ملک اسحاق کی ہلاکت پر اشرفی کیانی بینا لابی کی عذر خواہی اور اوچھے ہتھکنڈے –

11822454_10153430482557435_3124135702831061878_n

اس لابی اور اس کے حامیوں کی جانب سے دو متضاد قسم کے موقف بیان کیے جا رہے ہیں –

١ : ملک اسحاق کی ہلاکت قابل افسوس ہے کیوں کہ اسے ” ماوراے عدالت ” ہلاک کیا گیا –

٢ : اگر ملک اسحاق کی ہلاکت پر کوئی لائق ستائش ہے تو وہ محکمہ پولیس ہے –

یہ دونوں باتیں نا صرف مضحکہ خیز بلکہ نا قابل دفاع ہونے کے ساتھ ساتھ خیانت پر مبنی ہیں – دوسری بات سے شروعات کرتے ہیں – اگر یہ مان لیا جائے کہ ملک اسحاق کی ہلاکت کا سہرا لشکر جھنگوی کی حامی حکومت پنجاب کے سر باندھنا ہے تو اس لابی کے اس موقف کا کیا ہوگا کہ پاکستان میں فوج کی مرضی کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں حرکت کرتا – تو سولہ تربیت یافتہ تکفیری دہشت گرد اس فوج کی مرضی کے بغیر کیسے ہلاک ہوگیے؟

اگر وزیرستان آپریشن سمیت پورے پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جرنیل راحیل شریف کے جانب سے اٹھاے گیے اقدامات کا نتیجہ ہے تو کیا ملک اسحاق کی ہلاکت کا کریڈٹ بھی اسی جرنیل راحیل شریف کو نہیں دینا چاہیے ؟ – جرنیل کیانی کی بے عملی کے نتیجے میں پورے ملک میں پھیلنے والے ناسور کو جرنیل راحیل کی جانب سے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے –

اسی لابی کے شیعہ حمایتیوں کی جانب سے اگر واقعہ کا کریڈٹ پنجاب حکومت کو دیا جائےتو یہ حیرت کے لایق ہوگا کیوں کہ مسلم لیگ نواز گزشتہ کی دہائیوں سے لشکر جھنگوی کی سب سے بڑی حامی ہے –

یہ وہی لوگ ہیں جو سلفیز لینے کے حوالے سے کافی مشہور ہیں اور بینا سرور لابی کی خوشنودی کے لئے سب کچھ براے فروخت کا بورڈ لگاے بیٹھے ہیں – یہ لوگ ملک اسحاق کے دوست طاہر اشرفی کے ساتھ کھڑے ہونا زیادہ پسند کریں گے – پولیس کی تعریفوں میں مصروف یہ لوگ کچھ روز پہلے جرنیل راحیل شریف کو برا بھلا کہہ رہے تھے لیکن ملک اسحاق کی ہلاکت پر ملک اسحاق کے دوست طاہر اشرفی کا ذکر نا کر کے حق نمک ادا کرنے میں مصروف ہیں –

دوسری جانب بینا سرور اور جبران ناصر کے قماش کے لبرلز ہیں جو شیعہ نسل کشی کو اول تو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر اس کو ایک مخصوص ہزارہ قبیلے تک محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں – یا شیعہ سنی فالز باینریز کے پردوں میں چھپاتے ہیں – یہ لوگ بھی ملک اسحاق کی ہلاکت پر آنسو بہاتے ہوے دیکھے جا سکتے ہیں –

ان کے لئے ہمارا پیغام ہے –

آپ لوگوں کے پسندیدہ جج افتخار چودھری اور اس کے ہم نواؤں کی بھرپور کوشش سے ملک اسحاق کے اعترافی بیان اور مستقبل میں اپنے ارادےبتانے کے باوجود با عزت بری کرنا آپ لوگوں کے نزدیک درست تھا ؟

یہ آپ کا مائی باپ نام نہاد انٹی اسٹیبلشمنٹ سعودی غلام نواز شریف ہے جو ہمیشہ سے لشکر جھنگوی کا سرپرست رہا ہے – تو جناب مہربانی فرمایں اور کھل کے اپنا درد بیان کریں کہ آپ کو اصل دکھ ملک اسحاق کی ہلاکت کا ہے – یہ قانون و عدالت کی بہانے بازیوں سے اجتناب کریں – ویسے تو آپ ہمیشہ ماتم مجلس پر تنقید کرتے ہی نظر آتے ہیں جبکہ آج خود ملک اسحاق کے لئے ماتم کرنے میں مصروف ہیں –

کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے –

Comments

comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*