کربلا سے سامرہ کا سفر – مبشر علی زیدی

karbla 4Iraq-with-Ur-site-and-cities-OL

کچھ دوست کہتے ہیں، امام کے نام کے ساتھ علیہ السلام لکھو، کچھ دوست کہتے ہیں رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھو۔ کچھ دوست کہتے ہیں مزار لکھو، کچھ دوست کہتے ہیں روضہ لکھو۔ کچھ دوست کہتے ہیں قتل نہیں شہید لکھو۔ ہم بھی عجیب لوگ ہیں۔ الفاظ کو بھی شیعہ سنی بنادیا ہے۔ دوستو جب میں امام کا نام لکھوں تو اپنے عقیدے کے مطابق دل میں رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا علیہ السلام کہہ لیا کرو۔ میرا دل ہائے حسین کی صدا لگاتا ہے تو ساتھ القابات لگانا بھول جاتا ہے۔

کربلا سے سو کلومیٹر دور بغداد ہے۔ مزید سو کلومیٹر آگے جائیں تو بلد ہے۔ مزید پچاس ساٹھ کلومیٹر دور سامرہ ہے۔ اس سڑک کے دائیں طرف کا پورا عراق، حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ بائیں طرف بعقوبہ اور رمادی ہیں جن میں حکومت کی رٹ نہیں۔ اس سے آگے کے سب علاقے داعش کے قابو میں ہیں۔ سامرہ سے آگے جائیں تو بہت سے علاقے کرد باغیوں کے قبضے میں ہیں۔
کل میں نے زندگی اور موت کی اس شاہراہ پر سفر کیا۔ آپ کسی علاقے کے بارے میں نہ جانتے ہوں کہ وہاں خطرہ ہے تو کوئی خوف نہیں۔ اگر آپ جانتے ہیں کہ راستے میں خطرہ ہے تو پھر خطرہ بھی ہے اور خوف بھی ہے۔ میرے اندر کا سیاح ڈر گیا۔ میرے اندر کا زائر غیر جانب دار ہوگیا۔ میرے اندر کا صحافی کود کر باہر آیا۔ کہنے لگا، چلو کوئی کہانی ڈھونڈیں۔ سامرہ وہی شہر ہے ناں، سامری جادوگر والا؟

عراق جنگ سے کتنا متاثر ہوا ہے، یہ جاننے کے لیے صرف بغداد سامرہ شاہراہ پر سفر کرلیں۔ جگہ جگہ لڑائی کے آثار۔ گاڑیاں جلی ہوئی۔ عمارتیں ایسے تباہ جیسے زلزلے سے گری ہوں۔ ہر دو کلومیٹر پر فوجی چیک پوسٹ۔ ہر چار قدم پر عراق کا پرچم۔ چیک پوسٹوں کی دیواروں پر جنگی نعرے۔ کہیں کہیں فوج کے ان جوانوں کی تصویریں جو جنگ میں کام آگئے۔

میں ایک بار کربلا سے مشرقی سرحد تک بائی روڈ سفر کرچکا ہوں۔ سڑک کے دونوں طرف تاحد نگاہ میدان تھے۔ اتنی مٹی کہ اس کا اندازہ لگانا مشکل۔ قریب ترین بستی بھی نظر سے اوجھل۔ چرند پرند کا کیا کام۔ بغداد سامرہ شاہراہ کے ایک طرف میدان، دوسری طرف جنگل۔ کہیں کہیں چند گھروں کی بستی۔ جنگل میں کھجور کے درخت اور اونچی اونچی جھاڑیاں۔ کوئی پرندہ بھی نظر نہیں آیا۔ فضا میں بارود کی بُو ہو، زمن پر خون بہہ رہا ہو، آسمان پر گولیاں ناچ رہی ہوں تو مہاجر پرندے تک راستے بدل لیتے ہیں۔

عراق کے شر بلد کا نام انگریزی میں لکھیں تو انگریزی والا بلڈ ذہن میں آتا ہے۔ اس بلد میں بھی بہت خون بہا ہے۔ عراق جنگ کے دوران بھی اور اس کے بعد بھی۔ گزشتہ سال یہاں کبھی ایک گروپ کا قبضہ ہوا، کبھی دوسرے کا۔ جسے موقع ملا، اس نے مخالفین کا بلاامتیاز قتل عام کیا۔ بلد فوجی شہر ہے، یعنی چھاؤنی۔ یہاں کتنی فوج ہے، کتنے ٹینک ہیں، یہ مجھے معلوم نہیں۔ اتنا بتاسکتا ہوں کہ یہاں سید محمد کا روضہ ہے۔

سید محمد اہل تشیع کے دسویں امام علی الہادی کے فرزند تھے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں بھی صاحب کرامات تھے اور انتقال کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ لوگ ان کے روضے پر آکر دعا مانگتے ہیں اور پوری ہوجاتی ہے۔ دنیا بھر سے بے اولاد لوگ یہاں آتے ہیں اور دعا مانگتے ہیں۔ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ دعا خدا ہی سے مانگی جاتی ہے۔ لیکن جیسے ہم دنیادار لوگوں کو اپنی درخواستیں لے کر سرکاری دفتر جانا پڑتا ہے، بہت سے لوگ اپنی درخواستیں لے کر پاک مقامات پر حاضری دیتے ہیں۔

میں یہ بتارہا تھا کہ بے اولاد جوڑے سید محمد کے روضے پر آتے ہیں اور پھر ان کی مراد پوری جاتی ہے۔ دوسری دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں۔ منت پوری ہونے کے بعد سید محمد کے روضے پر ایک گوسفند یعنی بکرے یا بھیڑ کی قربانی کی جاتی ہے۔ میں نے دیکھا کہ روضے کے اطراف بکروں، دنبوں اور بھیڑوں کے گلے ہیں۔ میں نے پاکستان ایران ہی نہیں، امریکا کینیڈا اور انگلینڈ سے آئے ہوئے زائرین کو بھی دیکھا۔ یاد رہے کہ یہ علاقہ وار زون میں ہے۔

زائرین نے گلے بانوں سے بھاؤ تاؤ کیا۔ کسی نے ایک جانور کے سو ڈالر مانگے، کسی نے ڈیڑھ سو۔ میرے سامنے ایک صاحب نے ڈھائی سو ڈالر دے کر تین دنبوں کا سودا کیا۔ اب کیا کریں؟ دنبہ کیسے قربان کریں؟ کیسے اس کا گوشت بنائیں؟ فکر نہ کریں، روضے کے پہلو میں قصاب موجود ہیں۔ عام قصاب نہیں، پھرتیلے کاری گر۔ آپ روضے میں جائیں، سلام کریں، زیارت کریں، نماز پڑھیں۔ آدھے گھنٹے میں آئیں گے تو گوشت تیار ملے گا۔ لوگ آدھا گوشت وہیں تقسیم کرتے ہیں، کیونکہ یہ شرط ہے، باقی آدھا گھر لے جاتے ہیں۔ مقامی لوگ کہتے ہیں کہ یہ گوشت پکاکر بیمار کو کھلائیں تو شفا ملے گی۔

میرا خیال تھا کہ ڈھائی سو کلومیٹر کی شاہراہ پر فوجیوں کے سوا کوئی نظر نہیں آئے گا۔ صبح کو چلے تو کئی مقامات پر بچے اسکول جاتے دکھائی دیے۔ اس کا مطلب ہے کہ لوگ اس جنگ زدہ علاقے میں رہتے ہیں۔ امن کی امید پر ہی جیتے ہوں گے۔ نہ جانے وہ کس طرح کاروبار زندگی چلاتے ہیں۔ وہ بچے مجھے نہیں دیکھ رہے تھے لیکن میں نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہاتھ سر پر لے جاکر انھیں سلام کیا۔ ان کی سلامتی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے دعا مانگی۔ کاش ان بچوں کو طویل عمر ملے۔ کاش ان کی زندگی میں صرف امن رہے۔ یہ بچے اسکول جائیں گے، اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے تو امن ممکن بنائیں گے۔

شام کو واپسی ہوئی تو میں سوچ رہا تھا کہ اس بار کوئی بچہ نظر نہیں آئے گا۔ لیکن وہ بچے سڑک کے دونوں جانب فٹبال کھیل رہے تھے۔ فٹبال غریبوں کا کھیل ہے۔ ایک گیند سے بائیس بچے کھیل سکتے ہیں۔ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کو یہاں آکر دیکھنا چاہیے۔ ان بچوں کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔ میرے پاس کیمرا ہوتا تو ٹھہر کر ان بچوں کی وڈیو بناتا۔ کوئی ہمت والا پروڈیوسر پڑھے تو ان بچوں پر ڈاکومنٹری فلم بنائے۔

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*