ایل یو بی پاک کی حمایت کیوں؟ – عامر حسینی

 

beena Sarwar

سوشل میڈیا پر ایل یو بی پاک – تعمیر پاکستان بلاگ کافی عرصہ سے کام کررہا ہے ، اس بلاگ نے پاکستان میں شیعہ نسل کشی ، صوفی سنّی نسل کشی ، کرسچن ، احمدی ، ہندؤ اور دیگر مذھبی کمیونٹیز پر منظم دھشت گردی کے حملوں کے بارے میں یہ موقف اختیار کیا ہوا ہے کہ ان سب کے پیچھے ” دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیمیں ملوث ہیں جو سلفی تکفیری تنظیموں جیسے داعش اور القائدہ ، جبھۃ النصری وغیرہ ہیں کے ساتھ ملکر کام کررہی ہیں اس بلاگ کی مجموعی پالیسی یہ نظر آتی ہے کہ پاکستان کے اندر سول سوسائٹی اور لبرل صحافت و تجزیہ نگاری سے منسلک ایسے افراد اور گروپس موجود ہیں جو ایک طرف تو شیعہ ، سنّی ، کرسچن اور دیگر اقلیتوں کے خلاف منظم دھشت گردی کرنے والی تنظیموں کی دیوبندی تکفیری شناخت کو چھپاتے ہیں ، دوسری طرف یہ ان دیوبندی تکفیری تنظیموں کے لئے پروپیگنڈے اور دیگر زرایع سے جگہ ہموار کرنے والی تنظیموں اور افراد جیسے نام نہاد اہلسنت والجماعت – سپاہ صحابہ پاکستان اور اورنگ زیب فاروقی ، محمد احمد لدھیانوی ، اشرفی وغیرہ کو امن کے پیامبر کے طور پر پروموٹ کرتے ہیں ،

ایل یو بی پاک نے اس حوالے سے کئی شخصیات کو بے نقاب کیا ہے جن میں سرفہرست نجم سیٹھی اینڈ کمپنی ہے ، جیو جنگ گروپ کے سرکردہ لوگ ہیں ، جناح انسٹی ٹیوٹ کی باس شیری رحمان اور اس کا گروہ ہے حال ہی میں ایل یو بی پاک نے امن کی آشا پروگرام کی انچارج بینا سرور ، اس کی اسسٹنٹ المانہ فصیح اور ان سے تعلق رکھنے والے کچھ اور لوگوں کے بارے میں بھی کافی انکشافات کئے کہ کیسے یہ پورا ٹولہ نجم سیٹھی مافیا کو بچانے میں سرگرم ہے اور اس پورے مافیا نے پاکستان میں شیعہ نسل کشی کو obfuscation کی نذر کرڈالا ہے اور یہ اس سارے معاملے کو ” ادلے بدلے ” اور شیعہ – سنّی بائنری کے تناظر میں دیکھتا ہے اور ان کے تناظر کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ دیوبندی تکفیری فاشزم صاف صاف بچ نکلتا ہے

کچھ روز پہلے المانہ فصیح نے دھشت گردی پر ہونے والی بحث کے دوران فیس بک پر اس وقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور جناب فاطمۃالذھرا رضی اللہ عنھا کے بارے میں انتھائی بھونڈے ، عامیانہ ، ابتذال اور انتہائی تہذیب و اخلاق سے گرے ہوئے کمنٹس لکھے اور ان کمنٹس پر ہر طرف سے مذمتی بیانات کا سلسلہ شروع ہوگیا تعمیر پاکستان بلاگ کے سابق بانی مدیر عبدل نیشاپوری ،علی عباس تاج ، نور درویش ، عباس زیدی ، علی شہرام اور خرم زکی سمیت دیگر افراد نے المانہ فصیح کے ان فقرات کی سخت مذمت کی اور اپنے پالیسی موقف کے مطابق ” بلامشروط معافی ” معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور ظاہر ہے کہ اس کے لیے انھوں نے المانہ فصیح کے کمنٹس کے سکرین شارٹ اور المانہ فصیح کی تصویر بھی شایع کی اس دوران یہ ہوا کہ کچھ ایسے لوگوں کی جانب سے ایل یو بی پاک کے خلاف ایک مہم شروع ہوگئی ، جس میں یہ دھائی دی گئی کہ ایل یو بی پاک کے لوگوں نے تو لبرل لوگوں کے خلاف ایک محاز کھول رکھا ہے اور وہ لبرل ازم کے مہان لوگوں کو دیوبندی ہونے کے فتوے جاری کررہا ہے ،

اس کے ساتھ ہی یہ مہم بھی جاری کی گئی کہ ایل یو بی پاک نے المانہ فصیح کو ” بلاسفیمی ” کا مرتکب ٹھہرایا ہے اور وہ دراصل المانہ فصیح کو مذھبی جنونیوں کے ہاتھوں قتل کرانا چاہتی ہے ایل یو بی پاک کے خلاف جب یہ مہم کچھ زیادہ جاندار نہ ثابت ہوئی تو ایک فیک آئی ڈی ” ان ماسکینگ ٹریٹر ” کے نام سے فیس بک پر بنایا گیا ، ان ماسکنگ ٹریٹر پی کے ڈاٹ ورڈ پریس ڈاٹ کام اور ایٹ دی ریٹ آف ان ماسکنگ ٹریٹر کے نام سے بلآگ و ٹوئٹر اکاؤنٹ سامنے آگیا اور اسی طرح سے ایک اور نام نہاد مارکسی دانشور احمد خان نے انھی جعلی کھاتوں کے سٹیٹس اور جعلی مواد کو استعمال کرتے ہوئے شیعہ نسل کشی بارے ايڈوکیسی مہم چلانے والے انسانی حقوق کے ایسے لوگوں کے بارے میں پروپیگنڈا شروع کیا جوکہ ایل یو بی پاک کے موقف سے کسی حد تک موافقت رکھتے ہیں اور معاشرے میں ان کی فالوئنگ کافی ہے ،

جیسے علی ناطق عرف علی مشہدی ، سید طالب رضا کہ ان کے بارے میں ایل یو بی پاک سے یہ بات منسوب کی گئی کہ یہ سب لوگ اصل میں غدار ہیں ، یہ دیوبندی تکفیری دھشت گردوں سے ملے ہوئے ہيں اور یہ نجم سیٹھی اینڈ کمپنی کے ہی لوگ ہیں ایک صاحب ہیں سلمان حیدر غضب کے شاعر ہیں ” تو بھی کافر ، میں بھی کافر ” نظم کے خالق ہیں ، جس کو بے مثال شہرت حاصل ہوئی ، وہ صاحب ” عبدل نیشاپوری ” کے ساتھ کہیں حالت فکری جدل میں تھے اور اختلاف وہی تھا کہ عبدل نیشا پوری کا اصرار تھا کہ شیعہ نسل کشی ، صوفی نسل کشی ، احمدی ، ہندؤ ، کرسچن پر منظم دھشت گردانہ حملے کرنے میں ساری ملائيت نہیں بلکہ صرف ” دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیميں اور ان کے ںظریہ ساز ” زمہ دار ہیں – جبکہ سلمان حیدر ” دیوبندی تکفیری دھشت گرد اور دیوبندی تکفیری فاشزم ” کی اصطلاحوں کو اپنانے پر تیار نہ تھے ،

اور عبدل نیشا پوری ان سے چاہتے تھے کہ وہ اپنی شہری صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے ” دیوبندی تکفیریت ” کے خلاف زبردست نظم لکھیں لیکن یہ معاملہ ابھی درمیان میں تھا کہ عبدل نیشا پوری نے ان سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جو شیعہ نسل کشی کو شیعہ – سنّی بائنری اور ادلہ بدلہ قراردیں جیسے سیٹھی مافیا ، المانہ فصیح اور بینا سرور ، طارق فتح اینڈ کمپنی اور سپاہ صحابہ کی قیادت کے پروموٹرز ہیں ان کی مذمت کریں اور ان کو بے نقاب کریں ، اسی دوران ” المانہ فصیح ” والا معاملہ بھی سامنے آگیا تو سلمان حیدر بھی اس میدان میں کود پڑے انھوں نے اپنے ایک سٹیٹس میں دعوی کیا کہ

اور آپ اس سکرین شارٹ اور اس کے نیچے ان کے یا دوسروں کے کمنٹس میں پڑھ سکتے ہیں کہ کہیں ایک جگہ بھی انھوں نے یہ دعوی نہیں کیا تھا کہ یہ سٹیٹس انھوں نے unmaskingtraitorpk.wordpress.com کے اوپر ‘علی ناطق ” بارے ایل یو بی پاک سے منسوب بیان پڑھنے کے بعد کیا ، بلکہ انھوں نے صاف صاف لکھا کہ ایل یو بی پاک نے اپنے ایک ٹوئٹ ميں ابھی علی ناطق کو بھی دیوبندی قرار دے ڈالا ہے ان کے اس سٹیٹس کے بعد ٹوئٹر ، فیس بک پر گویا ایک بھونچال آگیا اور مسلسل ایل یو بی پاک کے بارے میں جو منہ میں آیا بکا جانے لگا

میں نے سلمان حیدر کا جب سٹیٹس پڑھا تو مجھے بڑا عجیب لگا اور میں نے ایل یو بی پاک کا آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ ، ایل یو بی پاک آرکائیوز کا اکاؤنٹ ، ایل یو بی پاک کے ایڈیٹر انچیف علی عباس تاج کا اکاؤنٹ ، خرم زکی کا اکاؤنٹ ، نور درویش ، سید الملک الحجاجی کا اکاؤنٹ چیک کیا ، عباس زیدی کے کھاتے دیکھے کہیں پر بھی کوئی ایسا سٹیٹس موجود نہیں تھا ، میں نے ان میں تین کو ٹوئٹ بھی کیا اور پوچھا ، انھوں نے کہا کہ سلمان حیدر غلط بیانی کررہا ہے تو میں نے سلمان حیدر سے پوچھ لیا کہ وہ ٹوئٹ کہآں ہے کافی دیر بعد ان کا جواب آیا تو اس میں پہلے تو یہ کہا

آب اس سے کیا فرق پڑھتا ہے ” سوال کی اہمیت ” پر کہ ميں ایل یو بی پاک کا حصّہ ہوں یا نہیں ، ایل یو بی پاک میں لکھنے والے مرے لونڈے ، لپاڑے ہیں یا نہیں سلمان حیدر نے کہا کہ ایل یو بی پاک نے ” سیٹھی ، سیٹھی ” جو ںظم لکھی اس سے یہ صاف اندازہ ہوجاتا ہے کہ انھوں نے مجھے دیوبندی قرار دے ڈالا ہے اور اسی میں کہا کہ نظم میں ایک کیپشن پر لکھا ہے کہ Ale Natiq Joins Sethi Mafia اب پہلی تو بات یہ ہے کہ اس نظم کے متن سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ایل یو بی پاک نے سلمان حیدر کو سیٹھی کیمپ کا آدمی اس لیے قرار دیا کہ سلمان حیدر نے ایک طرف تو دیوبندی تکفیریت پر کوئی نظم لکھنے سے انکار کیا اور شیعہ نسل کشی پر بائنری پوزیشن لینے والوں کی مذمت نام لیکر کرنے سے گریز کیا

اور یہاں تک کہ اس نے نجم سیٹھی ، شیری رحمان ، بینا سرو ، المانہ فصیح ، طارق فتح اینڈ کمپنی کی محمد احمد لدھیانوی ، فاروقی اور اشرفی کی پیس پروموٹر کے طور پر پروجیکشن کی مذمت کرنے سے بھی دوری اختیار کی ، ایل یو بی پاک کا موقف تھا کہ ایسی صورت میں وہ شیعہ نسل کشی کے زمہ داران کو چھپانے والوں کے کیمپ میں ہی کھڑے ہیں اور یہ اپالوجسٹ اور عذر خواہوں کا کیمپ ہے اور اس کے لئے دیوبندی ہونا لازم نہیں ہے بلکہ یہ شیعہ بھی ہوسکتے ہیں جن کو عبدل کوفی زھنیت کے شیعہ قرار دیتا ہے اور اس نے سلمان حیدر کو کوفی ذھنیت کا حامل سیکولر ، لبرل شیعہ قرار دیا اور یہ وہ بات نہیں ہے جو سلمان حیدر نے بنائی ایک صاحب ہیں جو بھینسا کے نام سے موجود ہیں

انھوں نے لکھا ایل یو بی پی نامی ایک سائیٹ جسے ایسے مذہبی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد چلا رہے ہیں جن کو گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں سنی اکثریت سے نفرت کا سامنا ہے اور یہ بات صرف نفرت سے کہیں آگے بڑھ کر باقاعدہ قتل و غارت میں تبدیل ہوچکی ہے اندازہ ہے کہ چند دہائیوں میں محض عقیدے کی بنیاد پر دیوبندی مسلمان دہشتگردوں کے ہاتھوں مارے جانے والے شیعہ مسلمانوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ، اس سٹیٹس کا پہلا جملہ ہی پورے مقدمے کی ایسی تیسی پھیرنے کے لیے کافی ہے ، بھینسا نے یہ فرض کرلیا کہ شیعہ اقلیت ، سنّی اکثریت کی پاکستان کے اندر مسلسل نفرت کا شکار رہی ہے ،،،،، گویا ان کے نزدیک بھی پاکستان کے اندر معاملہ شیعہ – سنّی بائنری اور شیعہ – سنّی جھگڑے کا ہے میں سمجھتا ہوں کہ ایل یو بی پاک کے ساتھ مری جو ذھنی ہم آہنگی ہے اس کا سبب ہی یہ ہے کہ یہ بلاگ پاکستان سمیت پوری دنیا میں مذھبی دھشت گردی کو شیعہ – سنّی قدیم تاریخی تنازعے میں نہیں دیکھتا اور نہ ہی اسے وہ مسالک کی جنگ سمجھتا ہے ،

یہآں تک یہ یہ ، یہ بھی خیال نہیں کرتا کہ پاکستان کے اندر کوئی دیوبندی – شیعہ جنگ ، خانہ جنگی ہورہی ہے اگرچہ اس کا موقف یہ ہے کہ دیوبندی تکفیری آئیڈیالوجی کی حامل تنظیميں جن میں سرفہرست سپاہ صحابہ پاکستان اور اس کے عسکری محاذوں پر جو نام ہیں لشکر جھنگوی ، طالبان ، جنداللہ ، جیش العدل ، داعش ، القائدہ ہندوپآک یہ سب یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے تمام مسالک اور مذھبی برادریاں خانہ جنگی میں ملوث ہوجائیں ، دیوبندی تکفیری فاشزم ایک عفریت ہے اور اس کے خاتمے کے لئے سب کو جدوجہد کرنی چاہئیے اور سوشل میڈیا کے میدان میں اس حقیقت کو چھپانے یا اس کو دھندلانے والے نظریات کے حامل افراد اور گروہوں سے اس کی لڑائی اعلانیہ ہے جو لوگ شیعہ نسل کشی کو ” ادلے بدلے ” کی زھنیت کا شاخسانہ کہتے ہیں اور جو تکفیری دھشت گردوں کے حامیوں کو پیس پروموٹرز کے طور پر پیش کرتے ہیں

اصل میں وہی یہ پروپیگنڈا تیز کرتے ہيں کہ ایل یو بی پاک بلاگ شیعہ – سنّی یا شیعہ – دیوبندی لڑائی کو تیز کرنے کا خواہاں ہے اور اسے کبھی تو آئی ایس آئی کا بلاگ اور کبھی امریکی سامراجی فنڈڈ بلاگ کہا جاتا ہے اور کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ایک ہی سانس میں اس بلاگ کو راحیل شریف کے تلوے چاٹنے والا اور دوسرے سانس میں اسے امریکی سامراجیت کا فنڈڈ پروجیکٹ قرار دیتے ہیں گویا کبھی آگ تو کبھی پانی میں ایل یو بی پاک کی ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اس نے جب یہ ساری گرد اڑائی جارہی تھی ہوش و خردمندی کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور اس ساری لڑائی میں جو پردہ نشین چھپ کر وار کررہا تھا اسے سامنے لائے جانے کا بیڑا اٹھایا اب یہ اس پردہ نشین کی بدقسمتی ہے کہ اس دوران دو ایسی حقیقتیں سامنے آگئیں کہ پتہ چل گیا کہ یہ وار کہاں سے کیا جارہا ہے

کراچی سیٹزن فورم پر بینا سرور – شیری مافیا کے قبضے کی کوشش کراچی سٹیزن فورم فار پیس ایک ایسا مرکز ہے جو کراچی کے شہریوں نے اپنے طور پر پاکستان میں بالعموم اور کراچی میں بالخصوص امن کے قیام کو فروغ دینے کے لیے ، بلوچ گمشدگیاں ، شیعہ نسل کشی ، انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کے قتل کو روکنے کے لئے قائم کیا ہے ، اس فورم کی تشکیل کے بعد سے اس فورم پر نجم سیٹھی کی سول سوسائٹی میں موجود لابی یعنی شیری اینڈی کمپنی نے قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے ، حال ہی میں ایک سیمینار ” ان سائلنسگ پاکستان ” کے بینر تلے منعقد کرانے کی بات ہوئی تو مقررین کی فہرست میں بینا سرور نے شیری رحمان کے نام کی شمولیت پر اصرار کیا جس پر اعتراض ہوا اور ووٹنگ کرائی گئی تو اکثریت نے شیری رحمان کو نہ بلانے کے حق میں رائے دی ، جبکہ ادھر حال یہ تھا کہ بینا سرور نے کسی سے پوچھے بنا ہی شیری رحمان کو اس پروگرام میں بطور مقرر دعوت دے ڈالی تھی ،

جب شیری رحمان کو مقرر کی بجائے محض ایک سامع کے دعوت کی ای میل روانہ کی گئی تو شیری رحمان نے غصے بھری ای میل لکھی اور یہاں تک کہا کہ میں دیکھوں گی کہ ہمارے بغیر یہ فورم کیسے کام کرے گا جب یہ ردعمل سامنے آیا تو کرامت ، بینا سرور اور دیگر لابی متحرک ہوئی اور اس نے پورا زور لگایا کہ شیری رحمان سیمینار میں بطور مقرر کے آئے لیکن ایسا نہیں ہوسکا تو پاکستان میں شیعہ نسل کشی پر گمراہ کن تھیسس بنانے والا نجم سیٹھی – شیری رحمان – بینا سرور لبرل مافیا اصل ميں سول سوسائٹی کو حقائق سے دور رکھنا چاہتا ہے اور یہ مسائل کے حوالے سے حقیقی ایکٹوازم کی جڑیں ہی ختم کرنے کا متمنی ہے مرے کئی ایک مارکسی دوستوں کا خیال ہے کہ بینا سرور اینڈ کمپنی لبرل کا وہ ٹولہ ہے جو امریکیوں سے ڈالر لیکر کھاتا رہا لیکن چینی لابی کے خلاف کوئی عملی محاذ تشکیل نہیں دے سکا تو اب امریکی فرسٹریشن کا شکار تو ہیں ہی ، وہ اس لبرل ٹولے پر بھی بے پناہ دباؤ ڈالے ہوئے ہیں لیکن یہ بزدل ڈرے ہوئے اور ڈالر میں لتھڑے لوگ ” چڑھ جا بیٹا سولی پر رام بھلی کرے گآ ” والے ہیں

علی عباس تاج ایڈیٹر انچیف ایل یوبی پاک اور بینا سرور -نجم سیٹھی مافیا

یہ کیسے لوگوں کو اپنے لیے استعمال کرتے ہیں اس کا اندازہ ہمیں ایل یو بی پاک کے موجودہ ایڈیٹر انچیف علی عباس تاج کی بینا سرور کے ساتھ کام کے دوران ہوئے تجربات و مشاہدات کو پڑھنے سے بھی ہوجاتا ہے بینا سرور اینڈ کمپنی بطور چارے کے کئی ایک پٹھوں کو استعمال کررہی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ان ٹھگوں کے خلا‌ف سوشل میڈیا وار کی جنگ کو جاری رکھنا چاہئیے میں بلا کم و کاست اس کو اپنے پڑھنے والوں کی خدمت میں پیش کررہا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس داستان سے بہت سے معاملات کو سمجھنے میں مدد ملے گی المانہ فصیح جس نے جناب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور جناب فاطمۃ الذھرا رضی اللہ عنھا کی شان میں انتہائی نازیبا کلمات کہے تھے کے خلاف آنے والے ردعمل پر ایک معافی نامہ دیا جس میں اس نے یہ دعوی بھی کیا کہ بینا سرور سے وہ ایک یا دو مرتبہ سے زیادہ نہیں ملیں ، یہ دعوی کہاں تک سچا ہے ،

اس کا اندازہ علی عباس کی اس آپ بیتی سے آپ اندازہ لگالیں گے بینا سرور سے مرا تعارف ہمارے ایک مشترکہ دوست نے کروایا تھا اور میں ٹیم پاکستان ٹائپ کے اس کے بنائے ہوئے گروپوں میں سے گروپ Fair and Free Journalism کا ایڈمن تھا ، میں پاکستان میں شیعہ نسل کشی کی وجہ سے بہت ڈسٹرب تھا اور ان لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا خواہآں تھا تاکہ سنّی (صوفی ) ، شیعہ نسل کشی کرنے والے دیوبندی تکفیری گروپوں کو کے خلاف کام کرنے میں مددگار ہوں تو اسی سلسلے میں بینا سرور سے مرا تعارف ہوا اور بینا کے ساتھ کافی کام کرنا شروع کرڈالا مثال کے طور پر جب سماء ٹی وی کی ایک اینکر پرسن مایہ خان نے ایک پارک میں ملنے والے ایک لڑکا لڑکی سے نکاح نامہ طلب کیا تو میں نے اس طالبانی جرنلزم کے خلاف آواز اٹھائی اور بہت محنت سے ایک رپورٹ مرتب کی اور جبکہ اور اس پروگرام کے خلاف کئی ہزار لوگوں کے دستخط بھی کرواکے آگے بھیجے گئے اور اس پر سماء ٹی وی کے سی ای او نے معذرت بھی کی ، بینا نے مرے کام کو پسند کیا

اس قسم کا ایکٹوازم مرے ایجنڈے میں ٹاپ پر نہیں تھا لیکن مجھے یوں لگا کہ اگر میں اپنی توانائی ، وسائل اس کے لیے صرف کروں اور بینا کے لئے اس کی دلچسپی کے میدان میں قابل قدر کام کردکھاؤں تو شاید وہ ” شیعہ نسل کشی ” کے خلاف بڑی علم بردار بنکر سامنے آنے پر تیار ہوجائے گی میں نے بینا کے لیے بہت سے پیجز ، گروپس جن میں سے کئی ایک کا میں ایڈمن بھی تھا کام کیا ، وقت ، وسائل سب کچھ دیا بینا اور ان کے دوست اگرچہ شیعہ نسل کشی بارے بعض اوقات بہت اچھے آرٹیکل اور پوسٹ شئیر کرتے تھے

لیکن وہ سب کے سب ایل یو بی پاک سے بہت بیزار تھے اور یہ بات میرے لئے حیرانی کا سبب بنتی تھی ، کیونکہ مجھے ایل یو بی پاک کی پوسٹس بہت پرمغز و پرمعنی لگتی تھیں ایل یو بی پاک کے بانی مدیر عبدل نیشاپوری نے مجھ سے اس وقت رابطہ کیا جب میں اپنی بیوی ، بچوں سمیت امریکہ میں سعودی سفارت حانے کے سامنے شیخ نمر کی رہائی کے پلے کارڑ اٹھائے کھڑا تھا اور یہ مظاہرہ تو اس وقت کی تمام مساجد میں آنے والے نمازیوں کو کرنا تھا لیکن کوئی نہ آیا اس ڈر سے کہ سعودی عرب کا ویزہ نہیں ملے گآ جبکہ حج فرض ہے تو وہ کیسے ادا گآ

ناداں سجدے میں گرپڑے جب وقت قیام آیا تو ایسے ایل یو بی پاک سے مرا تعلق بنا اور میں نے ایل یو بی پاک کے لئے لکھنا شروع کردیا اور جب عبدل نیشاپوری کو بوجہ ادارت سے الگ ہونا پڑا تو میں اس کا ایڈیٹر بن گیا جیسے ہی میں ایل یو بی پاک کا مدیر بنا تو مجھے معلوم ہوا کہ بینا سرور اس بلاگ کی اکثر پوسٹوں سے مطمئن تھی لیکن نجم سیٹھی کے بارے میں کسی بھی بلاگ کی تحریر کو پوسٹ کرنے یا نہ کرنے میں وہ اپنی رائے کو حتمی کے طور پر منوانا چآہتی تھی ،

ایک عرصہ تک روزانہ ہم دونوں ” نجم سیٹھی ” پر لکھی جانے والی تحریروں پر بات ہوتی رہی اور سیٹھی پر کوئی ناقدانہ تحریر نہ چھپ پائی لیکن اخرکار مجھے شرح صدر ہوگیا کہ ایل یو بی پاک کے بلاگرز نجم سیٹھی کو ٹھیک بے نقاب کررہے تھے تو میں نے ان پوسٹوں کو شایع کرنے کی اجازت دے ڈالی تو اس موقعہ پر میری اور بینا سرور کی دوستی اپنے اختتام کو پہنچی ہماری دوستی میں سردمہری کیا آئی ، بینا سرور نے شیعہ نسل کشی کے خلاف ہونے والے احتجاج میں اپنی دلچسپی بالکل ہی کم کردی اور نہ ہی اب اس کو #takfirideobandi Hash Tag

استعمال کو بھی بند کردیا یہ دیکھکر میں نے بینا کو کہا

” سیٹھی کے بارے میں ہماری رائے مختلف ہوسکتی ہے لیکن شیعہ نسل کشی کے خلاف ہمارا کاز اس سے متاثر نہ ہو ” اس پر بینا سرو کا جو جواب آیا وہ بہت ہی شاکنگ تھا اس نے کہا

It was a quid pro Quo

بینا سرور کے مطابق ” شیعہ نسل کشی ، ادلے بدلے یعنی شیعہ کے کرموں کا پھل ہے مطلب یہ ہوا کہ یہ نسل کشی نہیں بلکہ دو طرفہ جنگ ہے المانہ فصیح جو یہ کہتی ہے اپنے مفروضہ معافی نامے میں کہ وہ بینا سرور سے ایک یا دو مرتبہ ملی ہے بینا کی وہ بہترین دوست تھی جو مرے بھی جاننے والی تھی اور بنیا سے مری ملاقات اسی نے کروائی تھی میں کہتا ہوں کہ جب سے شیعہ نسل کشی پر اس کی مداہنت واضح ہوئی تو میں نے تو جتنے بھی پیجز و گروپ اس کے ایڈمن کررہا تھا کہ کل سارے چھوڑ ڈالے اور پھر کبھی بینا سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن بینا نے ان پیجز کو ایکٹویٹ کرنا ترک نہیں کیا اور جب المانہ فصیح کا تکفیری خارجی رنگ ابھرا تو سب سے پہلے اس کے بچاؤ میں بینا سرور آئیں میں بینا سرور کے کام کے سارے طریقہ کار کو کو بہت قریب سے جانتا ہے اور میں یہ شبہ کرتا ہوں کہ اس اپالوجی کو بھی بینا سرور نے ہی ڈرافٹ کیا ہے

اور وہی اس کو معذرت نامے کو پھیلارہی ہے بینا نے اپنی اسسٹنٹ المانہ فصیح کو اس کے نازیبا کلمات بارے باور کرانے اور اس سے غلطی کی تلافی کرانے کی بجائے بلاسفیمی کارڑ کھیلا اور اس کارڑ کو اپنے لوگوں کو ایل یو بی پاک کے خلاف استعمال کرنے کو کہا ، بینا سرور کے اشارے پر ” فری سیکس ” کی تبلیغ کرنے بلکہ اس کو آسیب کی طرح اپنے اوپر سوار کرلینے والی عورت شازیہ نوآز کو ایل یو بی پاک کے پیچھے لگایا اور محسن سید جیسے معقول لوگوں کو ہم سے متنفر کرنے کے لیے چالاکی سے کام لیا بینا سرور کا سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ اس نے اول دن سے نجم سیٹھی مافیا کو کور کرنے کا کام سنبھال رکھا ہے اور وہ یہ کام کرنے کے دوران کسی اخلاقیات کو خاطر میں نہیں لیکر آتی میں ایل یو بی پاک کے ایڈیٹر کے طور پر بہت واضح طور پر بتادینا چاہتا ہزں کہ بینا سرور کے بارے میں یہ آگاہی پھیلاؤ پروگرام کسی زاتی پرخاش کا نتیجہ نہیں ہے

بلکہ یہ بینا سرور کی جانب سے شیعہ نسل کشی پر گمراہ کن خیالات پھیلانے ، اسے ” ادلے کا بدلہ ” قرار دینے اور پاکستانی ميڈیا میں خبروں کے سیلف کنٹرول کو بے نقاب کرنے کا معاملہ ہے بینا سرور – نجم سیٹھی – شیری رحمان ایںڈ کمپنی ایک مافیا ہے جو تکفیری دیوبندی دھشت گردوں کے ہمدردوں اور محافظوں جیسے احمد لدھیانوی ، طاہر اشرفی ، اورنگ زیب فاروقی کو امن کا پروموٹر بناکر پیش کرتا ہے اور نیوز کنٹرول کرکے لوگوں کو بیوقوف بناتا ہے بینا سرور ، نجم سیٹھی کو کس نے اختیار دیا کہ وہ لوگوں کو بیوقوف بنائیں اور اپنے لوگوں کو پہلے استعمال کریں ، جب وہ کہیں ایکسپوز ہوں تو ان کے سٹیٹس ہٹائیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں میڈیا آزاد نہیں ہے ، یہ فیور اور زاتی مفادات کے سسٹم کے تابع کام کرتا ہے اور یہ خبروں کو پھیلانے سے زیادہ ان کو اپنے مفادات کے مطابق ان کی مینوفیکچرنگ کرنے اور ان کے خلاف جانے والی نیوز کو کنٹرول کرتا ہے اور ہمارا عزم ہے کہ ہم اس ناجائز نیوز کنٹرول کے خلاف کام کرتے رہیں گے

Source:

http://lail-o-nihar.blogspot.com/2015/06/why-i-am-with-lubpak.html

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*