Please forgive Dr. Abdul Qadeer Khan – by Laibaah

Source: Pakistan Blogzine

The following statement by Dr. AQ Khan has been recently published in several newspapers:

Instead of criticizing Zardari and Nawaz, Imran must suggest solutions
ISLAMABAD: Dr Abdul Qadeer, a renowned scientist, has said that Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) neither possesses a team nor a party, hence can’t bring about a revolution. Talking to a private TV channel, he said that in other provinces there was anarchy and killings but the Punjab Chief Minister was being targeted over a natural calamity, dengue. Without an appropriate leadership, slogans and rallies are of no use. If the Supreme Court could not investigate the assets, how Imran can do it,” he observed. He termed Imran Khan’s rally as a one man show.

Dr AQ Khan said that the politics of Imran Khan is ‘one man show’ and the people are restless for change in every aspects of life and asked Imran Khan to suggest solution of problems instead of criticising politicians. (Source 1, 2, 3)

The best take away from the above statement is the fact that Dr. AQ Khan does not endorse Imran Khan’s anti-politicians stance and the one-man worship culture of PTI.

As expected, PTI propagandists have started a negative campaign against Dr. AQ Khan.

Haroon-ur-Rasheed’s propaganda:

Haroon-ur-Rasheed in his column in daily Jang (4 Nov 2011) clearly criticizes Dr. AQ Khan alleging that Dr Khan wanted to attend the Lahore rally and that he had advised Imran Khan to accept Dr. Khan despite certain issues (nuclear espionage? proliferation? deception?). However, just before the jalsa, Imran Khan under advice of majority of his PTI colleagues dis-invited Dr. Khan. Haroon-ur-Rasheed then digresses and questions Dr. AQ Khan’s role and services in the field of nuclear technology.

میری معلومات یہ ہیں کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران تیس چالیس اہم شخصیات تحریک انصاف میں شامل ہو سکتی ہیں۔ جہاں تک ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا تعلق ہے، جلسہ عام سے ایک ہفتہ قبل ہی وہ آمادگی کا اظہار کر چکے تھے۔ کپتان نے مجھ سے پوچھا تو مشورہ دیا کہ انہیں قبول کر لیا جائے۔ ان سب چیزوں کے باوجوڈ ڈاکٹر صاحب جن کے مرتکب ہوئے، وہ قومی سلامتی کی ایک علامت ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ خان کے ساتھیوں کی اکثریت نے اتفاق نہ کیا۔ شاید ان سے معذرت کر لی گئی۔ ان کا غصہ فطری ہے۔ آدمی وہ بہت بڑے ہیں۔ ایک سے ایک بڑا خواب دیکھنے والے۔ غیر معمولی یادداشت، حیرت انگیز تحرک اور اپنی ٹیم کو آمادئہ عمل کرنے کی منفرد صلاحیت۔ اپنی ذات گرامی کے سوا مگر کوئی دوسرا انہیں کبھی دکھائی نہ دیا۔ سائنس دان تو خیر وہ ہیں کمال کے، دانشور اور مفکر بھی وہ خود کو سب سے بڑا سمجھتے ہیں۔ اس بات پر آپ نے کبھی غور نہ کیا کہ ہر آدمی کا اپنا میدان ہوتا ہے اور اسی میدان میں اپنے جوہر اسے دکھانے چاہئیں۔ ایٹمی پروگرام کے بائیس مختلف مراحل ہوتے ہیں۔ یورینیم کی افزودگی ان میں سے اہم ترین ہے۔ اسی میں انہوں نے اپنا کارنامہ انجام دیا۔ چاہتے مگر وہ یہ تھے کہ باقی ہر کام کی داد بھی انہی کو دی جائے۔ یہ اعتراض ان کا درست ہے کہ عمران خان کے پاس کوئی ٹیم نہیں۔ سامنے کی بات یہ ہے کہ ٹیم تو اب بنے گی۔ جہاں دیدہ سیاستدانوں میں سے ایک قابل ذکر تعداد جب اس کے ساتھ آ ملے گی۔ اور بتدریج نوجوان تربیت کے مراحل سے گزریں گے، جنہیں آنے والے کل کا منظر نامہ تشکیل دینا ہے

Clearly, HR is counter-blaming a person who dared to ask serious questions about Imran Khan and his team’s credibility. How can Haroon-ur-Rasheed or Imran Khan hope that political turncoats from the “disreputed” parties will bring credibility to PTI? What kind of training will the turncoats impart to the inexperienced lot in PTI?

On the issue of nuclear black market, why did Haroon-ur-Rasheed conveniently ignore that Dr. AQ Khan alone could not be held responsible for the whole proliferation saga. Dr. Khan naively acted as a tool in the International Jihad Enterprise project of Pakistan army. Instead of blaming the military establishment, Haroon-ur-Rasheed is blaming an old man just like General Pervez Musharraf who forced AQ Khan to offer an explanation to release pressure on Pakistan army. Our beloved army backtracked from certain policies after 9/11 and eventually Dr. AQ khan was made a scapegoat.

The fact of the matter is that Imran Khan wanted Dr. AQ Khan to join the PTI, however, when Dr. Khan refused to go by IK whims and wishes suddenly all of the PTI supporters and propagandists got hold of Musharrafian memories of Dr. Khan and his black market connections. What else is called political expediency and hypocrisy? (Source)

Irfan Siddiqi’s rebuttal

Leading pro-PMLN columnist Irfan Siddiqi too has offered a rebuttal to PTI’s allegations against Dr. AQ Khan in his column in daily Jang. Note how he is concerned about the fascist tactics of PTI wallas. Let’s hope he will also direct same advice to hawks in his own party, PMLN.

اس تاثر سے لاتعداد پاکستانیوں کی طرح مجھے بھی بہت دکھ ہوا کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے عمران خان کے جلسہٴ لاہور میں جانے اور تحریک انصاف میں شامل ہونے کی کوشش کی لیکن تحریک کے بعض راہنماؤں نے ایسا نہ ہونے دیا جس پروہ ناراض ہوگئے اور خان صاحب کے انقلاب کے حوالے سے ایک منفی تبصرہ کردیا۔

میرے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں کہ میں اس خبر کے درست یا غلط ہونے کے بارے میں اپنی رائے دے سکوں۔ ممکن ہے ایسا ہی ہوا ہو اور ممکن ہے خان صاحب کے بیان کے ردعمل کے طور پر انہیں تنبیہہ کی گئی ہو کہ اپنی حدود میں رہیں۔ گزشتہ شام میں نے ایک دوست سے، جو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نیازمند ہے، کہا کہ وہ ڈاکٹر صاحب تک میرا پیغام پہنچادیں۔ معلوم نہیں اُن تک یہ پیغام پہنچایا نہیں لیکن میں رات یہ سوچتے ہوئے سویا کہ اس کالم کے ذریعے اُن تک اپنی معروضات ضرور پہنچادوں گا۔

صجدم اخبارات میں ایک خبر رساں ایجنسی کی طرف سے جاری کی گئی خبر پہ نگاہ پڑی۔ خبر تھی۔

”معروف ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا ہے کہ کچھ دوستوں نے سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کی لیکن میں تیرتی ہوئی مچھلی ہوں، کوزے میں بند نہیں ہونا چاہتا۔ خدا نے مجھے عزت، شہرت اور بلندی دی۔ اب یہی خواہش ہے کہ ایمان سلامت رہے ۔ نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ مجھے دوستوں نے سیاست کے میدان میں گھسیٹنے اور اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ تحریک انصاف کے لوگوں نے بھی کئی مرتبہ رابطہ کیا لیکن میں ایک آزاد شہری اور سیدھا سادہ انسان ہوں۔ میں ان چکرں میں نہیں پڑنا چاہتا“۔

مجھے یہ خبر پڑھ کر طمانیت ہوئی۔ اس کے باوجود میں ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں کچھ معروضات ضرور پیش کرناچاہتا ہوں تاکہ سند رہے۔

کبھی کہا جاتا تھا کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ اب بات کہیں آگے بڑھ چکی ہے۔ اب سیاست کے دل میں وفا رہی ہے نہ آنکھ میں حیا۔ آپ نے ایک تخیلاتی انقلاب کے بارے میں ذراسی بات کا ردعمل دیکھ لیا؟ قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ڈاکٹر قدیر خان ایک خود پرست شخص ہے جسے اپنے سوا کوئی دوسرا دکھائی نہیں دیتا۔ اگرچہ آپ نے گزشتہ شام ٹی وی پر بتایا کہ آپ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار عمران خان صاحب کی طرف سے ہوا تھا اور انہی کا ایک پیام بر اس آرزو کا سندیسہ لے کے آیا تھا لیکن دوسری طرف سے عوام کو یہ بتایا جارہا ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان، تحریک انصاف میں شمولیت کا آرزومند تھا لیکن دال نہ گلی جس پر دل برداشتہ ہوکر اس نے انقلاب کی شان میں گستاخی کردی۔ آپ اسے صرف ایک معمولی سی وارننگ سمجھیں۔ ذرا آگے بڑھ کر اگر آپ نے ”انقلاب“ کے حوالے سی کسی جائز خدشے کا اظہار بھی کیا تو یقین جانئے کہ آپ کے گریبان کے تار بھی نہیں ملیں گے۔ برسوں بعد ہماری سیاست میں ایک ایسا فسطائی ذہن، پھن پھیلائے شیش ناگ کی طرح پھنکارنے لگا ہے جو کپتان یا اس کے تصوراتی انقلاب کی شان میں ذراسی بے ادبی کو بھی برداشت نہیں کرتا۔ ہم لوگ تو گالیوں کے عادی ہوچلے ہیں۔ آپ کا اس کوچہٴ رسوائی سے کیا واسطہ

Source

Through this post, I want to ask PTI wallas, General Musharraf wallas and other pro-establishment groupies to forgive Dr. AQ Khan. Dr. Khan’s role in nuclear black market was limited to complying with the direct instructions of the Deep State. Instead of blaming a helpless scapegoat, better muster up a bit of courage and blame the powerful generals sitting in the GHQ.

I will also advise Imran Khan and his visible and closet supporters to refrain from politician-bashing. Fair criticism of politicians is to be welcomed, however, promoting military establishment and its toadies by lopsided criticism of politicians and democracy is not acceptable.

Latest Comments
  1. Abdul Nishapuri
    Reply -
  2. Social Media Watch
    Reply -
  3. Kamran
    Reply -
  4. Janjua
    Reply -
  5. Usman Khan
    Reply -
  6. Shaheryar Ali
    Reply -
  7. Jahanzeb
    Reply -
  8. Faria
    Reply -
  9. annetariq
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>