صحابہ معصوم نہیں، ان سے اختلاف کرنا کوئی جرم نہیں – قاری حنیف ڈار

10171748_787590181385671_1219714543490235798_n

فتوے کی بجائے دلیل کی راہ اختیار فرمائیں ،،

مذھب میں بگاڑ بھی بڑے لوگوں کی وجہ سے آتا ھے چھوٹے تو اس بگاڑ کی سالگرہ اور برسی منایا کرتے ھیں ،، غزوہ احد میں 70 صحابہؓ کی شہادت کا باعث نبئ کریم ﷺ کی ھدایت کی خلاف ورزی تھی ،، گویا نبئ پاک کے حکم کی خلاف ورزی صحابہؓ بھی کریں تو وبال لازم آتا ھے اور بہت بڑا آتا ھے ،،

حضرت عمرؓ نے اس معاملے میں نہایت سخت رویہ اختیار کیا تھا اور صحابہؓ میں اختلاف پر سخت رد عمل دیا اور ان الفاظ کے ساتھ دیا کہ اگر تم جو نبی ﷺ کے اتنے قریب ھو اور آپﷺ کی صحبت کے اعزاز یافتہ ھو اگر تم لوگ ھی اختلاف کرو گے تو بعد والے کیا کچھ نہیں کریں گے ؟

– ولا تکونوا کالذین تفرقوا واختلفوا من بعد ما جاءھم البینات ،، کا حکم سب سے پہلے صحابہؓ کو دیا گیا ،،
– واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا ،،، سب سے پہلے صحابہؓ کو کہا گیا ،،
– حديثُ جَريرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ في حَجَّةِ الْوَداعِ: (اسْتَنْصِتِ النَّاسَ، فَقالَ: لا تَرْجِعُوا بَعْدي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقابَ بَعْضٍ). متفق عليه.
حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ھے کہ حجۃ الوداع پر نبئ کریم ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ لوگوں کو چپ کراؤ ،،پھر فرمایا کہ ” میرے بعد کافر مت ھو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو ،، متفق علیہ
– حديثُ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: (وَيْلَكُمْ أَوْ وَيْحَكُمْ، لا تَرْجِعُوا بَعْدي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقابَ بَعْضٍ). متفق عليه.
ابن عمر روایت کرتے ھیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بربادی یا بدبختی کو آواز مت دینا ،میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کر کافر مت ھو جانا

مگر یہ سب خلاف ورزیاں ھوئیں ،، کس نیت سے ھوئیں یہ فیصلے حشر میں ھوں گے مگر ان میں سے ایک ایک حکم کی خلاف ورزی ھوئی ،، حضور ﷺ نے اختلاف کو مذھبی اختلاف نہیں کہا بلکہ سیاسی اختلاف سے بھی منع کیا ،، اور سیاسی اختلافات ھوئے ،، ان سے قبائیلی انداز میں ھی نمٹا گیا ،،، دو چار ھزار کی بات نہیں لاکھوں مارے گئے اور صدیوں تک مارے جاتے رھے ،، گویا یہ اختلاف پارہ چنار یا جھنگ اور نجف سے نہیں اٹھا ،،یہ اوپر سے نیچے آیا ھے ،، نیچے سے اوپر نہیں گیا ،، اگر ڈسکس کرنا ھے تو پھر اوپر سے ھی شروع ھو گا ،، اوپر کی خرابیوں کو قانونی تحفظ نہ اللہ نے دیا ھے اور نہ رسول ﷺ نے دیا ھے اور نہ اس ڈسکشن سے کوئی کافر ھوتا ھے ،عجیب بات ھے کہ قتل کرنے والا کافر نہیں ھوتا جس کو رسولﷺ نے سامنے بٹھا کر کہا تھا کہ قتل کر کے کافر مت ھو جانا ،، مگر اس قتل کا ذکر کرنے والا کافر ھو جاتا ھے یہ کونسی لاجک ھے ؟ صحابہؓ ھمیں جان سے پیارے ھیں مگر اللہ ، اللہ کا رسولﷺ اور اللہ کا دین ھمیں سب سے پیارے ھیں ،، صحابہ معصوم کبھی نہیں تھے وہ ھماری طرح کے انسان تھے جن کو اللہ کے رسول ﷺ نے چمکایا ان پر اللہ کی آیات تلاوت کیں اور ان کا تزکیہ کیا ،، ان سے جب جب غلطی ھوئی اس کے بارے میں قرآن بھی نازل ھوا اور نبئ کریم ﷺ نے فوری خطبہ دے کر اس کی نشاندھی بھی کی اور آئندہ احتیاط کی تلقین بھی کی ،، جو لوگ صحابہؓ کو نبی معصوم سمجھتے ھیں خود ان کو اپنے ایمان کا جائزہ لینے کی ضرورت ھے ،،

جو یہ سمجھتے ھیں کہ اسلام میں دو کلاسز ھیں ایک ایلیٹ کلاس جس کی غلطیوں کو مکمل تحفظ حاصل ھے اور ان کے گناہ کو بھی ثواب ھی سمجھا جائے قاتل کو رضی اللہ عنہ کہا جائے ،، البتہ ایک ھم جیسی شودر کلاس بھی اسلام میں پائی جاتی ھے جو اپنی داڑھی بھی کالی کر لے تو جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے ، جو التحیات میں ھاتھ کی انگلیاں گھٹنے پر سے لٹکا لے تو 40 سال تک جھنم میں لٹکایا جائے ،، عورت خوشبو لگا لے تو زنا کی مجرم گردانی جائے ،، یہ سارے ڈراوے یہ سارے تندور ھم جیسے مسکینوں کے لئے ھی ھیں ،،

جبکہ حقیقت یہ ھے کہ رب قدیر عادل ھے اس نے جتنی نمازیں صحابہؓ پر فرض کیں بس اتنی ھے ھم جیسوں کے لئے کیں ،، اگر ھمارے لئے سنگسار رکھا تو پہلے صحابہؓ سنگسار ھوئے ،ھمارے لئے ھاتھ کاٹنے کی سزا رکھی تو پہلے صحابہؓ پر ھی لاگو ھوئی، بھتان پر 80 کوڑے رکھے تو پہلی بار حضرت حسان بن ثابتؓ ، مسطح ابن اثاثہؓ بدری صحابی اور نبئ کریم ﷺ کی پھوپھی زاد بہن اور سالی حضرت حمنہ بنت جحشؓ پر سب سے پہلے ان کو لاگو کیا ،، جس نے نبئ کریم ﷺ سے جھوٹ بولا اس کو صحابیؓ ھوتے ھوئے بھی سورہ الحجرات میں فاسق کہا ،، نبئ کریم ﷺ کو خطبے کے دوران کھڑا چھوڑ کر تجارتی قافلے کی طرف چلے جانے والوں کو ڈانٹ پلانے کے لئے قرآن نازل کر کے کلاسیفائیڈ نہیں کیا بلکہ قیامت تک کھلے عام پڑھنے کے لئے محفوظ بھی کر دیا

آؤ دلیل سے بات کرتے ھیں ثابت کرو کہ صحابہؓ کے معاملات کو ڈسکس کرنا کفر ھے ،، اور قرآن سے وہ ساری آیات نکال دو جن میں خاص طور پر صحابہؓ کو ھی ڈسکس کیا گیا ھے ،، اگر وہ ھمارا اسوہ ھیں ، ھمیں ان کی راہ چلنا ھے تو پھر چھان پھٹک کر چلنا ھو گا ، اندھا دھند ھم صرف نبئ کریم ﷺ کے پیچھے ھی چل سکتے ھیں کہ آپ ﷺ معصوم ھیں اور اللہ پاک نے ھمیں آپ کی اندھا دھند اطاعت کا حکم دیا ھے ، باقی ھر ایک سے غلطی ھوتی ھے اور ھمیں اس غلطی کے اتباع کا حکم نہیں دیا گیا ،، اس صحابیؓ کمانڈر کی طرح جس نے غصے میں اپنے لشکر کے سپاہیوں کو دھکتی آگ میں داخل ھونے کا حکم دے دیا تھا ،جس پر کچھ تو داخل ھونے کے لئے تیار ھو گئے جبکہ کچھ نے اعتراض کیا کہ ھم تو آگ سے بچنے کے لئے اسلام میں داخل ھوئے تھے ،پھر بھی آگ ھی ھمارا مقدر کیوں ٹھہری؟ اسی بحث میں کمانڈر کا غصہ ٹھنڈا ھو گیا اور اس نے حکم واپس لے لیا ،مگر جب بات نبئ کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ اپنے امیر کی اطاعت میں آگ میں داخل ھونے کو تیار ھو گئے تھے ، اگر وہ واقعی داخل ھو جاتے تو قیامت تک اس آگ میں رھتے ،” لا طاعۃ لمخلوقٍ فی معصیۃ الخالق ،، خالق کی نافرمانی میں مخلوق میں سے کسی کی اطاعت بھی واجب نہیں ،،،

صحابہؓ کے سیاسی اختلاف پر بعد والے بھی اختلاف کرتے آئے ھیں اور ان کی آراء سے کتابیں بھری پڑی ھیں ،، اب بھی اختلاف ھوتا ھے اور قیامت تک ھوتا رھے گا

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*