زاویہِ نگاہ کا فرق، آزادیِ اظہار اور احترامِ اختلاف – امجد عباس

955962_1_jihad_standard

انسانوں میں زاویہِ نگاہ کا اختلاف فطری بات ہے۔ ہمارا فکری سانچہ ہرگز ایک جیسا نہیں ہے۔
میری سوچ میرے احباب سے یقیناً مختلف ہو سکتی ہے۔ میں پوری دنیا کو اپنا ہم خیال نہیں بنا سکتا نہ ہی پوری دنیا سے متفق ہو سکتا ہوں۔

آزادیِ اظہار کا جتنا حق دوستوں کو حاصل ہے، اتنا مجھے بھی حاصل ہے، احترام کے ساتھ اپنے نظریہ کو بھرپور انداز میں بیان کرنے کی جسارت کرتا رہتا ہوں۔

دوستوں کو پورا پورا حق حاصل ہے کہ وہ اختلافِ رائے کریں، لیکن اگر یہ سب اخلاقیات کے دائرہ میں رہ کر کیا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔

میرا طریقہ کار یہ ہے کہ دوستوں کی جن پوسٹوں سے مکمل اختلاف ہوتا ہے، اُن پوسٹوں کو نظر انداز کردیتا ہوں یا شائستگی سے اختلاف کا اظہار کرتا ہوں، اِس میں طنز و استہزاء کا عنصر ہرگز نہیں ہوتا، بہت کم ہے کبھی زیادہ گہرے دوستوں کو تُرکی بہ تُرکی جواب دیا ہو۔

گزشتہ دِنوں شام میں مسلح جماعت “جیش الاسلام” کا مرکزی کمانڈر مارا گیا، میرے ایک اچھے بھائی نے اُن کے قتل ہونے پر مرثیہ نما پوسٹ لکھی، مجھے صد درجہ اختلاف تھا لیکن میں نے نظر انداز کیا۔

میں احباب سے ایک حد تک آشنا ہوں، بھانت بھانت کے نظریات فیس بُک پر ہائے جاتے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر کسی کے نظریہ سے کوئی جلن نہیں ہوتی نہ تکلیف۔ میں نے ایک یا دو دوستوں کو فیس بُک سے ہٹایا ورنہ کبھی نہیں الجھا۔

ابھی سعودیہ میں شیخ نمر باقر النمر کو پھانسی دی گئی، اُن کا مسئلہ مذہبی نہیں تھا، وہ ایک سیاسی رہنما تھے، وہ سعودیہ میں سیاسی اصلاحات کی بات کرتے تھے، وہ گولی پر نہیں، ڈائیلاگ پر اعتماد کرتے تھے، اُنہوں نے سعودیہ جیسے ملک میں، جہاں حکومت کے خلاف ایک بات نہیں کی جاسکتی، کھل کر تنقید کی، انہیں اسی پاداش میں گرفتار کیا گیا، بھٹو صاحب کی طرح وہ بھی سیاسی شہید ہہیں۔ ان کا ٹرائل ہرگز شفاف نہ تھا، انہیں صفائی کا موقع دیا گیا نہ ہی علاج و معالجہ کی سہولت۔

مجھے عرب آمریت سے سخت نفرت ہے، اِس بنا پر نمر باقر النمر جب عوامی کی بات کرتا مجھے اچھا لگتا تھا۔

وہ مسلح جدوجہد کے کبھی قائل نہیں تھے۔ میں سعودی نظام سے خوب آگاہ ہوں، جہاں ذرا سی بات کرنا بھی قابلِ گردن زنی ہے، وہاں النمر کو بھی نتیجہ بخوبی معلوم تھا، لیکن یہ رستہ انہوں نے سوچ سمجھ کے چنا تھا۔

اُنہوں نے اِس کی قیمت ادا کی، اُن کی لاش کو ہیلی کاپٹر سے گرایا گیا، مجھے اِس سے شدید دکھ ہوا۔

میں نے اپنی رائے کا کھل کر اظہار کیا ہے۔

ایسے میں ہمارے کئی بھائی جو مسلح تنظیموں کے رہنماؤں سے دلی محبت کرتے ہیں یا مذہبی بنیادوں پر سعودیہ سے دلی وابستگی رکھتے ہیں، اُنہیں شدید تکلیف ہوئی۔

اُنہیں کب کسی نے روکا ہے- اُنہیں چاہیے کہ ہمت کریں، اختلافِ رائے کا اپنی والوں سے اظہار کریں، میں اُن کی آراء کا مکمل احترام کروں گا، لیکن میری پوسٹ کے نیچے اگر انتہاء پسندانہ و طنزیہ کمنٹ کیے جائیں گے تو مجھے ڈر ہے ایسا ہی ردِ عمل دیگر احباب نہ شروع کر دیں، جبکہ میں کسی کا کوئی کمنٹ ڈیلیٹ نہیں کرتا۔

سو میرے تمام بھائی جنہیں میری حالیہ پوسٹوں سے اختلاف ہے، وہ سعودیہ کے قصیدے لکھیں، آمریت کی تعریف کریں، اسامہ بن لادن، ملا محمد عمر، ملک اسحاق، مولانا عبد الرشید، ابوبکر بغدادی، داعش، تحریکِ طالبان پاک و افغان، الجبھۃ النصرۃ، القاعدہ، جیش الاسلام وغیرہ جس سے ہمدردی رکھتے ہیں اپنی والوں پر جا کر خوب کھل کر لکھیں۔ ست بسم اللہ!

ممجھے کوئی تکلیف نہ ہوگی، میں ہرگز ایسے دوستوں کی توہین یا اُن سے دوستی ختم نہ کروں گا۔ آزمائش شرط ہے۔

لیکن مجھے اپنی وال پر اظہارِ اختلاف و اظہارِ رائے کا مکمل حق حاصل ہے، اُس سے روکنا مناسب نہ ہوگا۔

احترام کے ساتھ بھرپور اختلاف کیجیے، میں سبھی احباب کا اُسی طرح احترام کروں گا جیسے اتفاقِ رائے کی صورت میں کر سکتا ہوں۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*