حامد سعید کاظمی کا مؤقف کیا ہے؟ – عثمان غازی

13327644_10154218360134561_2693927604847383559_n

سعودی حکومت نے 2009میں حج کے اتنے ناقص انتظامات کئے کہ ہرجانہ ادا کیا اور یہ ہرجانہ حجاج میں تقسیم ہوا

غلطی سعودی حکومت نے کی اور سات سال بعد اس کی سزا پاکستانی وزیر کو مل گئی

پاکستان کی جانب سے سعودی حکومت کو ناقص انتظامات پہ نوٹس جاری کرنا بھی اس سلسلے کا ایک اہم واقعہ ہے

کیا حامد سعیدکاظمی مولویوں کی مسلکی لڑائی کا شکار ہے؟

اگر اس نے کرپشن کی تو ہرجانہ سعودی حکومت نے حاجیوں کو کیوں دیا؟

کیا سعودی حکومت سے مذہبی تعلیم کا ایم او یو سائن نہ کرنا سعودی شہزادے کے اس خط کی وجہ بنا جو اس نے حامد سعید کاظمی کے خلاف پاکستان کے چیف جسٹس کو لکھا؟

سوموٹو لینے والے چیف جسٹس کا یہ شاید پہلا مقدمہ ہے، جس کا سزا کی صورت میں کوئی نتیجہ نکلا

سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کو 16برس قید کی سزا ہوگئی، پاکستان میں کرپشن کے اس دلچسپ کیس میں سعودی حکومت بھی فریق ہے

سعودی شہزادے بندر بن خالد بن عبدالعزیزالسعود نے اس وقت کے پاکستان میں چیف جسٹس کو طالبان مخالف علامہ کاظمی کے خلاف خط لکھا اور انہوں نے سوموٹو ایکشن لے لیا

حامد سعید کاظمی پر الزام ہے کہ انہوں نے 2009 میں دوران حج ناقص 11عمارتیں ایک کروڑ ریال دے کر کرائے پر لیں اور یہ استعمال نہیں کی گئیں

حامد سعید کاظمی کے مطابق جبل ہندی کی جن عمارتوں کے حوالے سے ان پر الزام لگایا گیا، وہ ہر سال کرائے پر لی جاتی ہیں مگر استعمال کی نوبت نہیں آتی کیونکہ سعودی حکومت کا قانون کے کہ حاجیوں کی کل تعداد سے ایک فیصد زیادہ رہائش کا انتظام رکھا جائے

اس کیس میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ سعودی خط میں کہا گیا ہے کہ حاجیوں کو ان عمارتوں میں بھیج کر زیادہ کرایہ وصول کیا گیا جبکہ علامہ کاظمی کے مطابق یہ عمارتیں سرے سے ہی استعمال نہیں ہوئیں

دلچسپی کی بات یہ ہے یہ عمارتیں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا مکی کی ملکیت ہیں اور وہی ہر سال ان کا کرایہ بطور نذرانہ لیتے ہیں

جب ان عمارتوں کو کرائے پر لینے کے حوالے سے کرپشن کے الزامات لگے تو حامد سعید کاظمی نے ایک ہائرریویو کمیٹی خود بنائی تھی اور ایف آئی اے علامہ کاظمی کو تمام الزامات سے بری الذمہ قرار دے چکی تھی

دو ہزار نو میں حجاج کو 25ہزار روپے کی رقم کی واپس کی گئی تھی حامد سعید کاظمی کو سزا ہوگئی ہے اور اب شاید نظرثانی فیصلے میں یہ سزا کالعدم بھی ہوجائے مگر سوال ضرور اٹھیں گے کہ کرپشن کے خلاف تحقیقات کے نتیجے میں انتہاپسندی کے مخالف ایک ہی طرز فکر کے لوگ چاہے وہ مذہبی ہی کیوں نہ ہوں ۔۔ آخر کیوں سزاوار ٹہرتے ہیں

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*