شیخ نمر کی موت اور سعودی ایران پراکسی جنگ کا نظریہ

nimr-768x326

پرامن سعودی رہنما شیخ نمر کی مظلومانہ شہادت شیعہ سنی یا سعودی ایران مسئلہ نہیں جیسا بعض متعصب تکفیری وہابی اور دیوبندی خوارج بتا رہے ہیں۔ یہ ظالم اور مظلوم کا معاملہ ہے۔ ظالم بہانوں سے اپنا ظلم چھپا رہا ہے۔ سعودی خاندان کا اہل سنت سے کیا تعلق ہےَ وہ صرف ایک اقتدار پرست تکفیری وہابی خاندان ہے اور پاکستان میں ان کے حواری بعض تکفیری دیوبندی خوارج ہیں ۔ یہی بد نیت لوگ شیخ نمر جیسے غیر متشدد عالم دین کی شہادت کا تقابل القاعدہ کے تکفیری خوارج کی سزا کے ساتھ کر رہے ہیں، گلے کاٹنے والوں، کفر اور ارتداد کے فتوے دینے والوں، خود کش حملے کرنے والوں کا انسانی حقوق اور مساوات کی پر امن جدوجہد کرنے والے سے کیا مقابلہ؟

بقول عامر حسینی، سعودی عرب کے مشرقی صوبے عوامیہ کے عوام کی اپنی آزادی، خود مختاری اور حقوق کی جدوجہد کی تاریخ کو دیکھئے اس کا آغاز تو ترک عثمان سلطنت کے دور میں ہی ہوگیا تھا اور پھر جب عوامیہ کے لوگ آل سعود اور برطانوی سامراج کے شکنجے میں آئے اور ان کے سیاسی، معاشی اور ثقافتی حقوق سب سلب کرلئے گئے اور وہ زبردستی سعودی عرب کا حصہ بنا دیے گئے تو تب بھی انہوں نے مزاحمت جاری رکھی،

ان کی آزادی و خودمختاری کی جدوجہد کی تاریخ دو سو سال پرانی ہے اور اس میں ان کی تازہ تحریک سن دو ہزار میں شروع ہوئی جسے عرب سپرنگ کہا جاتا ہے، وہ ایک مرتبہ پھر ظلم، جبر، محکومیت کے خلاف صف آراء ہوئے، ان کے مطالبات آزادی، جمہوریت، انتخابات، اور سماجی انصاف تھے اور اس مرتبہ ان کی تحریک کی قیادت شیخ نمر باقر النمر کررہے تھے – یہ کوئی ایران سے نہیں آئے تھے یہ عوامیہ میں پیدا ہوئے، عوامیہ کے ایک عرب قبیلے کے فرد تھے جن کو اپنی دھرتی سے جڑے ہونے پر فخر تھا،

ان کی جدوجہد سنی یا سلفی اسلام کے خلاف نہیں تھی یہ تو اپنے اور اپنی قوم کے بنیادی انسانی حقوق کی مانگ کررہے تھے، اس مقصد کے لئے شیخ نمر باقر نے کوئی بندوق نہیں اٹھائی، خود کش حملوں کا فتوی نہیں دیا، سعودی عرب کے خلاف جہاد بالقتال کا حکم صادر نہ فرمایا – اس قضیے کو ایران سعودی عینک سے دیکھنا یا اسے شیعہ سنی عینک سے دیکھنے کی کوشش بد دیانتی اور زیادتی ہے، شیخ نمر نے کبھی عوامیہ کو ایران کا اٹوٹ انگ نہیں کہا تھا انھوں نے کبھی عوامیہ کو عراق کا اٹوٹ انگ نہیں کہا تھا یہ بہت زیادتی کی بات ہے کہ نمر کی جدوجہد کو فرقہ وارانہ عینک سے دیکھا جائے

شیخ نمر کے معاملے میں سعودی ایران پراکسی وار کی تھیوری کو ہوا دینا صرف دانستہ یا غیر دانستہ ظلم چھپانے کا بہانہ ہے۔ شیخ نمر کی شہادت کا جواز دینے والے سعودی وہابی بادشاہت کے ہاتھوں جنت البقیع اور جنت المعلی میں اہلبیت اور صحابہ کے مزارات کے انہدام، ہزاروں سنی حنفی، مالکی، صوفی اور شافعی علما کی شہادت اور متواتر ظلم کو کیا جواز دیں گے؟

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*