یمن کا انسانی المیہ : ملایشیا کا سعودی عرب سے فوج واپس بلانے کا اعلان

دو ہزار پندرہ میں جب سعودی اتحاد کی جانب سے یمن پر حملہ کیا گیا تو اس اتحاد میں دس ممالک براہ راست شامل تھے جب کہ امریکا ، برطانیہ، فرانس ، کینیڈا، اسرائیل اور یورپ کے کچھ ممالک اسلحہ اور انٹلیجنس معلومات فراہم کرنے میں ملوث تھے ، تین سال بعد اس جنگ نے جہاں ایک جانب یمن کو اس صدی کے سب سے بڑے انسانی المیے میں تبدیل کر دیا ہے وہیں دوسری جانب ہم دیکھ رہے ہیں کہ سعودی اتحاد میں پھوٹ پڑتی نظر آرہی ہے، قطر ، کویت، اور دیگر اتحادیوں کے بعد اب ملایشیا بھی سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اس اتحاد سے باہر آتا نظر آرہا ہے، ملایشیا کے وزیر دفاع کی جانب یہ اعلان خوش آیئند ہے کہ ملایشیا مشرق وسطیٰ کے کسی تنازعہ کا حصہ نہیں بنے گا،

دوسری جانب امریکا کی جانب سے بھی یمن جنگ میں سعودی عرب کی حمایت کو محدود کرنے کی باتیں سامنے آرہی ہیں ، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ محدود حمایت کس حد تک محدود ہوگی یا ٹرمپ ایک بار پھر سعودی پیٹرو ڈالرز کی چمک کے آگے زیر ہو جائے گا

پاکستان بطور واحد اسلامی ایٹمی طاقت کے ہمیشہ سے ہی یہ کہتا نظر آیا ہے کہ پاکستان کبھی بھی مسلم ممالک کے آپسی اختلافات کا حصہ نہیں بنے گا لیکن اس کے باوجود پاکستان کی جانب سے ہر تنازعہ میں سعودی عرب کی کھل کے حمایت کی جاتی رہی ہے

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کویت، قطر، ملایشیا کی طرح پاکستان بھی سعودی اتحاد سے باہر نکلنے کا اعلان کرتے ہوے صدق دل سے امت مسلمہ کے مسائل کے حل کے لئے غیر جانبدارانہ کوششیں کرے تا کہ یمن کے المیے کا کسی صورت کوئی حل ممکن ہو سکے

Link:

https://www.aljazeera.com/news/2018/06/malaysia-withdraw-troops-stationed-saudi-arabia-180628115443070.html?fbclid=IwAR393zBKWGZs1HjrKoSa3UHFIJlmU0pPkSDb93K6qYIr1-q_K1cSOdvUkXE

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*