بے نظیر کا وژن – عامر حسینی

Benazir-Bhutto-Shaheed-HD-Images-Unique-Pics-And-College-Life-Pix-3

 

 

بے نظیر بهٹو اس گفتگو میں یہ بهی بتارہی ہیں کہ ان کے اپنے گهر کے اندر روائت پسندی سے ابهر کر آنے والی قدامت پرستی نے ان کی والدہ کو مجبور کیا کہ وہ بے نظیر بهٹو کو برقعہ اوڑهنے کو کہیں ، اس کے بعد بے نظیر بهٹو کس کیفیت سے گزریں اور ان کے والد نے کیسے ان کو قدامت پرستی کو ترک کرنے اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی ترغیب و ہمت دی اس کا تذکرہ بهی اس دوسرے حصے میں موجود ہے-

بے نظیر بهٹو کہتی ہیں کہ وہ 16 سال کی تهیں جب وہ آکسفورڈ پڑهنے کے لیے روانہ ہوئیں اور یہ ایک مرتبہ پهر زوالفقار علی بهٹو کی زات تهی جس نے ان کو کہا کہ ان کو باہر جاکر پڑهنا چاہئیے اور بے نظیر بهٹو اس زمانے کی سیاسی و سماجی فضاء پہ روشنی ڈالتی ہیں جس فضاء میں وہ آکسفورڈ پہنچی تهیں ، ویت نام وار میں امریکی حکومت کے کردار کے خلاف زبردست شہری تحریک تهی جس کا امریکی طلباء و طالبات بهی بڑا حصہ تهے ، آکسفورڈ ئونیورسٹی میں اسٹوڈنٹ ایکٹوازم بہت زیادہ تها ، عورتوں کے حقوق کے حوالے سے بہت گرم بحث و مباحثہ تها ،

ایک فنکشنل ڈیموکریسی ، عوام کو جواب دہ ، اینٹی وار موومنٹ ان سب نے بے نظیر بهٹو کے شعور پہ اپنا اثر ڈالا اور بے نظیر بهٹو چاہتی تهیں کہ ایسی ہی فنکشنل ڈیموکریسی ان کے ملک میں بهی ہونی چاہئیے ، بے نظیر بهٹو 1977ء میں ملک واپس لوٹیں تو ان کے مطابق یہاں ویسی گروہ بندی تهی جیدی 1947ء سے چلی آرہی تهی اور سب ہی ادارے شکست و ریخت کا شکار تهے ، ایک ہی ادارہ منظم اور طاقتور تها اور سب پہ غالب وہ فوج تها ، بے نظیر بهٹو کہتی ہیں کہ پاکستان جاکر انہوں نے دو طرح کے پاکستان دیکهے بہت امیر ، بہت ہی غریب ، بے نظیر بهٹو کہتی ہیں کہ ان کے والد کہتے تهے کہ یہ خلیج ناقابل قبول ہے

بے نظیر بهٹو پی پی پی کے قیام سے لیکر بهٹو کے اقتدار میں آنے اور پهر ضیاء الحق کے مارشل لاء لگانے کی کہانی بیان کرتی ہیں جس رات مارشل لاء لگا تو بهٹو نے ضیاء کو فون کیا ضیاء نے معذرت کی اور کہا کہ مجبوری میں یہ اقدام اٹهانا پڑا جلد ہی الیکشن ہوں گے اور آپ پهر پاور میں ہوں گے میں نے بابا کو کہا کہ سب جلد ٹهیک ہوجائے گا ، بهٹو نے کہا بیوقوف مت بنو ، جنرل اقتدار واپس کرنے کے لیے انتہائی بغاوت کا قدم نہیں اٹهاتے پهر بهٹو پهانسی تک قید کردئے گئے ، میں نے ان سے آخری ملاقات کی تو ان کے ہاته میں سگار تها جو آخری ہی بچا تها لیکن ان کے هاته کپکپا نہیں رہے تهے ، وہ بہت پرسکون تهے ،

بہت بہادر اور عزم و ہمت کے نشان والے ، وہ اس وقت بہت پرسکون تهے جب ان کو معلوم تها کہ چند گهنٹے بعد ان کو تختہ دار پہ چڑهادیا جائے گا  مرتضی بهٹو کا ایک کلپ بهی ہے اس میں اس سے آگے بے نظیر بهٹو پاکستان کی تباہی کی شروعات پہ روشنی ڈالتی ہیں کیسے ضیاء الحق نے جمہوریت اور اس ملک کی عوام کو دبانے کے لیے بنیاد پرستوں ، اسلامی امتہا پسندوں کے ساته اتحاد بنالیا اور وہ کہتی ہیں کہ ان کے والد نے جو پیشن گوئی کی تهی وہ اتنی جلدی ہمارے سامنے سچ ثابت ہوگی اس کا ان کو اندازہ ہی نہیں تها  ضیاء کا دور سیاسی جبر کا ہی زمانہ نہیں تها بلکہ یہ ہر ایک شعبے میں جبر کا زمانہ تها

 

بے نظیر بهٹو اس تیسرے حصے میں 80ء سے لیکر 90ء اور پهر نائن الیون تک کے اس ضیاء الحقی اسلام کی تباہ کاریوں کی داستان سناتی ہیں جس کی تباہی کا عروج ہم دیکه رہے ہیں ، بے نظیر بهٹو نے پہلے حصے سے واضح کیا تها کہ اس ملک میں ایک وژن تو تها جناح ، بهٹو اور خود بے نظیر بهٹو کا ، دوسرا وژن تها قدامت پرستوں ، بنیاد پرستوں ، جاگیرداروں ، سرمایہ داروں ، ملاوں کا جو اقلیت میں تهے لیکن ان کو ایک طرف تو خود پاکستان کے سب سے منظم اداروں کے اندر سے سپورٹ ملتی رہی اور پهر جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں جب سوویت افواج افغانستان داخل ہوئیں تو جنرل ضیاء الحق ، دیوبندی و سلفی مولوی ، سعودی عرب اور امریکی سی آئی اے نے ملکر ایک نام نہاد “جہادی ایمپائر ” تشکیل دی اور اس کا سب سے بڑا ستون پاکستان کے اندر بننے والے وہ جہادی مدارس تهے

جن کو بی بی “سیاسی مدرسے ” کہتی ہیں اور بی بی صاف کہتی ہیں کہ یہاں بچوں کو پڑهایا جارہا ہے کہ تم ہندو ، یہودی ، مسیحی ، شیعہ کو ماردو جو تمہاری آئیڈیالوجی کو نہیں مانتے ، ہر اس فرد کو مارڈالو جو تمہارے تصور اسلام کو نہیں مانتا- بے نظیر بهٹو واضح کرتی ہیں کہ ایک طرف پاکستان کے اندر یہ رجعتی ، بنیاد پرست قوتیں تهیں تو دوسری طرف عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت تهی جو جمہوریت ، روشن خیالی ، مساوات ، برابری کے ساته کهڑی تهی اور اس کا خیال تها کہ ان کے مسائل کا حل ملائیت کے نام نہاد جہاد میں نہیں بلکہ بهٹو کی سیاست کے پاس ہے اور بے نظیر بهٹو اس سلسلے میں اپنی 6 اپریل 1986ء کو لاہور واپسی پہ ہوئے استقبال اور 88ء کے الیکشن میں بے مثال کامیابی کا حوالہ دیتی ہیں اور یہ بهی بتاتی ہیں کہ کیسے ملائیت ان کی حکمرانی کے خلاف متحد ہوگئی ” وہ مرے عورت ہونے کی وجہ سے مرے وزیراعظم بننے کی مخالفت کررہے تهے ، اب میں ان کو اس کا کیا جواب دیتی ، وہ مجه سے مری “صحت کی پالیسی ” پہ بات کرتے تو میں جواب دیتی ، لیکن تاہم مرے سپورٹر عوام مرے ساته تهے ، ان کو مرے “عورت” ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں تها- “

بے نظیر بهٹو واضح کرتی ہیں کہ وہ ان تمام مدرسوں کے خلاف کاروائی کرنے کے حق میں تهی جو منافرت پہ مبنی ، فرقہ وارانہ اور انتہاپسندانہ سیاست کررہے تهے وہ طالبان کے افغانستان میں برسراقتدار آنے کو بهی اسی کا تسلسل دیکهتی تهیں ، ان کی حکومت ختم کردی گئی- اور پهر جب وہ دبئی میں خودساختہ جلاوطنی کاٹ رہی تهیں تو نائن الیون ہوگیا

 

اس آخری حصے میں بے نظیر بهٹو واضح کرتی ہیں کہ ایک طرف تو مڈل ایسٹ میں عالمی قوتیں فلسطین سمیت کئی ملکوں سے ہونے والی ناانصافی کو ختم نہ کرسکے اور تنازعات کا حل نہ نکل سکا ، دوسری طرف نائن الیون کے بعد انتقامی طور پہ جو چڑهائی کی گئی اس سے سویلین اور انفراسٹرکچر ہی متاثر ہوا اور اس پالیسی نے دہشت گردوں اور ان کے نظریہ سازوں کی مزید مدد کی جبکہ مغرب کے اندر بجائے اس کے کہ دہشت گردوں کو اسلام اور مسلمانوں کا نمائندہ نہ خیال کیا جاتا الٹا تمام مسلمانوں سے ہی خوف پیدا ہوگیا –

سمجها یہ جانے لگا کہ اسلام تکثریت ، جمہوریت ، شہری آصادیوں کے خلاف ہے ، جبکہ میرا وژن یہ ہے کہ اسلام جمہوریت ، تکثیریت ، شہری آزادیوں کے خلاف نہیں ہے ، بے نظیر بهٹو کہتی ہیں کہ وہ پاکستان جاکر پاکستانی ریاست کو اسی وژن کے مطابق ڈهالنا چاہتی ہیں افسوس بے نظیر بهٹو کو انہی قوتوں نے شہید کرڈالا جو اسلام کے امیج کو بگاڑنے اور اسلامو فوبیا کو طاقتور بنانے کی زمہ دار تهیں ، پاکستان میں تهیوکریسی ، ملائیت اور اس کا بدترین پہلو تکفیریت بہت طاقتور ہوچکا ہے اورملٹری اسٹبلشمنٹ علاقائی تنازعوں میں ایک بار پهر “جہادی پراکسیز ” کو آگے رکهکر اپنے آپ کوبحران سے نکالنا چاہتی ہے


امریکی-بهارتی-ایرانی-افغانی جهنڈے جلانے والے خود کو پاکستان کا محافظ اسی طرح سے بتلارہے ہیں جیسے وہ 80ء اور 90ء کی دهائی میں بتاتے تهے اور ملک میں ان کے هاتهوں احمدی ، شیعہ ، ہندو ، کرسچن اور لبرل و جمہوریت پسند پس رہے ہیں- مغرب ہو کہ علاقائی طاقتیں جیسے چین وہ مختلف پراکسیز پہ ہی هاته رکهے ہوئے ہے اور پاکستان اب بے نظیر بهٹو جیسی وژن رکهنے والی سیاسی شخصیت سے محروم ہے-ویسے پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت اگر چاہے تو ان چار حصوں پہ مبنی بے نظیر بهٹو کی گفتگو سے ہی اپنی سیاست کے تن مردہ میں روح پهونک سکتی ہے

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*