سراج الحق دیوبندی کی ملک اسحاق دیوبندی کی ہلاکت پر بے چینی – خرم زکی

11828658_368222140053540_6536722196032648963_n

کیا آپ نے کبھی سراج الحق دیوبندی کو کبھی سنی شیعہ مسلمانوں کے قتل عام پر کالعدم تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہ سے یہ سوال کرتے دیکھا ہے کہ کیوں ان مسلمانوں کو، ان پاکستانیوں کو قتل کر رہے ہو ؟ کیوں پاک فوج پر حملے کر رہے ہو؟ کیوں امام بارگاہوں اور مزاروں کو تباہ کر رہے ہو؟ کیوں لوگوں کے گلے کاٹ رہے ہو؟ بلکہ الٹا یہ شخص تکفیری دہشتگردوں کو گلے لگاتا رہا ہے۔ لیکن آج بینا سرور کمرشل لابی کی طرح پاکستان میں قتال کا حامی یہ دہشتگرد شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے کی کوشش کرتے ہوئے ملک اسحق جیسے بد نام زمانہ دہشتگرد کی پولیس مقابلے میں ہلاکت پر احتجاج کر رہا ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ابھی تک لدھیانوی اور فاروقی جیسے تکفیری دیوبندی دہشتگردوں نے بھی ملک اسحق اور اس کے ساتھیوں کی پولیس مقابلے میں ہلاکت پر ایک تعزیتی بیان نہیں جاری کیا ہے لیکن پاکستان میں داعش کے حامی اس شخص (سراج دیوبندی) کو ملک اسحق کی ہلاکت سے بہت تکلیف پہنچی ہے۔ در حقیقت اس وقت جماعت اسلامی داعش کا ہی ایک دوسرا روپ ہے۔ اور سراج الحق دیوبندی کے اس بیان سے واضح ہو گیا کہ بینا سرور، طایر اشرفی، سراج الحق دیوبندی، مولوی عبد العزیز، سلیم صافی اور اسی قماش کے دیگر لوگ جن کو پولیس مقابلے میں ملک اسحق کے جہنم رسید ہونے پر اعتراض ہے در حقیقت تکفیری دیوبندی دہشتگرد لابی کے مہرے ہیں اور کبھی اسلام کا نام استعمال کر کے، کبھی لبرل ازم کا نام استعمال کر کے، در حقیقت ان تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کو پروموٹ کر رہے ہیں۔

اگر آپ ذرا سی تحقیق کریں تو آپ پر واضح ہو جائے گا کہ سانحہ صفورا میں ملوث سعد عزیز سے لے کر کور کمانڈر کراچی پر حملے میں ملوث وحید برادران تک کتنے ہی دہشتگردوں کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔ اگر حکومت دہشتگردی کی اس لعنت سے چھٹکارا پانا چاہتی ہے تو جماعت اسلامی کو کالعدم قرار دے کر اس جماعت کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کرے کیوں کہ آنے والے وقتوں میں کالعدم دہشتگرد اہل سنت والجماعت (کالعدم انجمن سپاہ صحابہ) کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کے ارکان بھی بین الاقوامی دہشتگرد گروہ داعش کا ہر اول دستہ ثابت ہوں گے اور یہ کوئی خیالی بات نہیں۔ افغانستان میں جماعت اسلامی کے حمایتی گلبدین حکمتیار نے پہلے ہی داعش کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

منور حسن کے بعد سے جماعت اسلامی کی فکر اور داعش کے انتہا پسندانہ نظریات میں کوئی فرق نہیں رہا۔ ہو سکتا ہے کوئی جماعتی اس بات کی تردید کرنے کی کوشش کرے کہ جناب ہماری تنظیم کا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ پھر کیا وجہ ہے کہ منور حسن دیوبندی سے لے کر سراج الحق دیوبندی تک کسی جماعتی سرغنہ نے کالعدم انجمن سپاہ صحابہ اور تحریک طالبان کی آج تک نام لے کر مذمت نہیں کی؟ منور حسن دیوبندی نے اسامہ بن لادن کو ہیرو قرار دیا، حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دیا، لیکن ان تکفیری دیوبندی دہشتگردوں سے مقابلے میں شہید ہونے والے پاکستانی فوجیوں کو شہید کہنے میں اس کا پیٹ خراب ہو جاتا تھا، آواز بیٹھ جاتی تھی اور آج اسی کا وارث ایک اور دہشتگرد کی ہلاکت پر خون کے آنسو بہا رہا ہے۔ کیا یہ کوئی حسن اتفاق ہے ہے کہ جماعت اسلامی کی منافق دیوبندی قیادت کو القاعدہ، تحریک طالبان اور کالعدم اہل سنت والجماعت (سابقہ کالعدم انجمن سپاہ صحابہ) سے تعلق رکھنے والے ہر دہشتگرد کی موت پر پیٹ میں مڑوڑ اٹھنا شروع ہو جاتا ہےَ؟

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*