پاکستان میں 65 سالوں میں انصاف نہیں دیکھا – سردار اختر مینگل


3-25-2013_93753_l

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل پیر کو اپنی خودساختہ جلا وطنی ختم کر کے کراچی پہنچ گئے۔
ان کے کراچی پہنچنے کے ساتھ ہی ان کے آبائی علاقے خضدار میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ان کی پارٹی کے ایک کار کن کو قتل کر دیا۔
ردار اخترمینگل کو سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں گرفتار کیا گیا تھا اور پیپلز پارٹی کی سابق دور میں ان کی رہائی اس وقت عمل میں آئی تھی جب وہ جیل میں شدید علیل ہو نے کے باعث رہائی کے بعد علاج کی غرض سے بیرون ملک گئے تھے۔
وہ گزشتہ سال کے اختتام پر بلوچستان بد امنی کیس میں سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے لیکن سپریم کورٹ میں یشی کے بعد وہ فوراً واپس دبئی چلے گئے تھے۔
مجموعی طور پر پونے چار سالہ جلا وطنی ختم کر کے وہ جب دبئی سے کراچی پہنچے تو ہوائی اڈے پر ان کی پارٹی کے کارکنوں نے ان کا استقبال کیا اور انہیں جلوس کی شکل میں ان کی رہائش گاہ لے جایا گیا۔
جس وقت سردار اختر مینگل کراچی پہنچے تو خضدار میں ان کے ایک پارٹی کارکن منصور مینگل کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کردیا۔
اس واقعہ سے دو روز قبل ان کے ہی پارٹی کے ایک اور کارکن کو خضدار میں فائرنگ کر کے ہلا ک کیا گیا تھا۔
بی بی سی سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے تصدیق کی کہ جب وہ دبئی سے کراچی پہنچے تو اس وقت پارٹی کے ایک کارکن منصور مینگل کو خضدار میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ پیغام ہمیں جمہوری عمل سے دور رکھنے کے لئے دیا جارہا ہے‘۔
سردار اختر جان مینگل کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے‘۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ’جہاں تک ہماری جماعت کا تعلق ہے وہ ایک جمہوری جماعت ہے اور ہم نے جمہوری طور پر بلوچستان کے حقوق کی آواز ہر فورم پر اٹھائی ہے‘۔
واضح رہی کہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے دو ہزار آٹھ میں عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔
Source: BBC Urdu

پاکستان میں عام انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور پیر کو بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعلٰی بلوچستان سردار اختر مینگل اپنی جلاوطنی ختم کر کے ملک واپس پہنچے۔
پاکستان واپسی سے قبل دوبئی میں بی بی سی کو دیےگئےخصوصی انٹرویو میں سردار اختر مینگل نے کہا کہ ان کی پارٹی ایک جمہوری پارٹی ہے اور وہ پارلیمانی سیاست میں حصہ لینا چاہتے ہیں تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ بدھ کو کراچی میں پارٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان کے لوگوں کو سرکار کی جانب سے بنائے گئے ڈیتھ اسکواڈز سے خطرہ ہے اور دوسری جانب ہمارے نادان دوست بھی قوم پرستوں کے لیے خطرہ ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو قائل کرنا ہے تو دلیل سے کرے کیونکہ عسکری گروہوں سے زیادہ طاقت سرکار کے پاس ہے اگر ان کے پاس بندوق ہے تو سرکار کے پاس توپ ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں انتخابی عمل کا جاری رہنا مشکل ہے ، خاص کر فرقہ ورانہ معاملات ، گم شدہ افراد کا مسئلہ ایک ہے اور مسخ شدہ لاشیں مسلسل ملنا بھی سنگین معاملہ ہے‘۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب تک ریاست اس طرح کی حرکتیں کرے گی تو پھر دوسروں کو کیا سمجھایا جائے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ بلوچ قوم پرستوں کو اصل خطرہ ریاست کی جانب سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم پرست جماعتوں میں اتحاد کے امکانات تو کم ہیں البتہ سیٹ ٹو سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کا امکان بہرحال موجود ہے۔
اختر مینگل نے کہا کہ انہوں یہ خوش فہمی نہیں ہے کہ بلوچستان کی اگلی حکومت چاہے جس کی بھی ہو اسے با اختیار بنایا جائےگا کہ وہ بلوچستان کہ مجموعی حالات کو قابو میں کرسکے۔
اختر مینگل نے کہا کہ ’پاکستان میں پینسٹھ سالوں میں انہوں نے انصاف نہیں دیکھا‘۔
سپریم کورٹ میں جاری بلوچستان بدامنی کیس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حال ہی میں پاکستان کی عدالتِ عظمٰی کی چیف جسٹس کو ایک یاداشت کے طور پر ایک خط لکھا تھا کہ صرف گزشتہ چھ ماہ میں سو کے قریب لوگوں کو اغواء کیا گیا ہے ، گولیوں سے چھلنی ستر لاشیں ملی ہیں اور ساٹھ افراد کو ہدف بناکر قتل کیا گیا ہے ۔
اختر مینگل کے بقول عدالت کے نوٹس لینے کے باوجود ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور عدالت کے احکامات پر کسی بھی طرح سے عمل نہیں کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا عدالت کی جانب سے بھی ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں آیا ہے اور اسی وجہ سے بلوچوں کی نسل کشی کرنے والے افراد کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔
اختر مینگل کا کہنا تھا کہ اگر بلوچستان کے لوگوں کو انسان تصور کیا جاتا ہے تو عدالت کو اس کیس کا فیصلہ جلد سے جلد سنانا ہوگا۔
Source: BBC Urdu