تماچی صاحب کی عقل و دانش -ڈاکٹر شازیہ نواز


rape-by-pakistani-beast
ایک زمانہ تھا جب لوگ اسی بات کو یقین کرتے تھے جو ان کوماں باپ نے بتا دی ، اور ماں باپ کو ان کے ماں باپ نے. زمانہ بدل گیا ہے. اب دنیا چھوٹی سی جگا ہے، لوگ دیکھ رہے ہیں کہ جو ماں باپ نے بتایا ، وہ ارد گرد دیکنے کے بعد سچ نہیں لگتا. اور لوگ ذہن بدل لیتے ہیں.

آج سندھ اسمبلی میں کسی نے کہا کہ عورتوں کو کراٹے سکھاے جائیں ، تو جام تماچی نامی ممبر نے کہا کہ عورتوں کو سکارف پہن کر نکلنا چاہیے
اس سے وہ محفوظ رہیں گی اور سڑکوں پر نہیں چھیڑی جائیں گی .
غصے سے زیادہ تماچی صاحب پر ترس آ رہا ہے. ساری دنیا کی عورتیں بتا رہی ہیں کہ ہماری سنو، عقل مند آدمی کو سن ہی لینا چاہیے.
تماچی صاحب خود تو کبھی بھی ایسی لڑکی نہیں رہے جن کو سڑک پر چلنا پڑا ہو.
جب کوئی جرم کرتا ہے تو وہ جرم کرنے والوں کی غلطی ہے. اپ امیر آدمی کو یہ نہیں کہ سکتے کہ وہ امیر کیوں تھا اور اسی لئے ڈاکا پڑا .
اور ڈاکو غریب آدمی کو یہ سوچ کر نہیں چھوڑ دیتے کہ بیچارہ غریب ہے.
اسی طرح ، سڑکوں پر چھیڑنے والے اور زیادتی کرنے والے دراصل چادر والی ڈری سہمی لڑکیوں کو اور بھی زیادہ تنگ کرتے ہیں.

موڈرن لگنے والی لڑکی سے لوگ ڈ ر جاتے ہیں.
تماچی صاحب کو بھی عقل کی باتیں سیکھ لینی چاہیں. اگر سکارف لیں، اور پھر بھی خطرہ ہو تو کیا برقع پہنیں، اور پھر بھی خطرہ تو گھر کے اندر قید ہو جایں؟ اسی جاہل ذہنیت کی وجہ سے عورتوں کو صدیوں تک گھروں میں رکھا گیا.

دنیا بدل رہی ہے. اس لئے کہ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ وہ علاقے جہاں عورتیں زیادہ آزاد ہیں، وہاں وہ زیاد محفوظ بھی ہیں.
ہر انسان کو آزادی پسند ہے. عورتوں کو بھی گھروں سے نکلنے کی آزادی پسند ہے. اب یہ آزادی ان سے نہیں لی جا سکتی.
آج چار سال کی بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا احمد پر شرقیہ میں. کیا چار سال کی بچی مختلف لگتی ہے چار سال کے بچے سے؟
اور سچی بات ہے کہ پاکستانی چھوٹے لڑکے تو پاکستانی لڑکیوں سے بھی زیادہ ریپ ہوتے ہیں اور زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں. چھوٹے لڑکوں کو صرف مدرسوں اور مسجودوں میں ہی نہیں بلکہ گلی محلوں میں بھی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے. پھر ان کی بھی عزت کا خیال کریں اور ان کو بھی سکارف پہنائیں .

کہنے کا مقصد یہ ہے بھی تماچی، کہ اپ عقل سیکھ لیں، جرم ہو تو مظلوم تو سزا نہیں دینی چاہیے. مظلوم کو قید کرنے کی بجاے ، مجرم کو قید کریں.