We condemn Saudi Arabian ambassador’s meddling in International Islamic University, Islamabad

Sources say Saudi ambassador in Pakistan unhappy with rector’s liberal and pluralistic policies.


صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری، وزیراعظم پاکستان جناب یوسف رضا گیلانی کے نام

آج ہم میں سے ہر پاکستانی اس تشویش میں مبتلا ہے کہ کیا واقعی ہم ایک آزاد ملک کے آزاد شہری ہیں۔ کیا ہمیں اپنی مرضی سے جینے کا حق حاصل ہے یا اپنی مرضی سے اپنے موقف بیان کرنے کا اور اپنی مرضی سے تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہے ؟ اگر یہ حق حاصل ہے تو پھر ہماری داخلہ و خارجہ پالیسیاں ہماری خواہشات کے مطابق کیوں نہیں ۔ پہلے تو ہم صرف اسے عالمی سیاست اور ملکی مفادات کا حصہ سمجھ کر برداشت کرلیتے تھے کہ ہمارے حکمران جو چاہے جیسے بھی ہیں

لیکن کم از کم اس ملک و قوم کے غدار نہیں ہیں نے یہ فیصلے سوچ سمجھ کر ہی کئے ہونگے لیکن اب تو حد ہی ہوگئی کہ ہمارے نامور تعلیمی ادارے بھی عالمی سیاست کی بھینٹ چڑھتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر فتح محمد ملک کوکس گناہ کی پاداش میں عہدے سے جبری طور پر ہٹایا گیا۔ کیا ان کا ناقابل معافی جرم یہ ہے کہ یونیورسٹی میں ثقافتی ہفتہ کے موقع پر انھوں نے ایک ایسے برادر ہمسائیہ ملک ایران کے سفیر کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا کہ جس ملک کے ساتھ ہماری سرحدیں طے شدہ ہیں ۔ جس کا بین الاقوامی کردار اور امت مسلمہ کے حوالے سے ٹھوس موقف آج دنیا بھر کے مسلمانوں میں مقبول ہی۔ وہ ملک کہ جس نے تمام اسلامی ریاستوں کو خودی اور خوداعتمادی کا عملی نمونہ پیش کیا ۔ ایران کے یہ سفیر حال ہی میں پاکستان آئے ہیں۔ شعبہ تعلیم میں ان کی دلچسپی کا اندازہ یہاں سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس مختصر مدت میں ہی انھوں نے قائداعظم یونیورسٹی، نمل یونیورسٹی سمیت کئی تعلیمی اداروں کا انتہائی مصروف شیڈول کے باوجود دورہ کیا ۔

جہاں تک پروفیسر فتح ملک کی شخصیت کی بات ہے وہ نہ صرف طلباء میں بلکہ تدریس و نظامت کے اعلیٰ حلقوں میں علم و دانش کی علامت سمجھے جاتے ہیں اور ثقافتی ہفتہ کے موقع پر انھوں نے ایران کے سفیر کا انتخاب نہایت غور و فکر کے بعد ہی کیا ہوگا۔ کیا یہ واضح حقیقت نہیں ہے کہ پاکستان اور ایران کی ثقافت ، تہذیب، تمدن ، تاریخ جڑواں بہنوں جیسی ہیں ۔ کیا ہماری قومی زبان ایران کی قومی زبان فارسی سے قریب ترین ہی۔ کیا ہمارے قومی ہیرو ’’علامہ اقبال ‘‘ دونوں ملکوںکے سانجھی ہیں ۔ کیا علامہ اقبال پاکستان سے زیادہ اقبال لاہوری کے نام سے ایران میں زیادہ مقبول ہیں۔ اگر تعلیمی حوالے سے جائزہ لیا جائے تو یہ بھی حقیقت ہے کہ اس ملک (ایران) نے ہرطرح کی پابندیوں کے باوجود تعلیمی شعبہ میں انقلابی ترقی کی ہے ۔ اس سے بھی بڑھ کر ایرانی صدر احمدی نثراد جو کہ پاکستان کی نوجوان نسل کے لیے ایک ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں کے نمائندے (ایرانی سفیر) سے ملاقات اور گفتگو طالب علموں کے لیے کسی نعمت سے کم تو نہ تھی ۔ کیا ریکٹر فتح ملک کا یہ جرم اتنا ہی سنگین تھا کہ برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے سفارتکاروں کو باقاعدہ طور پر آپ سے رابطہ کرکے ریکٹر کومنصب سے ہٹانے کی سفارش کی گئی۔ کیا اب ہم اپنے حکمرانوں سے یہ بھی امید رکھیں کہ ہمارے اساتذہ کی تقرری کے فیصلے بھی بیرونی دبائو پر صادر کئے جائیں گی۔

ہم بحیثیت طالب علم سعودی سفارتخانہ کے اس اقدام کو اپنے ملک کے داخلی معاملات میں بلاجواز مداخلت تصور کرتے ہیں اور آپ کی اخبار کی وساطت سے ان کے علم میں یہ بات لانا چاہتے ہیں کہ ہم ایک زندہ اور باشعور قوم ہیں ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں کس ملک کے کس کردار سے متاثر ہونا ہی۔ عالمی سطح پر ہم نے کس شخصیت کو اپنا ہیرو تصور کرنا ہی۔ سونے کے تار کے لباس پہن کر ہیروں کے نولکھے ہار کے تحفے دینے والے اسلامی رہنمائوں سے یا بناء بستر کے سادہ غذا کھا کے پھٹے لباس میں سڑک پر نماز ادا کرنے والے ایک اسلامی صد ر سی۔ہمارے اساتذہ ہمارے رہنما ہیں اور کوئی بھی فرد اپنے رہنماء کی تذلیل کی اجازت نہیں دے سکتا ۔

جناب صدر جناب وزیراعظم

ہماری اپیل ہے کہ خدارا تعلیمی اداروں کو بیرونی اثرات کا میدان جنگ مت بنائیں۔ اور قابل احترام ریکٹر فتح ملک کی جبری رخصتی کے احکامات واپس لیکر انھیں اپنے عہدے پر بحال کریں۔ کیونکہ آپ کا یہ متنازعہ فیصلہ ملک میں ایک نئے بحران کو جنم دے گا جس میں براہ راست طالب علم شامل ہونگی۔ اور آپ کو تو علم ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ تعد اد نوجوانوں اور طالب علموں کی ہے ۔ شکریہ

Source: IIU Students’ Press Release

IIUI rector on leave: Personal decision or Saudi pressure?
By Peer Muhammad

Source: Express Tribune

ISLAMABAD: Diplomatic pressure may have had a strong bearing on International Islamic University Islamabad (IIUI) rector Professor Fateh Muhammad Malik’s decision to go on indefinite leave, sources say. Although dispelling the impression that he had been removed from office, Professor Malik admitted that he was going on indefinite leave on behalf of Pakistan’s Iqbal Academy.

“I have received the notification from the presidency about my ex-Pakistan leave and the Quaid-e-Azam University vice chancellor will perform additional duties as rector in my absence,” Professor Malik told The Express Tribune. Malik said that he had offered his resignation to the president himself in case certain people were unhappy with him or were exerting pressure, but the president did not accept his offer. The professor said he was supposed to deliver lectures on Iqbal in different foreign universities and that his leave application had been pending for a while.
However, the rector also admitted that complaints were made by some faculty members of the Arabic department against him to the Saudi embassy, which were then forwarded to the presidency.

Sources said that the Saudi diplomatic mission was unhappy with the rector over his “liberal policies”, particularly when it came to accommodating members of the Shia community. “During the recent cultural week held at the university, the Saudi embassy asked the rector to not invite the Iranian ambassador and his wife to the event, but the rector refused to comply,” the source added.

The sources pointed out that the Saudis also questioned the rector’s moves to sign memorandums of understanding (MoUs) with Iranian universities. They also complained to President Asif Ali Zardari saying that the university was not being run according to the objectives for which it was established during Ziaul Haq’s regime, and that “enlightened moderation” was being promoted instead.

During the 1980s, the IIUI’s prime objective was to teach Sharia during the Afghan war against the Soviet Union.
Professor Malik said that some elements wanted to turn the university into a “Jamat-e-Islami University”, but his stance was different. “Islam has many interpretations and some people of traditional thinking are propagating that I am going to promote an agenda and bring changes in the university culture,” he maintained.
“It is not the Zia era, the political reality has changed and we need the latest knowledge and technology to compete with the world,” he emphasised.

When contacted, presidential spokesperson Farhatullah Babar said that there was no information about the resignation or removal of the rector as far his information is concerned. “We issue the notification and I should have known if there was such a development. I also found out from a news ticker being carried by a TV channel,” he maintained.
Despite repeated attempts, comments from the Saudi embassy could not be obtained.

Latest Comments
  1. Rahat Ali Changezi
    Reply -
  2. Yasin
    Reply -
  3. Yasin
    Reply -
  4. Abbas Zaidi
    Reply -
  5. Omar Khattab
    Reply -
  6. Ali Ibnulajami
    Reply -
  7. Ali Paracha
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

Current ye@r *