واحد بلوچ کی بازیابی دیگر جبری گمشدہ افراد کے لیے انصاف کا سبب بنے گی

 

14650120_10211080890046520_9186237526233175137_n

Below is the Unicode Urdu text of report on Irtiqa Symposium. It was one of the fantastic talks I attended today at Irtiqa Institute Karachi where a large number of teachers, writers, students, political and ngo activists came to express their thoughts on Democratic Rights and Missing Persons. Thank you Irtiqa, Kaleem Durrani, Huma Ghaffar and everyone who attended and made it another success in this long struggle for recovery of missing Wahid Baloch. Here is a report on what some said in todays symposium, its in Urdu. I hope Hani’s talk in Awami Workers Party’s Congress tomorrow in Karachi will become the biggest breakthrough in our collective move towards rights and freedom from oppression. Files of my report on todays symposium can be download from here: Inpage file:

https://cdn.fbsbx.com/v/t59.2708-21/14690427_10208960197416893_3071317296459808768_n.inp/IrtiqaReprot.inp?oh=fd57d0d6631c1dbc0a8c23207812a494&oe=5805652E&dl=1

PDF:

https://cdn.fbsbx.com/v/t59.2708-21/14689464_10208960199376942_7952856956203433984_n.pdf/IrtiqaReprot.pdf?oh=fe662150ebc8a263b3478e5871f6b018&oe=5805137A&dl=1

واحد بلوچ کی بازیابی دیگر جبری گمشدہ افراد کے لیے انصاف کا سبب بنے گی

کراچی میں ارتقاءانسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے ذیر ِ اہتمام سمپوزیم سے حانی بلوچ ، ڈاکٹر جمالی، سرتاج خان، راحت سعید، کلیم درانی، ڈاکٹر ہماغفار،زبیر الرحمان اور دیگر دانشوروں کا اظہارِ خیال

ارتقاءانسٹیویٹ کراچی کی جانب سے ۵۱ اکتوبر بروز ہفتہ شام ۶ بجے ایک سمپوزیم کا اہتمام کیا گیا جس میں مقررین نے جبری گمشدی اور جمہوری حقوق کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ پروگرام کا آغاز ارتقاءکے جنرل سکریٹری کلیم درانی کے ابتدائیہ کلمات سے ہوا، انھوں نے ارتقاءکا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ سماج میں بدلتی صورتحال پر دانشوروں اور اہلِ رائے کی رائے کو ترقی پسند نکتہ ِ نظر سے پیش کرتا ہے اور آج ہمارے درمیان حانی اور ماہین بلوچ موجود ہیں جو اپنے والد واحد بلوچ کی بازیابی کے لیے ۶۲ جولائی سے سرگرداں ہیں۔ ان کی جدوجہد نے مسنگ پرسنز کے ایشیو کو ایک بار پھر منظر ِ عام پر لا کھڑا کیا ہے اور ہم انہیں ان کی بہادری پر خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے پروگرام کی صدارت ان دونوں بہنوں سے کرا رہے ہیں۔ اس کے بعد حانی بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے، جن میں بڑی تعداد دانشوروں،ا ساتذہ، سیاسی کارکنان، قوم پرست کارکنان اور نوجوان طالبعلموں کی تھی، کہا کہ واحد بلوچ کی گمشدگی ہمارے پورے گھر کا چین و امن تباہ کر چکی ہے۔

ایک کتاب دوست انسان جو کسی کو دکھ میںنہیں دیکھ سکتا تھا آج اس کو اور اس کے پورے گھر کو دکھی کرنے والے خاموش ہیں۔ واحد بلوچ کی بازیابی کے لیے ہم عدالتوں، تھانوں، وکیلوں کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن شنوائی نہیں ہو رہی۔ میری والدہ کا غم سے برا حا ل ہے، میری دادی شدید بیمار ہیں اورمیں پورے گھر کو دلاسے ہی دے سکتی ہوں۔ واحد بلوچ کی طرح آپ بھی ایک بیٹی کے باپ یا بہن کے بھائی ہوں گے ذرا سوچئیے کہ کل آپ کا واحد اسی طرح جبری گمشدہ کر دیا جائے تو آپ کا کیا حال ہو گا۔ حانی بلوچ نے کہا کہ ہمارا ساتھ انسانی حقوق کمیشن، انسان دوست اور کتاب دوست بہت بڑھ چڑھ کر دے رہے ہیں اور ارتقاءجیسے ادارے کی جانب سے گمشدہ افراد پر یہ سمپوزیم اس بات کی دلیل ہے کہ انسانیت ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے لیے آواز اُٹھا کر ہم گمشدہ کو بازیاب کر ا سکتے ہیں۔

حانی نے کہا کہ لاطینی امریکہ میں آج۰۳ سال قبل گمشدہ افراد کے بھیانک دور کے میوزیم بنائے جا رہے ہیں جبکہ ہم آج یہاں یہ سوال کر رہے ہیں کہ ہمارے بابا کو گمشدہ کیوں کیا گیا۔ ہمارے آج تک یہ بتانے والا بھی کوئی نہیں کہ میرے والد کا قصور کیا تھا۔ ہمیں اسکول کالج میں امن کا درس کیا جاتا ہے کہ امن بھائی چارے کے لیے ضروری ہے تو کیا ہمارے والد کا حال نہ بتانا امن ہے؟ہمیں بتایا جائے کہ ہم اگر مجرم ہیں تو ہمیں بے گناہ طو رپر زندہ رہنے کے لیے کیا کرنا ہو گا۔یہاں کوئی جمہوری حقوق نہیں ہیں۔ میں ہر جگہ انصاف مانگنے کے لیے جگہ جگہ جاتی ہوں تو مجھے انصاف نہیں ملتا۔ بے حس ہو کر سماج زندہ نہیں رہ سکتا۔

حانی بلوچ کی تقریر کے بعد حاضرین میں موجود پروفیسران ، دانشوروں اور سیاسی کارکنوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ حبیب یونیورسٹی کے ڈاکٹر حفیظ جمالی نے اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ آج مسنگ پرسنز کا مسئلہ پورے ملک میں کئی طرح کے لوگوں کا مسئلہ بن چکا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں اور یہ کہنا غلط ہے کہ عکسریت پسند بلوچ گمشدہ ہو رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ آج ہر بلوچ کا قریبی دوست کلاس فیلو یا کوئیعزیز غائب نہ کیا گیا ہو۔ جبری طورپر گمشدگی نے بلوچستان میں خوف کی فضاءطاری کر دی ہے۔ بلوچستان میں کوئی نوجوان ایسا نہیں ہے کہ جسے ٹارچر سیل کے خواب نہیں آتے ہوں، جسے جبری گمشدگی کا خوف نہ ہو۔

انہوں نے اپنی پی ایچ ڈی ریسرچ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ریسرچ ماہی گیروں سے متعلق تھی اور اس کا مسنگ پرسنز سے کوئی تعلق نہ تھا لیکن اس وقت عالم یہ تھا کہ ماہی گیر کراچی جانے سے اس لیے ڈرتے تھے کہ انہیں رستے میں بس سے اتار کر اُٹھا لیا جائے گا۔لوگ گوادر شہر کی جانب سے گھبراتے تھے کہ انہیں چیکنگ کے بہانے اُٹھا لیا جائے گا۔ ڈاکٹر جمالی نے حانی اور ماہین کو خراجِ تحسین پیش کیا کہ ان کے آگے آکر اپنے بابا کی بازیابی کی صدا نے اس خوف بھری خاموشی کو توڑا جو جبری گمشدہ افراد کے وارثین پر طاری کر دی گئی تھی۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے طالب علم جواد نے کہا کہ جبری گمشدگی کا شکار ہر قوم کے لوگ ہو رہے ہیں اور حق مانگنے پر سزاﺅں میں گمشدہ ہونا بھی قرار پا چکا ہے۔

ہمیں واحد بلوچ کی بازیابی کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے تحریر، تقریر، احتجاج سب جمہوری طریقوں کو استعمال کرنا ہو گا تا کہ جبری گمشدہ افراد کی تحریک کو آگے بڑھایا جا سکے۔ انقلابی سوشلسٹ کے رہنما سرتاج خان نے کہا کہ دریائے سندھ کے مغرب کے علاقے میں پسماندگی کو دور کرنے کے نام پر خطے پر سرمایہ دارانہ قبضہ کی ریاستی مہم کا شکار وزیرستان سے لے کر کراچی تک کے عوام ہو رہے ہیں۔ ریاست کا بیانیہ ترقی ہے اور جو کوئی ترقی کے پروجیکٹوں کی یلغار سے اپنی دربدری اور پسماندہ تر ہونے پر سوال اُٹھاتا ہے تو اسے غدار، دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے۔ سیاسی کارکن پریم لال نے کہا کہ واحد بلوچ ایک انسان دوست شخص ہے اور اس کی گمشدگی کے خلاف تحریک ایک شخص تک محدود ہو کے آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ ہی یہ غیر سیاسی رہ کر کوئی مقصد حاصل کر سکتی ہے، انہوں نے سماجی تنظیموںپر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے زریعے سیاسی حقوق کا حصول ایک محدود پروجیکٹ ہی رہے گا۔

انجمن ترقی پسند مصنفین کے راحت سعید نے کہا کہ واحد بلوچ کی بازیابی کی تحریک دراصل دیگر جبری گمشدہ افراد کو حوصلہ دے رہی ہے اور واحد کی بازیابی ہی جبری گمشدگی کے استعمال کو روکنے کا واحد طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ادیب اور شاعر بات کہنے اور بات سننے کے حق کو پامال ہوتا نہیں دیکھ سکتے کیونکہ یہی سماج کو پارہ پارہ کر دینے والوں کی خواہش ہے۔ انہوں نے کہا کہ واحد بلوچ نے اگر کوئی غلط کام کیا ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے اور اپنے لواحقین سے ملنے کا حق دیا جائے ۔ انسانی حقوق کمیشن کراچی کے عبدالحی نے انسانی حقوق کی پامالی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ واحد بلوچ جیسے اشخاص کو ہی نشانہ بنا کر خوف کا ماحول پیدا کیا جا رہاہے اور جب سے حکومت نے جبری گمشدگی پر کمیشن قائم کیا ہے تب سے سپریم کورٹ نے جبری گمشدگی پر انسانی حقوق کمیشن کے کیس کو خارج کر دیا ہے لیکن پھر بھی انسانی حقوق کمیشن جبری گمشدگی کا شکار افراد کے لیے سرگرم ِ عمل ہے۔

انہوںنے کہا کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں افراد کو اپنے بنیادی انسانی حقوق کے لیے آواز اُٹھانی ہو گی اور انسانی حقوق کمیشن ان کو اپنے ساتھ پائے گا۔ سوشل میڈیا سے وابستہ سماجی کارکن عاصم جان نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ بلوچ، سندھی، اردو، گلگت، کشمیر کے علاوہ پنجاب میں بھی انجمنِ مزارعین کے افراد کو گمشدہ کیا جاتا ہے اور نو گیارہ کے بعد سے ہزاروں افراد کو پنجاب میں بھی گمشدہ کیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پورے پاکستان میں ریاست اپنا ہی قانون کیوں تسلیم نہیں کر رہی اور جو قانون ہیں ان کی اپنی نوعیت طبقاتی ہے ، اس لیے ہمیں بڑے پیمانے پر سماجی انصاف کے لیے لڑنا ہو گا۔ ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس کی متحرک کارکن نغمہ شیخ نے کہا کہ ارتقاءمیں آج موجود سندھی ، پشتون، مارکسی ، جمہوری کمپوزیشن آج یہ کمٹ کرے کے ہم اس تحریک کا اُس وقت تک حصہ بنے رہیں گے جب تک واحد بلوچ کو رہا نہ کیا جائے۔

ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ جبری گمشدہ کرنے والے اس لیے گرفتاری کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ انہیں خوف ہے کہ ان کی باز پرس ہو گی۔ حانی بلوچ آج اپنا پیغام لے کر آئی ہے اور ہمیں اس کے پیغام کو اپنانا ہو گا۔ لیاری سے تعلق رکھنے والے ادیب امداد حسین نے لیاری کی صورتحال بتاتے ہوئے کہا کہ لیاری میں گمشدہ افراد اور ماورائے عدالت قتل ہونے والوں کی تعداد سینکڑوں نہیں ہزاروں میں ہے اور ان میں بہت بڑی تعداد سیاسی کارکنوں اور قوم پرست کارکنوں کی ہے۔

عوام کو اس قدر خوفزدہ کر دیا گیا ہے کہ وہاں ٹیوشن سینٹرز تک بند ہیں۔ گینگ وار کے نام پر کتنے گھر اجڑے ہیں جہاں بلوچ ہی نہیں سندھی اور کچھی بھی ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن نے واحد بلوچ کے لیے آواز اُٹھائی ہے اسے سراہنے کی ضرورت ہے۔ تمام سیاسی پارٹیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو لیاری آنے کی ضرورت ہے جہاں ہم انہیں بتائیں گے کہ کس طرح لیاری میں نسل کشی کی گئی ہے۔ واحد بلوچ ایک عام شخص تھاجسے اُٹھایا گیا جبکہ لیاری میں ایسے بچوں کو آپریشن کے نام پر قتل کر دیا گیا جنہوں نے کبھی کسی گینگ وار کے کارندے کے ساتھ پان کھایا تھا۔ یہ ظلم بھی سامنے لانے کی ضرورت ہے۔کراچی یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر ریاض احمد نے کہا کہ گمشدہ کرنے کا مقصد حق بات کرنے والوں کو خوفزدہ کرنا ہے لیکن جو گمشدہ کرتے ہیں وہ جب مانتے نہیں تو یہ ان کا اپنا خوف ہے جو سامنے آتا ہے۔

سامراجی پروجیکٹوں کے ساتھ انتہائی خونریز جنگ میں ہمارا سماج پھنس چکا ہے، اس جنگی صورتحال میں بنیادی انسانی حق یعنی بات کہنے اور سننے کے حق کی بات کر کے ہی ہم بڑھتی ہوئی ریاستی اور غیر ریاستی بربریت کے سامنے انسانی چہرے کا متبادل پیش کر سکتے ہیں۔ ہمیں واحد بلوچ بازیابی تحریک کو تیزکرنے کے لیے سوشل میڈیا اور میڈیا کو استعمال کرنا ہوگا اور آپسی رابطے کو بڑھانا ہو گا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ بازیابی اور انصاف کے بنیادی حق کے لیے اس تحریک کا حصہ بن سکیں اور ایک دن ہم کراچی میں جبری گمشدگی کے خلاف ہزاروں افراد کو جمع کر سکیں۔

اس گفتگو کے دوران حاضرین نے ارتقاءانسٹیٹیوٹ کی جانب سے کلیم درانی نے آخیر میں حاضرین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انتہائی پرمغز گفتگو کر کے سمپوزیم کے مقاصد یعنی جمہوری حقوق اور جبری گمشدہ افراد جیسے اہم مسئلے پر روشنی ڈالی۔ آخیر میں حاضرین کی بڑی تعداد نے حانی اور ماہین کی جدوجہد کے احترام میں انہیں کھڑے ہو کر خراج ِ تحسین پیش کیا اور واحد بلوچ کی بازیابی کے پوسٹر پٹیشن پر اپنے دستخط کر کے اظہارِ یکجہتی کیا۔

رپورٹ: ریاض احمد

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*