میرؔ کے دین و مذھب کو اب کیا پوچھتے ہو- جے ڈی سی کا کارنامہ – عامر حسینی

22

میر صاحب نے کہا تھا کہ

میرؔ کے دین و مذھب کو اب کیا پوچھتے ہو

ان نے تو قـشـقـه کھـینجا، دیـر میں بیٹھا، کب کا ترکِ أســلام کیا

مجھے یہ شعر اس وقت یاد آیا جب جے ڈی سی کے ڈائریکٹر ظفر عباس نے مجھے کال کی اور بات کچھ یوں شروع کی

علّامہ صاحب ! (یہ لقب سنکر میں زرا گڑبڑاگیا تھا ) آپ کو ہم ” بین المذاہب قومی میلاد مصطفی کانفرنس ” میں شرکت کی دعوت دینا چاہتے ہیں ، اس پروگرام میں ملک بھر سے جید علماء ، مشائخ ، پادری ، پنڈت ، نعت خواں شرکت کررہے ہیں اور ہم آپ کی شرکت کے خواہاں ہیں

عامر حسینی ! بھیا ! آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ، میں تو اس فیلڈ کا آدمی ہی نہیں ہوں ، یہ تو پیشہ ور خطیبوں ، مولویوں ، نعت خوانوں کا سیزن ہوتا ہے ، بھلا مجھ جیسا آدمی جو سر سے پاؤں تک سرخ آپ کے کس کام آسکتا ہے ؟

علامّہ صاحب ! آپ کا کیا عقیدہ ہے ، آپ کا کیا مذھب ہے ( یہ سنکر میں ایک مرتبہ تو مسکرا اٹھا ) ، آپ انسانیت پر یقین رکھتے ہیں تو اس میں تشریف لائیں اور پیغام محبت دیں ، اس میں ہندؤ ، سکھ ، کرسچن ، شیعہ ، سنّی ، دیوبندی سب ہی تو آرہے ہیں

میں نے ظفر عباس کی بات سنی اور آنے کا وعدہ کرلیا ، اسی دوران مفتی گلزار نعیمی ، ڈاکٹر راغب نعیمی کے فون بھی آئے ، انہوں نے اس پروگرام بارے مجھ سے پوچھا اور کہا کہ جے ڈی سی والے کہہ رہے تھے کہ پروگرام بارے آپ سے پوچھ لیں

میں حیران تھا ظفر عباس کی خود اعتمادی پر اور میں نے ان ہر دو صاحبان کو بھی پروگرام کے بہتر ہونے کی یقین دھانی کراڈالی

ملتان سے فلائٹ پکڑی اور کراچی ائرپورٹ اترا تو مفتی گلزار نعیمی صاحب بھی تبھی اسلام آباد سے فلائٹ سے اترے تھے ہم دونوں کو لینے کے لئے جے ڈی سی کے نوجوان آئے ہوئے تھے اور وہ ہمیں پہلے سیدھا کانفرنس کے مقام پر لے گئے ، جہاں ایک بڑا سٹیج سجایا جارہا تھا ، تیاریاں ہورہی تھیں ، مجھے یہ سب تھوڑا عجیب سا لگ رہا تھا کہ بالکل روائتی انداز میں ” بڑے مولویوں یا سیاست دانوں کی طرح سے جلسہ گاہ کا معائنہ کرنا ” پھر بھی دل پر جبر کرکے یہ سب دیکھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ” میلاد ” کی یہ تیاری ایک سماجی فلاحی تنظیم کررہی تھی جو شیعہ حضرات نے بنائی تھی اس وقت جب ان کے لوگ کراجی کے گلی کوچوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح مارے جارہے تھے اور جب کسی کو گولی لگتی تو کسی کے پاس ہسپتال لیجانے کے لئے سواری نہ ہوتی تو کسی کے پاس اچھے ہسپتال لیجانے کی طاقت نہیں ہوا کرتی تھی اور پھر زیادہ تر یہ حملے ان لوگوں پر ہوتے جو اپنے گھر کی کفالت کا واحد سہارا ہوا کرتے تھے ، یہ سہارا ٹوٹا نہیں پورا گھر سڑک پر آیا نہیں ، گھر چلانا مشکل ، فاقوں تک نوبت آجاتی تھی اور واقعی شیعہ ہونا جرم ٹھہرگیا تھا

دھشت گردی اور اس سے جڑے کئی مسائل تھے جن کو ” ڈیزاسٹر ” سے ٹھیک ہی تعبیر کیا تھا اور تبھی ” جعفریہ ڈیزاسٹر منیجمنٹ کمیٹی ” سامنے آئی تھی ، عام طور پر آپ جب ڈیزاسٹر کا نام لیں تو فوری طور پر ” سیلاب یا زلزلہ ” سے ہونے والی تباہی کا تصور ذھن میں آتا ہے لیکن ” دھشت گردی اور شیعہ نسل کشی ” یہ ایک منظم قسم کی ڈیزاسٹر ساتھ لیکر آئی تھی اور اس سے جڑے کئی ایک ایشو تھے جن سے نمٹنا تو دور کی بات ہے اسے اپنی کلیت کے ساتھ دیکھنے اور اس پر ریسرچ کا بھی کسی کو خیال نہیں آیا تھا ، شیعہ کلنگ سے ڈیزاسٹر کا کیا تعلق ہے اس پر کسی نے سرے سے سوچا ہی نہیں تھا ، ایسے ہی جیسے جب مجھ سمیت چند ایک دوستوں نے ” تکفیری فاشزم ” کی ٹرم استعمال کرنا شروع کی اور ” دھشت گردی ” کو اس تناظر میں سمجھنے اور اس کی بنیادی فکری جڑوں کو ” دیوبندی ازم ” اور ” وہابی ازم ” میں تلاش کیا تو یار لوگوں نے اسے ” دیوبند تحریک ” کے مترادف قرار دیکر اسے ” فرقہ پرست اصطلاح یا اس کو دیوبندی فوبیا ” تک کہہ ڈالا تھا ، بلکہ اس مرتبہ میں کراچی میں گیا تو مرے ایک دوست جو آجکل ” دی نیوز انٹرنیشنل ” میں کام کرتے ہیں مجھے کہا کہ مرے بارے میں کئی لوگ اب یہ کہتے ہیں کہ ” عامر حسینی نے کیمونزم سے اپنا سفر شروع کیا اور وہاں سے پی پی پی اور پھر شیعت پر اس کا انجام ہوگیا ہے ” اس کی وجہ صرف اتنی تھی کہ میں نے ” شیعہ نسل کشی ” اور اس نسل کشی کی زمہ دار قوت کی شناخت اور سوال کو کم اہمیت کا حامل سوال ماننے سے انکار کرڈالا تھا اور مسلم معاشروں میں میں تکفیریت کی آندھی کے جلو میں آنے والے فاشزم کو صاف دیکھ رہا تھا اور میں نے اسے ” سعودیہ – ایران بائنری ” یا ” شیعہ – سنّی بائنری ” کے آئینے میں دیکھنے سے انکار کیا تھا ،

یہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے ہم نے ” بلوچ مزاحمتی تحریک ” کو ہندوستان کی سازش یا امریکی سامراج کا پاکستان توڑنے کا منصوبہ ماننے سے انکار کیا اور اسلام آباد و خاکی بوائز کو ائینہ دکھانے کی اپنی سی کوشش کی تو ہمیں اسلام آبادی و لاہوری کئی ایک کامریڈز نے ” سرمایہ داری کے ترقی پسندانہ کردار کی منطق ” پڑھانے کی خوب کوشش کی تھی ، بہرحال جعفریہ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اور شہداء فاؤنڈیشن نے اپنے طور پر تکفیری فاشزم سے پھیلنے والے ڈیزاسٹر جس کا سب سے زیادہ متاثرہ سیکشن ” شیعہ ” تھے کو مینج کرنے کی کوشش کی اور اس راستے میں اپنے نام کا اعتبار قائم کیا اور آج کراچی کے اندر 11 سو سے زائد حساس مساجد اور ہزاروں امام بارگاہیں ، چرچ ، مندر ایسے ہیں جہآں سی سی ٹی وی کیمرے اور سروایلنس کا انتظام کسی معاوضہ کے بغیر جے ڈی سی نے کیا ہے اور عباس ٹاؤن کے متاثرین کی بجالی میں اس کا کردار مثالی رہا اور جے ڈی سی کے من میں یہ سودا سمایا ہوا ہے کہ وہ مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ہم اہنگی اور قربت کی فضا پیدا کرنا چاہتی ہے اور اس کے لئے اس نے بڑے برے ہوٹلز کے کانفرنس روم کا انتخاب نہیں کیا بلکہ نمائش چورنگی جیسے چوک کا انتخاب کیا اور موقعہ ربیع الاول کا رکھا ، یہ پھچلے سال پہلی مرتبہ ہوئی تھی اس وقتت 25 ہزار چراغ جلاکر جے پور ميں دیوالی کے موقعہ پر روشن کئے گئے 20 ہزار چراغ جلانے کا ریکارڈ تقریبا 25 ہزار چراغ جلاکر توڑ دیا گیا تھا اور اس مرتبہ 30 ہزار چراغ روشن کرکے اپنے ہی قائم کئ ریکارڈ کو توڑ دیا گیا

بین المذاہب قومی میلاد مصطفی کانفرنس کی ایک اور خاص بات تھی کہ اس کانفرنس میں صرف شیعہ اور سنّی بریلوی علمآء و مشائخ کو ہی نہیں بلایا گیا تھا بلکہ اس میں دیوبندی علماء فرزند مولانا احترام الحق تھانوی جیسے بھی شریک تھے اور جماعت اسلامی کے معراج الھدی بھی آئے تھے جبکہ ہندؤ پنڈت ، کرسچن بشپ اور فادر وغیرہ بھی موجود تھے ، مائکل سلیم کی قیادت میں صلیب اٹھائے ایک قافلہ پنڈال مين داخل ہوا تو اتم پرکاش کی قیادت میں ترشول لئے لوگ داخل ہوئے اور سٹیج پر ڈاکٹر راغب نعیمی ، مفتی گلزار نعیمی ، علامہ ظفر حسن نقوی ( یہ حیدرآباد میں زمانہ طالب علمی میں این ایس ایف کے سرگرم طالب علم رہنماء تھے ) ، اتم پرکاش ، مائیکل سلیم تشریف فرما تھے اور درجنوں ثناء خوان مصطفی منتظر تھے ، دور دور تک کیا شیعہ ، کیا سنّی ، کیا کرسچن ، کیا ہندؤ سبھی تو موجود تھے اور پنڈال ميں ایک طرف لمبی قطار میں مرد تشریف فرما تھے تو دوسری قطار میں عورتوں اور بچوّں کی بڑی تعداد موجود تھی ، یہ انسانیت پرستی کا ایک انمول نظارہ تھا جسے میں نے یہاں دیکھا اگرچہ میں اس کھیل کا میں ” بارھواں کھلاڑی ” ہی تھا اور ابتک مجھے اپنا مصرف یہآں سمجھ نہیں آرہا تھا کیونکہ یہاں سارے ” محاورے ” مذھبیت میں گندھے ہوئے لیکن یہ مذھبیت ” اشتعال انگیزی ، فتنہ پروری ، کٹھ ملائیت اور اور اس سے آگے بڑھکر تکفیری دھشت گردی ” سے لتھڑی ہوئی نہیں تھی بلکہ امن و شانتی کی دولت بانٹتی پھرتی ہے

جے ڈی سی اور اس کانفرنس کی انتظامیہ جن کے خلوص اور حسن نیت میں کوئی شک نہیں لیکن ” شیعہ بیک گراؤنڈ ” تھا تو ان سے ” میلاد ” کے ساتھ جو ٹریٹمنٹ تھی وہ صوفی سنّی رچاؤ لئے ہوئے نہیں تھی ، میں نے اس بات کا تذکرہ اپنے ساتھ تشریف فرما ایک شخصیت سے کیا تو اس نے بڑا ہی تاریخی اور کلاسیکل جواب دیا کہ

شیعہ کے ہاں میلاد کی بجائے ” مجلس عزا ” منعقد کرنے کا تجربہ زیادہ ہے تو یہ آہستہ آہستہ ہی نکھرے گا ، میں نے اس پر بے ساختہ کہہ دیا کہ

نو ربیع الاول تک ویسے ہی ” مجلس عزا اور سوگ چلتا ہے اور 10 کو ” عید شجاع ” آپکڑتی ہے ایسے میں یہ میلاد کا تجربہ بہت نیا ہے ، بات کچھ بھی ہو لیکن یہ کانفرنس اپنی نوعیت کی واحد ہے جس میں ہم بجاطور پر تمام مذاہب و مسالک کی نمائندگی ہوتے دیکھ رہے تھے اور سب بڑے جذبے سے شریک تھے ، مجھے بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ آگر ” بین المذاہب قومی میلاد مصطفی کانفرنس ” کے اندر جو ” چراغ روشن کئے جانے کا تھیم ہے ” اس کو اسلام اباد کے آبپارہ چوک میں بروئے کار لایا جائے تو یہ تکفیری فاشزم کی علامت لال مسجد کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا اور نتائج بھی حال ہی مين سول سوسائٹی کے مظاہرے میں کم لوگوں کی شرکت سے پیدا ہونے والی صورت حال سے مختلف ہوتے

مری کوشش ہے کہ یہ سلسلہ صرف ” عید میلاد النبی ” تک محدود نہ رہے بلکہ دیوالی ، کرسمس ، بیساکھی ، نوروز ، تک پہنچے ، جے ڈی سی کو توفیق ملے کہ شاہ لطیف بھٹائی ، عبداللہ شاہ غازی ، لال شباز قلندر ، حضرت داتا گنج بخش ، شاہ حسین ، بلھّے شاہ ، بابا فرید گنچ شکر عرس ہائے صوفیاء کے موقعہ پر اسی طرح کی ” بین المذاہب کانفرنس ” ہو اور چراغ روشن ہوں اور صلیب ، ترشول ، ہلال سب اکٹھے ہوجائیں اور پاکستان میں تکثریت کو تکفیری فاشزم سے جو خطرات لاحق ہیں اس سے نکلنے میں اس سے بہت مدد ملے گی ، نوجوان ظفر عباس اور اس کی ٹیم واقعی مبارکباد کی مستحق ہے

1926887_10208436777865368_9174294653940058129_n 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41

 

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*