بہاءالدین زیریا یونیورسٹی کا فارمیسی ڈیپارٹمنٹ اور تاشفین ملک – صداۓ اہلسنت

11

تاشفین ملک 2007ء میں بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ فارمیسی میں بی فارمییسی کی طالبہ بنی جس نے سان بارن ڈینو میں کرسمس کی ایک پارٹی پر اپنے شوہر کے ساتھ ملکر فائرنگ کی تھی – شعبہ فارمیسی بہاءالدین زکریا یونورسٹی ملتان 1979ء میں سابق آمر ضیاءالحق کے دور میں قائم ہوا ، یہ وہ زمانہ تھا جب جماعت اسلامی پاکستان جنرل ضیاءالحق کی بی ٹیم کہلاتی تھی اور اس وقت کے امیر جماعت اسلامی میاں طفیل احمد کو جنرل ضیاء الحق اپنا ماموں بتلاتے تھے – جماعت اسلامی پر عنایات کرنے کا سلسلہ کئی ایک شعبوں میں جاری وساری تھا تو ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے ہاسٹلز اور شعبون پر بھی جماعت اسلامی کے حامیوں کے قبضے کا عمل شروع کردیا گیا تھا ،

بی فارمیسی ڈیپارٹمنٹ بہاءالدین زکریا یونورسٹی کا پہلا سربراہ بھی ایک جماعت اسلامی کے دیرنیہ رفیق ڈاکٹر افضل وینس کو سونپا گیا جنھوں نے اس شعبے کی باقی فیکلٹی بھی جماعت اسلامی کے حامیوں سے بھرڈالی اور اولین طور پر اسلامی جمعیت طلباء کے کارکنوں کو یہاں پر داخلے کا موقعہ فراہم کیا گیا- تاشفین ملک نے جب یہاں داخلہ لیا تو جماعت اسلامی ہی کے ایک سخت حامی ڈاکٹر خالد جانباز اس شعبے کے ڈین تھے اور جبکہ اس کے استاد ڈاکٹر نثار جو آج کل ڈائریکٹر بی زیڈ یو وہاڑی کیمپس ہیں کا تعلق بھی جماعت اسلامی سے تھا ،

اس کے علاوہ ڈاکٹر سبحان ، ڈاکٹر نذر رانجھا اور ڈاکٹر بشیر چوہدری جو آج کل شعبہ فارمیسی کے سربراہ ہیں تاشفین کے استاد تھے اور یہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے تھے ، جماعت اسلامی کی طلباء تنظیم اسلامی جمعیت طلباء کہ یہ شعبہ سب سے مضبوط گڑھ رہا ہے اور اسلامی جمعیت طلباء کے اکثر ناظمین جمعیت برائے بی ذیڈ یو کا تعلق بھی اسی شعبہ سے تھا اور آج تک اس یونورسٹی میں اسٹوڈنٹس یونین کے جتنے بھی صدور اسلامی جمعیت طلباء کے منتخب ہوئے یا صدر کا انتخاب لڑا وہ سب اسی شعبہ سے تعلق رکھتے ، آخری اسلامی جمعیت طلباء کا صدر یونین عبدالرب مجاہد 1989ء میں منتخب ہوا وہ بھی بی فارمیسی کا طالب علم تھا

تاشفین ملک بھی اسلامی جمعیت طلباء کی سرگرم کارکن بنی اور وہ ڈاکٹر نذر رانجھا کے ساتھ رابطے میں رہی جو کہ کھلے عام افغان ملّا عمر ، داعش کے ابوبکر البغدادی اور اسامہ بن لادن کے مداحوں میں شمار کئے جاتے ہیں

ستمبر 10، 2015ء کی رات کو سی ٹی ڈی پولیس لاہور کی ٹیم نے مقامی پولیس کے ساتھ ملکر انٹیلی جنس انفارمیشن ملنے پر اسلامی جمعیت طلباء کے مضبوط گڑھ ابوبکر ہال کے کمرہ نمبر 106 پر چھاپہ مارا اور وہاں سے داعش کا لٹریچر ، سی ڈیز برآمد کیں اور ایک طالب علم ” اسامہ ” سے داعش کا تربیتی لٹریچر برآمد کیا جبکہ ابوبکر ہال میں جمعیت کے ناظم مہران بوسن سمیت 10 افراد کو گرفتار کیا گیا جن مین سے 9 افراد بمعہ ناظم جمعیت ” مہران بوسن ” کو رہا کیا گیا ، لیکن اسامہ حراست میں رکھا گیا ، یہ اسامہ بھی بی فارمیسی کا طالب علم تھا

بہاءالدین زکریا یونیورسٹ؛ کا شبعہ فارمیسی اس وقت نہ صرف اسلامی جمعیت طلباء کا گڑھ ہے بلکہ یہ داعش ، القائدہ برصغیر ، لشکر چھنگوی ، غاوی فورس ، سپاہ صحابہ پاکستان ، تحریک طالبان پاکستان ، جماعت دعوہ لشکر طیبہ کے ہمدردوں کا بھی گڑھ ہے اور اس یونیورسٹی کا سب سے قدیم ہاسٹل ابوبکر ہال بھی ان سرگرمیوں کی لپیٹ میں ہے

تاشفین ملک نے 5 سے 6 سال کا عرصہ بی فارمیسی ڈیپارٹمنٹ میں گزارا اور وہ مریم ہاسٹل میں رہا کرتی اور اس کے زیر مطالعہ اکثر بقول اسکی ایک دوست ( عائشہ -نام بدل دیا گیا ہے ) کے وہ اسامہ بن لادن ، عبداللہ عزام ، ایمن الذاھروی ، شیخ التونسی کی تحریروں کی عاشق تھی جبکہ اخوان المسلمون کے سب سے سخت گیر وہابی خیالات کے مالک مرشد عام سید قطب کی کتاب ” معالم فی الطریق ” کو نصاب کی طرح پڑھا کرتی تھی ، یہی وہ کتاب ہے جس کی بنا پر سید قطب اور ان کے ساتھیوں پر مصر میں خونین وہابی انقلاب کی منصوبہ بندی کا الزام لگا اور اس پر مقدمہ درج ہوا اور سید قطب اور ان کے ساتھیوں کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا تھا ، یہی کتاب ایمن الذاھروی کو دھشت گردی کی طرف مائل کرنے کا سبب بنی اور اسی کتبا نے اخوان المسلون کے اندر سے ایک تکفیری دھشت گرد تنظیم ” جماعت الاسلامیہ ” کو جنم دیا جس نے مصری شہریوں پر اس سٹائل سے حملے کئے جو بعد میں القائدہ نے اپنایا

پاکستان میں اپنے قیام کے دوران تاشفین کے بارے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ اس کے تعلقات جامعہ فاروقیہ بستی قاضی سعید روجھان سے بھی ہوئے ، یہی وہ مدرسہ ہے جہاں غازی عبدالرشید اور مولوی عبدالعزيز کا بہت آنا جانا تھا اور ان مدرسوں نے ڈیرہ غازی خان ڈویژن سپاہ صحابہ پاکستان کو منظم کرنے میں اور پھر یہاں سے ” غازی فورس ” کے لئے بھرتی میں اہم کردار ادا کیا ، تاشفین ملک کے چار کزن غازی فورس کا حصّہ بنے

تاشفین ملک کی خالہ اور ملک گلزار کی سوتیلی بہن حافظہ ملک کے مطابق ملک گلزار کا خاندان سعودی عرب منتقل ہونے کے بعد بریلوی سے دیوبندی ہوگیا تھا اور اور ان کے تعلقات جامعہ فاروقیہ سے بہت گہرے تھے

تاشفین ملک کے جماعت اسلامی ، لال مسجد دیوبندی مدارس جامعہ فاروقیہ سے روابط ایک مرتبہ پھر یہ بات یاد دلاتے ہیں کہ دیوبند مکتبہ فکر ، جماعت اسلامی کے اندر تکفیری دھشت گردی اور پوٹینشل ٹیررازم کی حامل لہر بہت اندر تک جڑ پکڑ چکی ہے جب تک اس جڑ کو وہاں سے اکھاڑا نہیں جائے گا دھشت گردی کا خاتمہ بہت مشکل ہوگا

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*