Taliban sexually abuse suicide bombers during training

Taliban militants are drugging and sexually abusing boys whom they are training to carry out terror acts, Afghan officials say.

EDITOR’S NOTE: That militants would resort to unscrupulous methods to recruit teens for suicide bombing is nothing new. But emerging stories about sexual abuse are raising eyebrows. Central Asia Online is taking a look at the concerns raised by such abuse. Today’s story focuses on the Afghan intelligence agency’s reports of the Taliban militants sexually abusing young boys at their training camps.

Taliban molestation of boys, once rarely discussed in Afghanistan and Pakistan, is now becoming a more common topic of conversation.

Nematullah, a former would-be suicide bomber, told Afghanistan’s National Directorate of Security (NDS) that young men, including himself, endured sexual abuse by their trainers, according to a September 23 NDS statement.

Militant leader Mullah Ahmad (aka Mullah Akhtar), who trained the young man to carry out a suicide attack on his motorcycle in Adraskan District of Herat Province in September, also sexually abused him, Nematullah said.

Police foiled Nematullah’s attempted attack and informed NDS officials about his plot and the sexual victimisation of boys by the Taliban. Mullahs Nasim and Akhtar drugged several bombers-in-training to the point where they passed out and repeatedly abused them while they were unconscious, Nematullah said.

Observers confirm sexual abuse
Doctors and activists in Pakistan and Afghanistan have medically confirmed that such abuse occurs.

“We have examined at least five teenage boys … who were sexually abused by the Taliban in South Waziristan,” Dr. Muhammad Hashim at the Khalifa Gul Nawaz Teaching Hospital in Bannu District, told Central Asia Online.

The boys escaped from Taliban captivity and told authorities that militants molested them, Hashim said. Mustafa Gul, a teacher at the Forensic Science Department of Khyber Medical College Peshawar, also has worked with young men abused by the Taliban.

“We’ve had … 27 sexual assault cases involving boys since January 1,” Gul told Central Asia Online. “Five Taliban were involved,” he said, though he provided no information about whether the militants will face sex abuse charges if they are caught.

The militants often kidnap impoverished boys who are susceptible to being preyed upon, Khalid Khan, a special branch police officer, told Central Asia Online, noting that several boys who escaped Taliban training centres in the Federally Administered Tribal Areas (FATA) told investigators that they were abused and that their parents could not do anything.

Taliban militants are not the only one who abuse boys, though. Some clerics have been caught red-handed abusing their pupils in mosques, Khan said.

“In a Peshawar-based mosque, we registered a case against a local prayer leader for indulging in sex act with a boy [who was at the mosque for guidance in memorising the Koran],” he said.

Practice condemned, termed against Islam
Religious scholars and children’s-rights activists issued strong condemnations of such crimes after the NDS released information about Nematullah’s case.

“It defames Islam,” Arshad Haroon, a Khyber Pakhtunkhwa regional leader of the Strengthening Participatory Organisation, told Central Asia Online. “No Muslim can justify subjecting kids to sexual abuse. It is a heinous crime.”

“It’s by no means a human act. … Drugging and forcing them into such acts are condemnable by all social norms and human values,” Haroon said.

“Now the people of Afghanistan can see the real face of the militants,” University of Kabul student and social activist Ziauddin said.

“Why don’t these militant trainers and leaders put on a suicide vest and blow themselves up?”

Source: Central Asia Online

طالبان تربیت کے دوران خودکش بمباروں سے جنسی زیادتی کرتے ہیں، قومی نظامت برائے سلامتی

افغان حکام کا کہنا ہے کہ طالبان عسکریت پسند جن نو عمر لڑکوں کو دہشت گردی کی کارروائیوں کی تربیت دیتے ہیں وہ انہیں نشہ کراتے ہیں اور ان سے جنسی زیادتی کا ارتکاب کرتے ہیں۔

مدیر کا نوٹ: عسکریت پسندوں کی جانب سے نوجوانوں کو خودکش بم دھماکوں کے لیے بھرتی کرنے کے غیر اخلاقی طریقے اپنانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاہم جنسی زیادتی سے متعلق منظر عام پر آنے والی خبروں پر عوام میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ سینٹرل ایشیا آن لائن اس قسم کی کوششوں پر پائی جانے والی تشویش پر نظر ڈال رہی ہے۔ آج کی رپورٹ افغان انٹیلیجنس ایجنسی کی ان اطلاعات پر مبنی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ طالبان عسکریت پسند اپنے تربیتی کیمپوں میں نو عمر لڑکوں کا جنسی استحصال کر رہے ہیں


طالبان کے ہاتھوں نو عمر لڑکوں سے جنسی زیادتی کے موضوع پر افغانستان اور پاکستان میں بہت کم لب کشائی کی جاتی تھی مگر اب یہ گفتگو کا عام موضوع بنتا جا رہا ہے۔

نعمت اللہ نامی ایک سابق متوقع خودکش بمبار نے افغانستان کی قومی نظامت برائے سلامتی کو بتایا کہ ان سمیت نوجوانوں کو اپنے تربیت کاروں کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننا پڑا۔ یہ بات نظامت نے 23 ستمبر کو ایک بیان میں کہی۔

نعمت اللہ نے بتایا کہ عسکریت پسند رہنما ملا احمد عرف ملا اختر نے بھی اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس رہنما نے ستمبر میں صوبہ ہرات کے ضلع ادرسکن میں اسے اپنی موٹر سائیکل پر خودکش حملہ کرنے کی تربیت دی تھی۔

پولیس نے نعمت اللہ کی جانب سے خودکش حملے کی کوشش ناکام بنا دی اور قومی نظامت برائے سلامتی کو اس سازش اور طالبان کے ہاتھوں نو عمر لڑکوں کو جنسی طور پر نشانہ بنانے کے بارے میں بتایا۔ نعمت اللہ نے بتایا کہ ملا نسیم اور اختر نے زیر تربیت متعدد بمباروں کو اتنا زیادہ نشہ کرایا کہ وہ اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئے اور ان دونوں نے بے ہوشی کے دوران بھی انہیں متعدد بار درندگی کا نشانہ بنایا۔

مبصرین کی جانب سے جنسی زیادتی کی تصدیق

پاکستان اور افغانستان میں ڈاکٹروں اور سرگرم کارکنوں نے طبی لحاظ سے تصدیق کی ہے کہ اس طرح کی زیادتیوں کا ارتکاب ہوا ہے۔

ضلع بنوں کے خلیفہ گل نواز ٹیچنگ اسپتال کے ڈاکٹر محمد ہاشم نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ ہم نے کم از کم پانچ نو عمر لڑکوں کا طبی معائنہ کیا ہے جو جنوبی وزیرستان میں طالبان کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہوئے تھے۔

ہاشم نے کہا کہ یہ لڑکے طالبان کی تحویل سے فرار ہو گئے تھے اور انہوں نے حکام کو بتایا کہ عسکریت پسندوں نے انہیں جنسی درندگی کا نشانہ بنایا تھا۔ خیبر میڈیکل کالج پشاور کے شعبہ فارنزک سائنس کے استاد مصطفٰی گل نے بھی ان نو عمر لڑکوں کے ساتھ کام کیا ہے جو طالبان کی زیادتی کا نشانہ بنے تھے۔

گل نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ ہمارے پاس یکم جنوری سے اب تک 27 ایسے کیس آئے ہیں جن میں نو عمر لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا کہ آیا پکڑے جانے پر عسکریت پسندوں کو جنسی زیادتی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسپیشل برانچ کے ایک پولیس افسر خالد خان نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ عسکریت پسند اکثر غریب بچوں کو اغوا کر لیتے ہیں اور پھر انہیں اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں طالبان کے تربیتی مراکز سے فرار ہونے والے متعدد لڑکوں نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور ان کے والدین اس سلسلے میں کچھ نہ کر سکے۔

تاہم لڑکوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والوں میں محض طالبان عسکریت پسند ہی شامل نہیں۔ خان نے بتایا کہ بعض علماء کو مساجد میں اپنے شاگردوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پشاور کی ایک مسجد میں ہم نے ایک مقامی پیش امام کے خلاف مقدمہ درج کیا جو قرآن حفظ کرنے والے ایک بچے کے ساتھ جنسی فعل میں ملوث تھا۔

اس رواج کی مذمت، اسلام کے خلاف قرار

قومی نظامت برائے سلامتی کی جانب سے نعمت اللہ کے واقعے کے بارے میں معلومات جاری کرنے کے بعد مذہبی علماء اور بچوں کے حقوق کے سرگرم کارکنوں نے اس طرح کے جرائم کی پر زور مذمت کی ہے۔

ادارہ استحکام شراکتی ترقی کے خیبر پختونخواہ میں ایک علاقائی رہنما ارشد ہارون نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ اس سے اسلام کا نام بدنام ہوتا ہے۔ کوئی مسلمان بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا جواز پیش نہیں کر سکتا۔ یہ ایک گھناؤنا جرم ہے۔

ہارون نے کہا کہ یہ کسی بھی لحاظ سے انسانی فعل نہیں ہے۔ بچوں کو نشہ کرانا اور ان سے زبردستی اس طرح کی قبیح حرکات کا ارتکاب کرنے کی تمام سماجی اصولوں اور انسانی اقدار میں مذمت کی جاتی ہے۔

کابل یونیورسٹی کے طالب علم اور سرگرم کارکن ضیاء الدین نے کہا کہ اب افغانستان کے عوام عسکریت پسندوں کا حقیقی چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آخر یہ عسکریت پسند تربیت کار اور رہنما خودکش جیکٹ پہن کر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا کیوں نہیں لیتے؟