خرم زکی : مذهبی ہم آهنگی کا داعی اور تکفیریت کے خلاف شمشیر برہنہ

13177295_126031097803010_3024719773291915749_n

خرم زکی مدیر بلاگ تعمیر پاکستان کی شہادت کے بعد جس قسم کا ردعمل پوری دنیا سے سامنے آیا ہے اس نے تکفیری دیوبندی -سلفی دہشت گردی کے کهلے حامیوں ، نظریہ سازوں کو تو بوکهلا ہی دیا ہے ساته ساته تکفیری دیوبندی دہشت گردی کو سیکولر ازم ، لبرل ازم اور مارکس ازم کے جهنڈے میں لیپٹ کر زندگی دینے کی کوشش کرنے والوں کو بهی سخت پریشان کرڈالا ہے

پاکستان کے اندر مذهبی دہشت گردی کے 99 فیصدی واقعات میں تکفیری دیوبندی تنظیمیں اور ٹولے ملوث ہیں اور یہ بات ابتک کی ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کے فالو اپ سے دیکهی جاسکتی ہے

خرم زکی جس بلاگ کے مدیر تهے وہ بلاگ عرصہ دراز سے یہ موقف رکهتا آیا ہے کہ پاکستان کے اندر شیعہ ، سنی بریلوی اعتدال پسند دیوبندی ، معتدل اهلحدیث ، کرسچن ، احمدی اور لبرل و پروگریسیو حلقوں ، لبرل سیاسی رہنماوں کے خلاف دہشت گردی میں دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکهنے والی تکفیری ،خارجی تنظیمیں ہیں اور اس بلاگ نے شروع دن سے اس بات پہ زور دیا کہ پاکستان میں صوفی سنی ، شیعہ ، ہندو، احمدی ، کرسچن اور دیگر مذهبی برادریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے والا ایک اقلیتی ٹولہ ہے جس کی شناخت تکفیریت ہے اور اس کا جنم زیادہ تر دیوبندی مکتبہ فکر کے اندر سے ہوا اگرچہ اس ٹولے میں کئی ایک لوگ اہلحدیث فرقے ، جماعت اسلامی ، جماعت دعوہ ، کشمیری عسکریت پسند گروپوں سے ٹوٹ کر بهی شامل ہوئے اور اس ٹولے کے کئی اراکین کے پاس دوهری رکنیت بهی ہے یعنی ایک طرف تو یہ پاکستان میں دہشت گردی کے مرتکب تکفیری دیوبندی گروپوں کی ممبرشپ رکهتے ہیں

دوسری طرف یہ افغانستان ، کشمیر اور دیگر علاقوں میں سرگرم گروپوں کی رکنیت بهی رکهتے ہیں اور ان میں سے کئی ایک مین سٹریم دیوبندی ، سلفی اور جماعت اسلامی ، تبلیغی جماعت وغیرہ کی رکنیت بهی رکهتے ہیں ، تعمیر پاکستان بلاگ نے تکفیری دہشت گردوں کی هیت اور ان کی شناخت کا پوسٹ پارٹم کیا اور اس حوالے سے انهوں نے ان لوگوں کو چیلنج کیا جو پاکستان میں مذهبی دہشت گردی کے متاثرین کے مذهبی ڈائی سپورا کو یک رنگی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرنے میں مصروف تهے ، تعمیر پاکستان بلاگ نے سب سے پہلے یہ سوال اٹهایا کہ اگر سپاہ صحابہ / اہلسنت والجماعت -لشکر جهنگوی سے لیکر پاکستانی طالبان اور اس کے دهڑے سنی شدت پسند ہیں تو پهر ان کے اہداف میں سنی بریلوی ، اعتدال پسند دیوبندی ، اهلحدیث کیوں ہیں ؟ ان کے هاتهوں سے 22 ہزار سے زائد شیعہ کے ساته 45 ہزار صوفی سنی کیوں مارے گئے ؟ اور ان کا مارا جانا ثابت کرتا ہے کہ یہ شیعہ -سنی یا شیعہ -دیوبندی لڑائی نہیں ہے بلکہ یہ شیعہ ، صوفی سنیوں کے خلاف ایک اقلیتی تکفیری ٹولے کی کهلی دہشت گردی ہے جس کا جنم دیوبندی فرقے کے اندر سے ہوا ہے

کیا تعمیر پاکستان بلاگ ، اس کے مدیر خرم زکی اور ان کی جملہ ٹیم کے اس موقف کو لیکر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ‘دیوبندی فوبیا ‘ ہے یا اس بلاگ کے مدیر کو دیوبندی فوب کہا جاسکتا ہے اور کیا اس موقف کو ہم فرقہ پرست موقف قرار دے سکتے ہیں ؟

کم از کم میں تو اس موقف کو دیوبندی فوبیا یا دیوبندی مانیا

Deobandi Phobia or Mania

قرار نہیں دے سکتا اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اس بلاگ کو سپورٹ کیا اور اس کے موقف کی تائید کی کیونکہ میرا اپنا موقف یہی تها کہ یہ تکفیری دیوبندی ٹولہ ہے جس نے پورے پاکستان کے اندر کدی بهی مسلک اور مذهب کو نہیں چهوڑا سب اس کے متاثرہ ہیں

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر دہشت گردوں کے نظریاتی ،فکری اور سماجی بنیادوں اور پس منظر کی تلاش کیوں ضروری ہے ؟ کیا تعمیر پاکستان بلاگ اور اس سے ملتے جلتے موقف رکهنے والے دیگر سوشل پیجز پہلی مرتبہ دہشت گردوں کی نظریاتی جڑوں کو تلاش کررہے ہیں ؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے آپ یہ جان لیں کہ یہ اعتراض کہ دہشت گردوں کو تکفیری دیوبندی کہا نہ جائے پاکستان کے اندر اور باہر بیٹهے ایسے لوگوں کی جانب سے آیا جو کہ اپنے چہرے پہ لبرل ، سیکولر ، سوشلسٹ یا غیر فرقہ پرست روشن خیال اسلام پسند ماسک چڑهائے ہوئے تهے

میں نے اپنے طور پہ ایسے دوستوں کے سامنے یہ سوال اٹهایا کہ جب نازی ازم یا فاشزم کا ابهار ہوا تو اس کے ساته جرمن نازی ازم یا کسی نازی کے ساته جرمن نازی کی اصطلاح استعمال کی جاتی رہی تو کیا لفظ جرمن نازی کے ساته لگنے سے یہ اصطلاح نسل پرستانہ شاونزم کی عکاس ہوگئی تهی ؟ جواب ظاہر ہے نفی میں ہے تو ایسے ہی جب تکفیری دیوبندی یا تکفیری سلفی یا تکفیری جماعتی یا تکفیری اخوانی بولا جائے تو اس سے یہ کب لازم آتا ہے پورا دیوبندی مکتبہ فکر یا پورا اہلحدیث یا پوری جماعت اسلامی یا پوری اخوان المسلمون دہشت گرد اور تکفیری ہوگئی ؟

خرم زکی نے خود واضح کیا کہ اس کے تو خاندان ، کنبے کا پس منظر ہی دیوبندی ہے تو وہ کیسے سب دیوبندیوں کو دہشت گرد ، انتہاپسند قرار دے سکتا ہوں

دیوبندی مکتبہ فکر کے اندر تکفیری فسطائیت ایک منظم ، مربوط کلنگ مشین کے طور پہ موجود ہے جو کسی اور پاکستان میں مسلم مکتبہ فکر کے اندر منظم و مربوط نہیں ہے ، اکا دکا اور انفرادی غیرمنظم شکل تو آپ کو دوسرے فرقوں میں بهی مل جائے گی

لیکن کمرشل لبرل مافیا کرتا یہ ہے کہ وہ منظم ، مربوط ، سکہ بند تکفیری دیوبندی کلنگ مشین کے ساته انفرادی ، غیر منظم ، انتہائی غیرمربوط انتہاپسندی اور دہشت گردی کے درمیان مساوات تلاش کرتا ہے اور یہ 80 ہزار لاشیں گرانے والوں تکفیری دیوبندی دہشت گردی اور اکا دکا قاتلوں کی شناخت کو لیکر بریلویوں اور شیعہ کو باہم برابر قرار دیتا ہے اور حیرت انگیز طور پہ ‘بریلوی دہشت گردی ‘ اور ‘شیعہ دہشت گردی ‘ جیسی اصطلاحیں بے دهڑک ہوکر استعمال کرتا ہے اور خود اپنے مقدمے کی نفی کرڈالتا ہے

خرم زکی آج جب جواب دینے کے لیے اس دنیا میں موجود نہیں رہے تو ان کا ایک فرقہ پرست ، غیر معقول جذباتی ، دیوبندی فوبیا میں مبتلا شخص کا امیج بناکر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور درپردہ یہ کہنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ خرم زکی دیوبندی مکتبہ فکر کے ماننے والوں کو مشتعل کررہا تها تو اشتعال میں آکر کسی جنونی نے ان کو قتل کردیا گویا یہ اچانک اشتعال میں آکر ہونے والی واردات ہے ، یہ مذموم پروپیگنڈا کرنے والوں کا جهوٹ تو اس بات سے عیاں کہ ان کو شہید کرنے آنے والے دو موٹرسائیکلوں پہ سوار ہوکر آئے اور انہوں نے نائن ایم ایم کے پستولوں سے فائرنگ کی جوکہ کراچی میں مذهبی و نسلی بنیادوں پہ ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں عام استعمال ہوتا ہے اس لیے یہ انتہائی منصوبہ بندی سے ہوا قتل ہے

خرم زکی کی وال کا ایک جائزہ آپ کو بتادے گا کہ وہ اگر لال مسجد کے مولوی کے خلاف سرگرم تها اس کی وجہ اس کی دیوبندیت نہ تهی بلکہ اس کی وجہ اس مولوی کی تکفیری دہشت گردوں کی حمائت تهی اور اپنے زیر کنڑول مدارس میں ان کی وکالت و حمائت تهی ، وہ سپاہ صحابہ / اہلسنت والجماعت کو تکفیری دہشت گرد جماعت قرار دیتا یے تو کیا کاغذوں میں یہ بین نہیں ہیں ؟ اور اگر دہشت گردی و انتہاپسندی میں ملوث ان تنظیموں کی مرکزی و صوبائی قیادت کی رہائی پہ خرم زکی نے احتجاج اور مذمتی بیان دئیے تو اس میں وہ کہاں سے فرقہ پرست یا اشتعال انگیزی پهیلانے کا مرتکب ٹهہرا

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*