جب آپ تنقید میں حد سے تجاوز کرتے ہیں – عمار خان ناصر

Post Banners

امام ابو حنیفہ کی بہت سی مرجوح آرا (فارسی میں نماز کا جواز، عقیقہ کو بدعت کہنا، محرمات سے نکاح کو شبہہ قرار دے کر حد کو ٹالنا وغیرہ) سے خود احناف نے اختلاف کیا اور فتویٰ بدل لیا، لیکن ناقدین کی طعن وتشنیع کے جواب میں یہ امام صاحب کا حق تھا کہ ان کے موقف کی جو ممکن توجیہ وتاویل اور اس کے حق میں استدلال واضح کیا جا سکتا ہے، کیا جائے۔ سو احناف نے وہ بھی کیا۔ ناقدین کے ساتھ کھڑے ہو کر فتوے نہیں لگانے شروع کر دیے۔

امام ابن تیمیہ، علامہ شوکانی اور نواب صدیق حسن خان، اہل حدیث کے مسلمہ اکابر ہیں۔ ان کے تفردات اور مرجوحات کی فہرست بھی کم نہیں۔ لیکن کبھی اہل حدیث نے بریلویوں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ان کی تضلیل وتفسیق کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔

اکابر دیوبند کی جو بعض عبارتیں تکفیر کے فتووں کا موضوع بنیں، واقفان حال جانتے ہیں کہ ان کا ظاہری لحاظ سے ’’غیر محتاط’’ ہونا خود دیوبندی اہل علم محسوس کرتے ہیں، لیکن کسی دیوبندی عالم نے آج تک یہ نہیں کیا کہ اس کی بنیاد پر مکفرین کی صف میں جا کھڑا ہو اور لعن طعن میں شریک ہو جائے۔

مولانا مودودی کی تحریروں اور ان پر لگائے جانے والے فتووں کی تو شاید (محاورتاً‌) ابھی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی۔ آج بھی ذرا بحث تازہ کر کے دیکھیں، علمائے حق سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ’’فتنہ مودودیت’’ کے مفاسد سے آگاہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ لیکن مجال ہے کہ جماعت اسلامی نے ان کی مرجوح آرا اور عبارات کا دفاع کرنے میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔

وجہ کیا ہے؟

وہی جو شاطبی نے واضح کی ہے۔ جب آپ تنقید میں حد سے تجاوز کرتے ہیں، اور کسی بات کی غلطی واضح کرتے ہوئے شخصیت یا پورے طرز فکر کو مجروح کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دراصل آپ مخالف کو اس بات کا اخلاقی جواز فراہم کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ اس بات کا بھی دفاع کرے جسے وہ ’’غلط’’ سمجھتا ہے۔

کیا ہے کوئی سمجھنے والا؟

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*