شعار اور شیعہ مذہبی رہنما سید روح اللہ خمینی کے حوالے سے نازیبا الفاظ تحریر ہیں۔ سی ڈی اے جو پوری فیصل مسجد کی حالتِ زار سے ہی بے نیاز ہے، اس پر اس وال چاکنگ کا تو کیا ہی اثر ہونا لہٰذا ضیاالحق مرنے کے بعد بھی نفرت پھیلا رہے ہیں۔ صحیح ہی کہا تھا حبیب جالب نے
ظلمت کو ضیا، صر صر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا

اور صحیح تر کہا کسی نے کہ
لعنت اللہ علی ضیاالحق و اولادہ و باقیاتہ

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*