احمد قریشی الباکستانی کا ویڈیو پیغام

12548866_10153835207244561_7363345753644816555_n

 

احمد قویشی صاحب ! آپ کا ویڈیو پیغام میں بہت غور سے سنا اور اس دوران آپ نے جو شواہد اپنے ” تجزیوں ” کی غیر جانبداری کے ثبوت میں پیش کئے ، معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ وہ بذات خود آپ کے دعوے کی نفی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے خوشی ہوتی اگر آپ یہ کہتے کہ بطور تجزیہ نگار اور ایک صاحب الرائے ہونے کہ آپ سعودی عرب اور ایران کے باہمی تنازعے میں سعودی عرب کے موقف کو حق بجانب خیال کرتے ہیں ، آپ نے جو کلپ دکھایا جس میں آپ کا یہ کہنا ہے کہ ” مشہد میں سعودی سفارت خانے پر جو حملہ ہوا ، وہ ایرانی عوام نے نہیں کیا بلکہ وہ ایرانی حکومت / ریاست کا انجینئرڈ منصوبہ تھا ” یہ بات ثابت کرتا ہے کہ آپ سعودی عرب کے اس موقف سے اتفاق کرتے ہیں کہ ” ایرانی حکومت یا ریاست ایک دھشت گرد ، بدمعاش ریاست ہے “، اس کا صاف صاف مطلب یہ بھی ہے کہ آپ کا واضح جھکاؤ اس پروگرام میں سعودی حکومت کی جانب تھا ۔

آپ نے اس ویڈیو پیغام میں بار بار ” سنّی انتہا پسند ” کا لفظ استعمال کیا جبکہ آپ کو معلوم ہے کہ اس ملک میں سنّی کا لفظ اکثر وبیشتر صوفی سنّیوں یعنی اہلسنت بریلوی کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کہ اس ملک کی سب سے بڑی سنّی آبادی ہیں اور انہوں نے کبھی بھی دھشت گردی کا ارتکاب نہیں کیا اور نہ ہی سنّی اکثریت اس ملک کی تکفیری فاشزم کو پسند کرتی ہے ، آپ نے اپنے پروگراموں مين جو سعودی عرب – ایران تنازعات پر کئے ” صوفی سنّی علماء و مشائخ ” کو مدعو نہیں کیا ،

لیکن اس کے برعکس طاہر اشرفی جیسوں کو جگہ دی گئی ، آپ نے سعودی عرب کی جانب سے شیخ نمر باقر النمر کی پھانسی پر بات کرتے ہوئے اس ملک کی انسانی حقوق کی تںطیموں کے ماہرین کی آراء شامل نہیں کیں اور نہ ہی آپ نے ڈیلی گارڈین ، بی بی سی ، انڈی پینڈنٹ جیسے اخبارات ، رابرٹ فسک ، پیٹرکوکبرن ، لی فانگ اور زاہد جیلانی جیسے صحافیوں کی رائے شامل کی جنھوں نے شیخ نمر باقر النمر کے قتل کو سیاسی قتل قرار دیا ، آپ کو سنّی علماء ڈاکٹر راغب نعیمی جن کے والد طالبان دھشت گردی کا نشانہ بنے ، مفتی گلزار نعیمی ، ڈاکٹر طاہر القادری سمیت دیگر علمائے اہلسنت کی رائے نظر نہ آئی جنھوں نے اس پھانسی کی مذمت کی ،

آپ ان لوگوں رائے شامل کرتے بطر تجزیہ نگار ان کی رائے سے اختلاف ہوتا تو کوئی بات نہیں تھی ، آپ کے پروگرام غیر جانبدار نہ تھے تبھی آپ کے اوپر اعتراضات ہوئے ، فہد حسین اور لاکھانی صاجب سے مری بات ہوئی اور مین نے ان سے جو موقف ڈسکس کیا ، انہوں نے بھی مانا تھا کہ یہ پروگرام معروضیت کی بجائے موضوعی عنصر سے بھرا ہوا تھا ، عذر گناہ بدتر از گناہ والی بات ہوگئی یہ ویڈیو

قریشی صاحب، دراصل آپکے بیشتر پروگرامز میں پاکستان سے زیادہ سعودی مفادات اور نقطہ نظر کو بیان کرنا دیکھنے والوں میں یہ مضبوط تاثر چھوڑ گیا کہ آپ سعودی امیج بلڈنگ کا کام کر رہے ہیں۔ یمن تنازعے سے یہ سلسلہ زور پکڑنا شروع ہوا۔ ظاہر ہے دیکھنے والے بصارت اور فہم رکھتے ہیں۔ میرے خیال میں آپکو وضاحتی اور اپنی تعریف پر مبنی ویڈیو سے زیادہ خود احتسابی کے عمل کی ضرورت ہے۔ توازن کا فقدان دور کیجئے۔ شکریہ
https://www.facebook.com/AhmedQuraishiOfficial/videos/10153239667641316/

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*