Restoration of NATO supplies: Let’s blame Zardari and Gilani!

In the aftermath of humiliating surrender of Pakistan army generals to the US army and government on the issue of NATO supplies, Pakistani military establishment has activated its propagandists in right-wing dominated Urdu media and pseudo-liberal dominated English media to shift the blame to Pakistan’s elected government.

Several journalists considered close to Pakistan army generals including but not limited to Haroon-ur-Rasheed, Altaf Hassan Qureshi, Najam Sethi etc have written dishonest articles recently in which the blame of disconnection and restoration of NATo supplies has been dishonestly shifted to Pakistan’s civilian government.

For example, in his dishonest analysis in notorious daily Jang (Urdu newspaper, previously published in English in The Friday Times), Najam Sethi writes:

“In principle, the civil-military leadership of Pakistan has decided to re-engage with America by restoring the NATO pipeline and attending the Afghanistan moot in Chicago. …From 2001-2008 when Pakistan was ruled by the military establishment under General Pervez Musharraf or from 2008-2010 when the civilians under President Asif Zardari were supposedly in charge.”

Can someone ask Najam Sethi what exactly does he mean by ‘civil-military leadership’ and where’s such species found?

اچھی خبر ہے کہ پاکستان کی سول ملٹری قیادت نے نیٹو سپلائی لائن کھولنے کے لیے امریکہ کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کاا ٓغاز کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے تا کہ شکاگو میں افغانستان پر ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی جاسکے۔ تاہم غیر معمولی طور پر حالیہ دنوں میں عوامی سطح پر اس مسئلے پر تواتر سے بات کی گئی اور یہ سوال اٹھایا گیا کہ ․․․”اس سے ہمارا کونسا مالی فائدہ وابستہ ہے؟“ یا پھر یہ بات بھی کی گئی ․․․”ڈرون حملے بند ہونے چاہئیں کیونکہ یہ ہماری قومی سلامتی کی کھلی خلاف ورزی ہیں․․․“ نہ تو جنرل مشرف کے فوجی اقتدار 2001-2008 میں اور نہ ہی انتخابات کے بعد2008-2010 تک زرداری صاحب کی سویلین حکومت کے دوران ان دونوں میں سے کوئی نکتہ بھی میڈیا یا عوامی سطح پر زیر ِ بحث آیا۔

Interestingly, Sethi acknowledges in a subsequent paragraph that Pakistani military establishment conveniently uses the civilian leadership as a rubber stamp as and when it suits their interests.

“The Salala raid…was in the same vein of unilateralism. Stung, humiliated, and fearful of further unilateral acts by the Americans to undermine Pakistan’s game plan, the Pakistani military establishment drew a red line by freezing the NATO pipeline, reasoning that the Americans couldn’t afford to stay disrupted for long. For good measure, the military establishment thrust “ownership” of its besieged Afghan policy on to the elected civilian parliament and anti-American Pakistani media.”

Sethi further acknowledges that the USA’s threatening discourse forced Pakistanis generals to review their stance on NATO supplies.

“The straw that broke Pakistan’s back was a palpable threat of sanctions and an unexpected signing of a “strategic alliance” agreement between the US and the Karzai regime. The transition from “strategic ally” to “frenemy” has been swifter than the Pakistani generals had bargained for.”

However, consistent with his typical 80-20 discourse (20% dishonest propaganda hidden in 80% objective analysis), Sethi moves on to blame Pakistan’s elected government for failing to help the military.

“The civilians didn’t help by distorting the military’s calibrated plan because they took far too long to start re-engagement, thereby pushing Washington to take a harder line.”

Ironically, a right-wing columnist Irfan Siddiqi does not seem to buy the pseudo-liberal Sethi’s civil-military leadership theory. Last para in Irfan Siddiqi’s column is a slap on Najam Sethi’s notion of civil-military leadership:

میرے دوست ایاز امیر نے جو خود قومی اسمبلی کے رکن بھی ہیں اور نامور کالم نگار بھی۔ اپنے تازہ کالم میں یہ ساری داستان ایک جملے میں سمو دی ہے۔ طنز کا نشتر چلاتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”پارلیمینٹ ڈیسک وغیرہ بجانے اور کچھ تفریح کے لئے اچھی جگہ ہے مگر سنجیدہ قسم کے قومی معاملات پر یہاں وقت ضائع نہ کیا جائے۔“ شاید شاہراہ دستور کے کنارے سر بہ گریباں کھڑی عمارت کو بھی اپنی کم مائیگی کا اندازہ ہے۔ نیٹو سپلائی سے بجٹ کی تشکیل تک ”چاہے ہیں تو آپ کر لے ہیں“ والے من مانیاں کئے جا رہے ہیں اور سارا ملبہ ناحق مجبور و بے بس پارلیمینٹ پر ڈال کر اسے بدنام کیا جا رہا ہے جس کے پاس ”مختاری کی تہمت“ کے سوا کچھ بھی نہیں۔

Ayaz Amir, a sitting MNA of right wing PML-N, demolishes the myth of civil-military leadership’s decision to restore NATO supplies created by the Najam Sethi Club.

Pseudo-liberals in Najam Sethi club are not alone in blaming the elected govt, right-wing proxies of Pak army too are repeating the same chorus.

Examples of right-wing propaganda on NATO supplies:

Altaf Hassan Qureshi http://jang.com.pk/jang/may2012-daily/19-05-2012/col2.htm

۔سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو ہیلی کاپٹروں کی گولہ باری میں پاک فوج کے ۲۴ افسروں اور جوانوں کی شہادت کے خلاف پوری قوم امریکی دہشت گردی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور پارلیمنٹ کی متفقہ قراردادیں فوری طور پرنیٹو سپلائی بند کرنے،شمسی ائر بیس امریکہ سے خالی کرانے اور ڈرون حملوں کی بندش کا مطالبہ کیا گیاتھا۔امریکہ نے شمسی ائر بیس بھی خالی کر دیااور ڈرون حملے بھی بند ہو گئے۔حالات کی سنگینی کے تحت فروری کے وسط میں اس کی طرف سے معافی مانگنے اور معاوضہ ادا کرنے کا واضح عندیہ دیا گیا، لیکن ہماری اعلیٰ سیاسی قیادت نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا اور یوں پاک امریکہ تعلقات میں سدھار کا نہایت قیمتی موقع ضائع ہو گیا

۔ہماری اعلیٰ ترین سفارت کاری پر مامور نا اہل،کم عمر اور نا تجربے کارٹیم نے ہمیں تپتے ہوئے صحرا میں چھوڑ دیا ہے۔اب نیٹوسپلائی کے بارے میں غیر معمولی تاخیر سے اور غیر معمولی دباؤ کے تحت جو بھی فیصلہ کیا جائے گا،وہ ہماری سوسائٹی کو تقسیم کرنے کے علاوہ ہماری قومی بے وقاری میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔خوف اور بے یقینی سے نکلنے کا ہمارے لیے ایک ہی راستہ رہ گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے ایک ہمہ پہلو تحریری معاہدہ کیا جائے جس میں یہ بنیادی شرائط شامل ہوں کہ پاکستان کو اب تک پہنچنے والے تمام تر مالی نقصانات ،گذشتہ ۱۰برسوں کے واجب الادابقایا جات کے ساتھ ساتھ نیٹو سپلائی کی راہداریکی ایک معقول رقم ادا کی جائے گی،اور سلالہ جیسے خونی واقعات کی روک تھام کا ایک قابل اعتماد میکانزم وضع اورافغانستان کے مستقبل میں پاکستان کا مثبت کردار تسلیم کیا جائے گا۔

Haroon Rasheed http://jang.com.pk/jang/may2012-daily/19-05-2012/col4.htm

۔”تو ہمارے علمائے کرام؟ “ایک مبتدی نے پوچھا۔ عارف خاموش رہا ۔ توقف کے بعد ارشاد کیا: بظاہرایمان تو ان کا بہت پختہ ہے وہ کہتے ہیں ، بھارت اور امریکہ سمیت ساری دنیا ہم پر پل پڑے ، ہمارا رب ہمارے لیے کافی ہے ، جنگِ خندق کی طرح۔
اب ایک گمبھیرسناٹا تھا اور ایک سوال :مدینہ کے قدّوسیوں نے فتح مکہ سے قبل مشرکین اور خندق کھودنے سے پہلے یہودیوں سے معاہدہ کیا تھا ۔ پھر یہ کہ اس خندق کے اندر فقط عمر ابن خطاب اور علی ابن ابی طالب سمیت سینکڑوں تاریخ ساز شہسوار ہی نہیں ، خود رسالت مآب تشریف فرما تھے۔ زمین پر بندے اور آسمانوں پر اللہ اور اس کے فرشتے جن پر درود بھیجتے تھے۔ ہماری خندق میں کون ہو گا؟ حضرت مولانا سمیع الحق اور حضرت مولانا فضل الرحمن ؟ ارے ہاں شیخ الاسلام ، پروفیسر ، ڈاکٹر علامہ طاہر القادری بھی۔ قائد اعظم ثانی نواز شریف، ایشیائی نیلسن منڈیلا آصف زرداری اور لیپ ٹاپ بانٹنے والے سپہ سالاروں کے سپہ سالار، شیر شاہ سوری کے جانشین شہباز شریف بھی۔تب کسی نے کہا:خدا کا شکر ہے کہ جنرل کیانی جنرل کاکڑ کا جا نشین بننے کی کوشش کررہے ہیں ۔ امیر تیمور یا صلاح الدین ایوبی کا نہیں ۔ خبط عظمت اور زعم تقویٰ کے ماروں میں کم از کم ایک ایسا آدمی موجود ہے جو سوچ سمجھ کر فیصلے کرتا ہے۔اللہ خیر کرے گا۔

For an objective analysis of restoration of NATO supplies, read Nazir Naji http://jang.com.pk/jang/may2012-daily/19-05-2012/col1.htm

میں انتہائی باخبر اور سنجیدہ لوگوں کو یہ کہتے سنتا ہوں کہ امریکہ تو معافی نامے پر تیار ہو گیالیکن پاکستانی حکام نے خود ہی تاخیر کا مشورہ دیا اور اس کے بعد امریکہ نے دوبارہ غوروفکر کر کے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔ آج امریکہ میں سفیر پاکستان محترمہ شیری رحمن سے منسوب ایک بیان سامنے آیا ہے کہ معافی کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ ادھر وال سٹریٹ جنرل نے ایک لمبی چوڑی کہانی چھاپ دی ہے کہ امریکہ نے کتنی مرتبہ معافی مانگنے پر غور کیا اور کتنی مرتبہ یہ سوال وائٹ ہاؤس میں زیربحث آیا؟ہمارے حکمران طبقوں میں اس پر بحث چل رہی ہے کہ متعلقہ حکام نے معافی منگوانے میں تاخیر کر کے‘ اچھا موقع ہاتھ سے کیوں گنوایا؟

ہمارا غیرت بریگیڈ جو بظاہر قومی خودمختاری‘ سلامتی اور دفاع کے نعرے لگاتا ہے‘ درحقیقت وہ دانستہ یا نادانستہ سامراجی عزائم کا آلہ کار بنتا ہے۔ سلالہ کے واقعہ سے بہت پہلے یہ گروپ امریکہ سے ٹکر لینے کے نعرے لگانا شروع کر چکا تھا۔ اس کی ابتدا ڈرون حملوں سے ہوئی۔ پاکستان میں سیلاب بھی آتا تو غیرت گروپ کی طرف سے فوراً شور اٹھتا کہ یہ سب ڈرون حملوں کا ردعمل ہے۔ پاکستان میں کہیں بھی دہشت گردی ہوتی‘ تو اسے ڈرون حملوں کا نتیجہ قرار دیا جانے لگا۔ جبکہ حقائق یہ تھے کہ جتنے بھی خودکش حملہ کرنے والوں کا سراغ لگایا گیا‘ ان میں سے کسی کا تعلق بھی شمالی وزیرستان کے متاثرین سے نہیں تھا ۔ البتہ فاٹااور دوسرے علاقوں سے جن نوجوانوں کو پکڑ کے خودکش حملہ آور بنایا جاتا تھا‘ ان کی تربیت شمالی وزیرستان میں ہوتی تھی۔ جبکہ یہ کہانی بالکل بے بنیاد ہے کہ یہ حملے وزیرستان میں ڈرون حملوں سے شہید ہونیوالوں کے رشتہ دار کرتے ہیں۔ ڈرون حملے تو آج بھی جاری ہیں۔ اب شہید ہونیوالوں کے رشتہ دار کہاں ہیں؟

سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملے کے بعد جو شدید احتجاج سامنے آیا۔ درحقیقت ہمارے ماہرین کے غلط اندازوں کا نتیجہ تھا۔ ہمارے فیصلہ سازوں کی اکثریت کو باور کرا دیا گیا تھا کہ سپلائی روٹ چند روز کیلئے بھی بند کیا تو امریکہ گھٹنوں کے بل جھک جائیگا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ امریکی بھی کبھی اشاروں اور کبھی واضح الفاظ میں امید دلاتے رہے کہ صدر اوباما معافی کا لفظ استعمال کر لیں گے۔ لیکن اندر کیا ہوتا رہا؟ یہ کہانی وال سٹریٹ جرنل میں شائع ہو چکی ہے۔ ”جرنل“ نے جن بیس اکیس میٹنگوں کا ذکر کیا ہے‘ ان میں معافی کا لفظ ایک بار بھی زیرغور نہیں آیا۔ مختلف متبادل الفاظ پر بحث ہوتی رہی۔ تو پھر پاکستان کو یہ امید کس نے دلائی کہ امریکہ معافی مانگ لے گا؟ شاید انہی میٹنگوں کی خصوصی اطلاعات کی بنا پر ہی وزیرخارجہ حنا ربانی کھر اپنی طرف سے دلائل دیتی رہیں کہ اگر آپ افغانستان میں قرآن پاک کی بے حرمتی پر غیرمشروط معافی مانگ سکتے ہیں‘ تو ہمارے 24جوانوں کی شہادت پر کیوں نہیں مانگ سکتے؟ اس دلیل پر امریکیوں کی اپنی میٹنگوں میں جو کچھ کہا گیا‘ وال سٹریٹ جرنل کی تفصیلی رپورٹ میں پڑھا جا سکتا ہے۔معافی کے لفظ پرہمارے ساتھ امریکی سفارتکاروں نے جو کھیل کھیلا‘ اس کی تفصیل معلوم ہونے پر صدام حسین کو ورغلانے کی امریکی سفارتی کوششیں یاد آ جاتی ہیں۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ ہمارے متعدد باخبر اور معتبر دانشور ایک محفل میں مصر تھے کہ معافی کا فیصلہ تو ہو گیا تھا‘ صرف ہم نے تاخیر کر کے کام خراب کیا۔ کچھ لوگ تو اب بھی یقین دلا رہے ہیں کہ صدر اوباما معافی مانگ لیں گے۔ امریکی پالیسی سازوں کی میٹنگوں کی اندرونی کارروائی پڑھ کے پتہ چلتا ہے کہ اندر کیا سوچا جا رہا ہے؟ معافی سے انکار کے پیچھے کونسی سوچ کارفرما ہے؟ اور آخری بات یہ کہ اس مرحلے پر امریکہ ایسی علامتی بات بھی نہیں کہے گا‘ جس سے ہمارے بڑھک باز یہ نعرہ لگانے کے قابل ہو جائیں کہ ”ہم نے امریکہ کو جھکا لیا۔“ہر سپرپاور کسی بھی دوسرے ملک کے سامنے جھکنے اور گردن اکڑانے کا فیصلہ سوچ سمجھ کے کرتی ہے۔ ہمیں امریکہ سے معافی کامطالبہ کرنے سے قبل یہ دیکھ لینا چاہیے کہ ہم امریکہ کو اپنے کس دباؤ سے مجبور کر سکتے ہیں؟ نیٹو کا سپلائی روٹ ہم نے چھ ماہ کیلئے بند کر کے دیکھ لیا اور روٹ کھلنے کے بعد اگر امریکہ نے محسوس کیا کہ پاکستان کو پھر بھی اس اختیار پر زعم ہے تو وہ ہمیں پھر اپنی طاقت آزمانے کا موقع دے گا۔ یاد رکھیئے! قوموں کے دوطرفہ تعلقات میں ہرفریق اپنی طاقت کی نسبت سے بات منوا سکتا ہے۔ نہ زیادہ نہ کم۔ باقی سب رومانس ہے۔

Also worth reading is Nazir Naji’s previous article on this topic: Pakistan kay asli mukhtar aur asli majboor

Ayaz Amir too despite his political affiliations with the PML-N offers an objective analysis: http://jang.com.pk/jang/may2012-daily/19-05-2012/col6.htm

ہماری وزیر ِ خارجہ مس حنا ربانی کھر نے نیٹو سپلائی لائن ، جو ہم نے سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد سے بند کر رکھی تھی، کو کھولنے کا عندیہ دینے کے لیے عمدہ تراشے ہوئے الفاظ کا چناؤ کرتے ہوئے کہاہے کہ ہمارا مقصد اپنا موٴقف واضح کرنا تھا اور شاید ہم وہ کر چکے ہیں۔ اچھی بات ہے مگر اس کام میں بے کار چھ ماہ ضائع کردیے اور پھر پارلیمنٹ میں اس خارجہ پالیسی کے معاملے کو گھسیٹنا ایک اچھے خاصے سادہ سے واقعے کو طربیہ ڈرامہ بنا دیتا ہے۔ میں یہ بات بہت پوری سنجیدگی سے کہتا ہوں کہ اگر آپ نے کسی بات کو بھی مزاحیہ رنگ میں رنگنا ہو تو اسے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھیج دیں۔

اب چاہے یہ کوئی اسٹیج ڈرامہ ہو یا سیاسی معاملہ فیصلہ کرتے ہوئے کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ ہم نے بے کار چھ ماہ ضائع کردیا مگر جیسے ہی ہم نے امریکی تیور بدلتے دیکھے تو فوراً ہی گھٹنے ٹیک دیے․․․ فریڈ اسٹیر کے الفاظ میں ”ہم نے قومی وقار کے حوالے سے اپنے الفاظ واپس لے لیے اور خوف سے سر جھکا لیا․“ہم چاہتے تھے کہ ہمیں شکاگو کانفرنس میں بلایا جائے اور ․․․․ یہ کس نے کہا تھا کہ نیٹو سپلائی اب کبھی نہیں کھولی جائے گی ؟ ہماری محترم وزیر ِ خارجہ صاحبہ فرماتی ہیں․․․ ”ہم فیصلے اسی طریقے سے کرتے ہیں․“ میں کہتا ہوں کہ اگر اس طرح سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے پر ہمارے امریکی دوست خوش نہیں ہوئے تو وہ بہت ہی کٹھور ہیں۔ تاہم کوئی غیر جانبدار مبصر کہہ سکتا ہے کہ ہم نے ایسا کرتے ہوئے انتہائی حماقت کا ثبوت دیا ہے مگر ”جوچاہے آپ کا حسن ِ کرشمہ ساز کرے“ اور کرتا پھرے مگر اگلی مرتبہ اگر میں نے کسی کو قومی وقار نامی کو ئی لفظ بولتے سنا تو میں نے تہیہ کر لیا ہے کہ میں خود بھی راکٹ داغنے کی تربیت حاصل کروں گا۔

جیسا کہ ہمارے ہاں رواج ہے کہ کوئی ڈور پس ِ پردہ رہ کر ہلاتا ہے،عمدہ موسیقار․․․ ہمارے محافظ، قومی سلامتی کے رکھوالے ایبٹ آباد پر حملے سے ششدر تھے اور چاہتے تھے کہ امریکی دوستوں کی طرف سے کیے گئے عدم اعتماد پر کچھ حساب برابر کیا جائے۔ اچھی بات ہے اور پھر اسامہ کے معاملے سے ہونے والی تضحیک کم نہ تھی۔ شیخ اسامہ کی زندگی تو ہمارے لئے ایک مسئلہ تھی ہی، جناب کی موت نے بھی ہمیں سکون کا سانس نہ لینے دیا۔ قومی مقاصد کے بلند آہنگ ترجمان، جناب کیانی صاحب ہمراہ پاشا صاحب ، ایسے دکھائی دے رہے تھے جیسے وہ قومی غیرت کی ناقابل ِ شکست چٹان ہوں مگر اب، افسوس، چٹان ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ اُس وقت بہت سے قومی غیرت کی للکارسے زمین و آسمان کا دل دہلا دینے والے سویلین بھی شریک ِ معرکہ تھے․․․ آج کہاں ہیں؟

تمام قوم خودمختاری کے گھوڑے پر سوار ہو گئی، جواں مرد غازی اور بے باک خواتین ٹی وی کے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر میدان مار رہی تھیں اور ان سب کے پیچھے فرشتوں کی آشیر باد تھی ۔ کتنے خمار آفریں دن تھے وہ بھی ! بے قابو جذبات، بے لگام شوریدہ سری اور پہاڑوں سے ٹکرا جانے کا حوصلہ ایسا دکھائی دیتا تھاکہ ، امریکی اور نیٹو کس شمار قطار ہیں، ہماری مژگان کا ایک ادنیٰ سا اشارہ نبض ِ ہستی روک دے گا اور پیشانی پر پڑنے والے ایک بل سے چرخ جنبش میں آجائے اور دھرتی کا دل دہل جائے گا۔ ہماری سیاست کے ماہر کلاکارمولانا فضل الرحمان رونق افروز ہوئے اور افغانستان میں ہونے والے تمام واقعات پر امریکہ کی بھرپور مذمت کی۔اُن کی تقریر نے فضا اتنی بوجھل کر دی کہ جب میں تقریر کرنے کھڑا ہوا تو میں بھی آزاد فضا میں سانس نہ لے سکا۔
کاش اچھی چیزیں کچھ دیر پا ہواکریں۔ ہمیں اپنے قومی جذبات کو بہت جلد معقولیت کی حد تک لے آنا چاہیے تھا مگر ہم نے معاملہ اتنا ہاتھ سے جانے دیا کہ امریکی صبر کے پیمانے لبریز ہونے کے قریب آگئے۔ہیلری کلنٹن نے حالیہ بھارتی دورے کے موقعے پر پاکستان اور دہشت گردی کو ایک پیرائے میں بیان کیا جبکہ امریکی کانگریس میں مالی اور فوجی امداد کی بندش کے مطالبات سامنے آنے لگے۔ شکاگو کانفرنس میں پاکستان کو مدعو نہ کرنے کا فیصلہ تقریباً کیا جا چکا تھا۔ اس صورت ِ حال نے ہمیں بدحواس کر دیا اور قومی غیر ت اور خودمختاری کے غبارے میں سے یک لخت ہوا نکل گئی۔

The foregoing demonstrates the existence of a pseudo-liberal right-wing alliance to promote the agendas and interests of Pakistan’s military establishment.

Pity the nation which criticizes right-wing proxies of army but treats pseudo-liberal proxies as champions of liberalism and human rights.

Latest Comments
  1. Noman
    Reply -
  2. Sadozai
    Reply -
  3. Sadozai
    Reply -
  4. Jahangir Aslam
    Reply -
  5. Rahat Ali Changezi
    Reply -
  6. Rahat Ali Changezi
    Reply -
  7. Abdul Nishapuri
    Reply -
  8. Umme Osama
    Reply -
  9. Cheera
    Reply -
  10. Noman
    Reply -
  11. Shah Nawaz Khan
    Reply -
  12. Shah Nawaz Khan
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

Current ye@r *