فیض میلہ:صرف پی ٹی آئی منسٹر کی شرکت پہ غصہ کیوں؟ – ریاض ملک

ہم لوگ صرف پی ٹی آئی کے وزیر فیاض الحسن چوہان کی موجودگی سے ہی کیوں خود کو زخم خوردہ محسوس کرتے ہیں؟

کیا کسی کو حامد میر کا تعصب اور طالبان کے ساتھ یاریاں یاد ہیں؟ کیا ہم جبران ناصر کی ذوالفقار علی بھٹو پہ یک رخی تیزاب پھینکے کو بھول رہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وہ واحد لیڈر تھے جنھوں نے فیض کو باعزت روزگار دیا۔؟

مجھے بالکل اس بات سے اتفاق ہے کہ تعصبات کے حامل پی ٹی آئی منسٹر کو بلانا فیض کی توھین ہے۔ اس میں کوئی دوسری بات نہیں ہے۔ لیکن حامد میر کا کیا جس کے سپاہ صحابہ سے یارانے ہیں اور وہ طالبان سے اس کا اشتراک بھی رہا ہے؟

ایسے ہی جبران جیسوں کی جانبدارانہ سوچ اور بے ایمانی جب ان کو بھٹو سے معاملہ کرنا ہوتا ہے۔

فیض صاحب کے ساتھ تو بہت پہلے سے زیادتی ہورہی ہے۔ کیا شہباز شریف اور دوسرے بدعنوان وکیلوں نے فیض و جالب کے اشعار نہیں پڑھے اور جس مریض و سمجھوتہ کیش اور نقصان پہنچانے والی وکلاء تحریک میں ان دو شاعروں کی مزاحمتی شاعری کو استعمال کیا کیا وہ توھین نہیں تھی؟

پھر کوئی شک نہیں کہ بائیں بازو کے کارکنوں سے دعوت دیکر ان کو پینل میں شرکت سے عین موقعہ پہ روکنا مایوس کن ہے، لیکن انہی بہت سے بائیں بازو کے کارکنوں نے شرمناک وکلاء تحریک میں شرکت کی تھی جس نے دائیں بازو اور جنونی طاقتوں جیسے پی ایم ایل۔این، جماعت اسلامی، پی ٹی آئی ، جنرل کیانی اور سپاہ صحابہ کو مضبوط کیا۔

جب یہ لیفٹ ایکٹوسٹ موقعہ پرست وکیلوں کے ساتھ بعض سمجھوتہ باز اور بدعنوان گریڈ 22 کے بیوروکریٹس کے ساتھ مارچ کررہے تھے تو کیا ان کو اس خودغرضانہ اور موقعہ پرست اقدامات کے نتائج و عواقب کا علم نہیں تھا؟

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*