جنازہ دھوم سے نہ نکلنا کمرشل لبرل اور بوتیک لیفٹ کی بے شرمی اور بے حسی کی علامت ہے – عامر حسینی

ایک بڑی غلط فہمی یہ پیدا کی جارہی ہے کہ فہمیدہ ریاض کے جنازے میں لوگوں کی تعداد کے کم ہونے کی نشاندہی کرنے کا مقصد شاید فہمیدہ ریاض کی قدر و قیمت کو جنازوں میں شریک تعداد سے مشروط کرنا ہے۔ یہ بات بالکل غلط ہے۔ پاکستان میں ایسے بھی شہید ہیں جن کو جنازہ تو کیا ان کی لاش بھی دریافت نہیں ہوئی۔ ان میں سرفہرست نام کامریڈ حسن ناصر کا ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کی لاشيں راوی کے کنارے نذر آتش کردی گئیں تھیں لیکن بھگت سنگھ کی قدر وقیمت اس سے کم نہیں ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے جنازے میں چند لوگوں کو شرکت کی اجازت ملی تھی اس کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو امر ہیں اور ان کو چاہنے اور ماننے والوں کی تعداد کم نہیں ہے۔

لیکن لاہور جیسے شہر میں جب فہمیدہ ریاض کا انتقال ہوا تو ان کے انتقال کی خبر سوشل اور مین سٹریم میڈیا پہ وائرل ہوگئی تھی۔ اب لاہور میں فہمیدہ ریاض کو اپنا کہنے والے لبرل اشراف اور لیفٹ اشراف کا یہ فرض بنتا تھا کہ وہ جن تنطیموں اور نیٹ ورک سے وابستہ ہیں وہ ان سب کو متحرک کرتے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کی جنازے میں شرکت کو ممکن بناتے۔

کیا لاہور کے معروف لیفٹ گروپ، انسانی حقوق کے نیٹ ورک، لبرل این جی اوز، ترقی پسند صحافتی تنظیموں اور ان کے دھڑوں کا یہ فرض نہیں بنتا تھا کہ وہ ان کی وفات پہ ایک سرکلر کے زریعے ان کے جنازے پہ لوگوں کو شرکت کی دعوت دیتے؟ کیا انھوں نے عاصمہ جہانگیر کی وفات پہ ایسے نہیں کیا تھا؟ اگر اس وقت کیا تھا تو اب کیوں نہیں کیا؟

کیا لاہور کی اشراف فیمنسٹ خواتین کا یہ فرض نہیں بنتا تھا کہ وہ جلوس کی شکل میں فہمیدہ ریاض کی بیٹی کے گھر پہنچتیں اور وہاں سے نماز جنازہ کے جلوس میں ویسے شرکت کرتیں جیسے انہوں نے عاصمہ جہانگیر کے جنازے میں کی تھی اور اس موقعہ پہ یہ ثابت کرتیں کہ وہ فہمیدہ ریاض جن اقدار کی علمبردار رہیں ان کی پاسداری کرتے ہوئے فہمیدہ ریاض کو دفن کررہی ہیں؟

کیا ہم ان لوگوں سے یہ کہنے میں حق بجانب نہیں ہیں جنھوں نے بلجئیم میں سوشلسٹوں کے ایک پروگرام میں حامد میر اور مشاہد حسین کو ‘ترقی پسند’ بناکر مدعو کرایا اور حامد میر سمیع الحق کے جنازے پہ گیا بھی اور جذباتی تقریر بھی کی وہ فہمیدہ ریاض کے جنازے پہ کہاں غائب ہوا؟ اور اس کا ٹاک شو فہمیدہ ریاض کے تذکرے سے خالی کیوں تھا؟ یہ وہی حامد میر ہے جو لدھیانوی و اسامہ بن لادن کے گیت گاتا اور ان کو پروجیکٹ کرتا رہا ہے۔ کیا ہم اس کی پروجیکشن کرنے والے بوتیک لیفٹ اور کمرشل لبرل مافیا کا پول نہ کھولیں؟

منافقت، دوھرے پن اور کمرشل ازم چاہے مذہبی لبادے میں ہو یا لبرل و لیفٹ کے نام پہ ہو اس کی مذمت کرنا اور ان کو بے نقاب کرنا ‘کلیشے پسند’ کرنا نہیں ہوا کرتا۔ اور نہ ہی یہ فضول کام ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کو مذہب کے نام پہ منافقت کرنے والوں پہ تو غصّہ آتا ہے لیکن لبرل و لیفٹ کے نام پہ منافقت کرنے والوں پہ تنقید سے ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھتا ہے۔ ایسے لوگوں پہ مذہب فوبیا ہے اور وہ اپنے فوبیا میں حق و انصاف کو ہی نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں۔

فہمیدہ ریاض کا جنازہ کسی ایسی فضا میں نہیں ہورہا تھا کہ ملک پہ مارشل لاء کے کالے سائے ہوں اور توپ و تفنگ لیے سپاہ کھڑی ہوں کہ جو جنازے میں شریک ہونے آئے مار ڈالا جآئے یا قید کردیا جائے۔ کوئی پابندی نہیں تھی کہ فہمیدہ ریاض کے جنازے کو ‘عاشق کا جنازہ’ نہ بنایا جائے اور ‘ زرا دھوم سے’ اسے نکالا نہ جائے۔ اس جنازے کو اگر دو سے تین ہزار لبرل اور لیفٹ کے لوگ اٹھاتے اور جنازہ انقلابی نعروں سے گونجتا تو جنازہ یادگار بن جاتا اور اس سے ترقی پسندی کی جڑیں زمین میں گڑی نظر آجاتیں۔ اگر پابندی اور جبر کے بغیر بھی جنازے میں لوگ نہ ہوں تو یہ مرنے والے کی نہیں شریک نہ ہونے والوں کی بے حسی کا ثبوت ہے۔

لبرل اشرافیہ اور بوتیک لیفٹ انسانی اقدار سے بالکل ہی بے پروالہ نظر آتا ہے۔ ڈان میڈیا گروپ کو 35 سال تک کارٹون بناکر دینے والا فیکا آغا خان ہسپتال میں بے یار ومددگار پڑا ہوا ہے۔ ڈان میڈیا گروپ کے مالک اور اس کے ایڈیٹر و چیف ایگزیٹو ایڈیٹر نے اتنی توفیق بھی نہیں کی کہ آغا خان ہسپتال جاتے اور اس کی بیماری پہ اٹھنے والے اخراجات اٹھاتے۔ فیکا کے آغاخان ہسپتال میں دو دن جب ہوگئے تو تب کہیں جاکر کراچی پریس کلب والوں کو اطلاع ہوئی اور وہ بھی جب میں نے ایڈیٹر روزنامہ سندھ اور حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کے رہنما مہیش کمار کو فون کیا۔ جس روز وسعت اللہ خان اور مبشر زیڈی زرا ہٹ کے پروگرام میں فہمیدہ ریاض پہ پروگرام ریکارڈ کروارہے تھے تو میں نے ان کو پیغام بھیجا کہ فہمیدہ ریاض کو خراج عقیدت پیش کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن ڈان میڈیا گروپ کو زندگی کے 35 سال دینے والا فیکا کا خاندان آغا خان کے بل نہیں بھر پارہا، آپ اپنے پروگرام میں اس کے لیے فنڈ اپیل کردیں۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس پہ کتنے اشراف لبرل اور بوتیک لیفٹیوں نے فیکا کے لیے آواز بلند کی؟ کتنے لوگوں نے ڈان میڈیا گروپ کو شرم دلائی؟ کسی کوکمرشل لبرل اور بوتیک لیفٹ کی منافقت پہ کوئی تکلیف نہیں ہوتی تو نہ ہو لیکن کم از کم وہ ہمیں تو آکر منع نہ کرے کہ ہم ان بہروپیوں کو بے نقاب نہ کریں۔ خود اپنے ہاں پائے جانے والے بہروپیوں کے بہروپ کو بے نقاب کرنے پہ مبتلائے تکلیف ہوتے ہیں اور پھر اپنی سنسر پالیسی، الگ کردینے اور یہآں تک کہ سزا دینے پہ اترآتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ یہ لبرل اور لیفٹ فکر کے مالک ہیں اور جو ان کی ہاں میں ہاں نہیں ملائے گا وہ اس صف سے خارج ہوجائے گا۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*