تقیہ بمقابلہ منافقت و صریح جھوٹ اور اتحادِ امت – امجد عباس

shia-sunni-unity

الحمد للہ مختلف دینی مسالک کے نامور علماء کرام کی صحبت میسر رہی ہے، بندہ فرقہ واریت سے نالاں اور اتحادِ امت کے حوالے سے اپنے تئیں کوشش کرتا رہتا ہے۔

فیس بُک پر بھی میرے حلقہِ احباب میں سبھی مسالک و مذاہب کے دوست شامل ہیں۔

اتحاد و ہم آہنگی کے حوالے سے شیعہ و سُنی، دونوں طرف غلط فہمیاں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ اِن کا شکار دونوں طرف کے اچھے خاصے پڑھے لکھے حضرات بھی ہیں۔

ایک پروگرام میں شامل تھا، ایک شیعہ عالمِ دین نہایت اچھے انداز میں اپنے بنیادی عقائد بیان کر کے فرما رہے تھے کہ شیعہ فقہ اور سُنی فقہ میں اُسی قدر اختلاف ہے جتنا چاروں سُنی فقہوں کا آپس میں ہے۔

(یہی بات ایک اہلِ حدیث عالمِ دین نے بھی لکھی ہے اور ایک عراقی حنفی عالم نے بھی۔)

اِن کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ و سُنی اختلاف کفر و اسلام کا اختلاف ہرگز نہیں، ہم ایک دوسرے کا ذبیحہ حلال جانتے اور ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنا درست سمجھتے ہیں، اہلِ سنت کی معتبر ہستوں کی توہین درست نہیں جانتے نہ تحریفِ قرآن کا نظریہ رکھتے ہیں۔ توحید، نبوت، قیامت، قرآن اور اہلِ بیت پر قرآن و سنت سے ماخوذ عقیدہ اپنایا ہے، ہمارے پاس بھی دلائل ہیں۔

تقریر کے خاتمے پر میری دائیں جانب بیٹھے ایک سُنی بھائی نے فرمایا “حضرت اگر ایسا ہے تو واقعی بہت اچھی بات ہے لیکن لگتا ہے موصوف تقیہ فرما رہے تھے”۔

(بندہ کی نظر میں شیعہ عالم نے تقیہ نہیں کیا تھا، یہ موردِ تقیہ ہرگز نہ تھا۔)

اِن کے بعد ایک معروف سُنی دیوبندی عالم نے تقریر فرمائی، مولانا نے تکفیر کی شدید مذمت کی، شیعہ و سُنی کو اسلام کے دو بڑے مسلک گردانا، اختلاف کی نوعیت کو تشریحی قرار دیا، فرمانے لگے سبھی کے پاس دلائل ہیں، ہم کسی قائل بالشبھہ یا مؤول کی تکفیر و تفسیق نہیں کر سکتے۔

موصوف کا یہ بھی فرمانا تھا کہ صحاحِ ستہ کے کئی راوی شیعہ ہیں، اہلِ سنت کے چاروں امام بلا واسطہ یا بالواسطہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد تھے، مولانا نے دہشت گردی کی بھرپور مذمت کی، خودکُش بمباروں کو “خوارج” گردانا۔

داد سمیٹتے مولانا صاحب سٹیج سے اُترے تو میری بائیں جانب بیٹھے ایک شیعہ دوست نے میرے کان میں سرگوشی کی کہ مولانا نے اگر یہ سب باتیں دل سے کی ہیں تو بہت اچھی بات ہے، لیکن یہ منافقت فرما رہے تھے، یہ یہاں جھوٹ بولتے ہیں، اپنی نجی محفل میں حضرت کے دوست بتاتے ہیں کہ اِن کے تیور اور ہوتے ہیں۔

(بندہ کی نظر میں سُنی دیوبندی عالم نے نہ منافقت کی، نہ ہی جھوٹ بولا، یہ سب باتیں درست اور انھوں نے خلوص سے کی تھیں۔)

اِنا لِلہ و اِنا اِلیہ راجعون۔

میرے ایک اچھے دوست نے گزشتہ دِنوں اتحادِ امت کے حوالے سے ایک پوسٹ لکھی، جس میں انھوں نے ایک دیوبندی عالم کا ذکر فرمایا کہ لوگوں نے اُن سے پوچھا کہ جناب نے مخالف فرقہ سے اتحاد کر کے پاکستان میں اسلامی نظام کی تحریک کیوں شروع کی ہے، تو جواباً فرمایا خنزیر کے شکار کے لیے کتا ساتھ رکھنا پڑتا ہے۔

یہ حکایت اگر درست ہے تو لائقِ صد مذمت ہے، جب تک ایک معتبر مذہبی عالم دوسرے کو “کتا” (نعوذ باللہ) سمجھتا رہے گا تو دوسرا اُسے “خنزیر” سے بھی بدتر جانے گا (نعوذ باللہ)۔

ضرورت اِس امر کی ہے کہ نیات کا عالم اللہ تعالیٰ ہے، ہمیں نیتوں کی جانچ پڑتال کا کام اُسی کے سپرد کر دینا چاہیے، ہمیں ایک دوسرے کی ظاہری بات کو لینا چاہیے، اُسی پر اعتماد کرنا چاہیے۔
کتب میں موجود روایات کے حوالے سے ایک دوسرے کی وضاحت و تاویلات کو قبول کرنا چاہیے۔ صاحبِ موقف کو ہی اپنے موقف کی وضاحت کرنے دی جائے اور اُسی وضاحت کو مان لیا جائے۔

بنیادی عقائد میں شیعہ و سُنی مسالک میں کوئی اختلاف نہیں ہے، فقہی و چند دقیق اعتقادی اختلافات ہیں، جو اہلِ سنت کے اپنے درمیان بھی رہے ہیں لیکن وجہِ تکفیر نہیں قرار پائے۔
ہمیں ذہن نشیں رکھنا ہوگا کہ شیعوں کی ہربات “تقیہ” پر مبنی نہیں نا ہی سُنیوں کی ہربات “منافقت/صریح جھوٹ”۔ تقیہ/جھوٹ/منافقت کا اب مورد نہیں رہا۔ اب اظہارِ خیال پر کوئی قد و غن نہیں ہے۔ – تقیہ جان بچانے کا ایک انفرادی عمل ہے، نا کہ اجتماعی پالیسی

باقی اگر کوئی صاحب تکفیر کا شوق رکھتے ہیں اُن کے لیے میدان بہت وسیع ہے، احباب آگاہ ہوں گے کہ گزشتہ دِنوں ایک مولوی صاحب نے حلوے کی توہین کو “کفر” قرار دیا ہے، اُنھوں نے ایک بڑے عالم کا حوالہ دیا کہ اُنھوں نے کدو کی انجانے میں توہین کو “کفر” قرار دیا تھا۔

برصغیر کے ایک بزرگ مفتی کے متعلق ایک صوفی گویا ہوئے کہ موصوف کو ایک ایک خطا پر سیکڑوں فتاویِٰ کفر جاری کرنے میں یدِ طولیٰ حاصل تھا۔

سو اب علماءِ کرام اور اُن کے وابستگان ہی فیصلہ کریں کہ ایک دوسرے پر اعتماد کرنا ہے، ایک دوسرے کی تاویلوں کو قبول کرکے امتِ مظلومہ کی فلاح کی خاطر اتحاد اہم ہے یا خود ساختہ الزامات کی بنا پر اپنے علاوہ سبھی کو “کافر/مرتد” قرار دینے میں دین کی خدمت ہے۔

(قارئینِ گرامی قدر اِس سلسلے میں اپنی آراء سے ضرور مطلع فرمائیں۔)

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*