کالعدم تکفیری دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ کے نائب صدر ملک اسحاق کی ہلاکت اور کمرشل لبرل لابی کا واویلا – خرم زکی

khoob

توقعات کے عین مطابق کمرشل لبرل لابی نے ملک اسحق، غلام رسول شاہ اور دیگر تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کے پولیس مقابلے میں جہنم واصل ہونے کے خلاف واویلا کرنا شروع کر دیا ہے۔ جی ہاں یہ کمرشل لبرل لابی وہی زبان بول رہی ہے جو کالعدم اہل سنت والجماعت بول رہی ہے۔ آپ اس دیسی کمرشل لبرل کی ٹوئٹس پڑھیں یا کالعدم اہل سنت والجماعت کی، دونوں ایک ہی واویلا کر رہے ہیں کہ ملک اسحق اور اس کے ساتھی دہشتگردوں کو “ماورائے عدالت” ٹھکانے لگا دیا گیا۔ اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کمرشل لبرل لابی کی قیادت کون کر رہا ہے ؟؟؟ جی ہاں بینا سرور اور اس کی ہمنوا پارٹی۔ یہ وہی بینا سرور لابی ہے جس کے خلاف کچھ دن پہلے ہم نے آواز اٹھائی تھی جب اسی بینا سرور کی ایک ساتھی نے امام علی اور سیدہ فاطمہ کی شان میں نازیبا زبان اور گالم گلوچ کی زبان استعمال کی تھی۔

کچھ لوگ سمجھ رہے تھے کہ شائد ہمارا کوئی ذاتی جھگڑا ہے اس کمرشل لبرل لابی سے۔ نہیں جناب یہ ایک اصولی اختلاف ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے ہر دفعہ ہم اس جنگ میں سرخ رو ہو کر نکلتے ہیں۔ آج بھی وقت نے ثابت کر دیا کہ اس کمرشل لبرل لابی کی دلی ہمدردیاں اسی تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہ کے ساتھ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آپ دیکھیں گے اس گروپ کا ہر ممبر بشمول بینا سرور (رنگ لیڈر) ایک ہی زبان بولتا نظر آئے گا اور وہ یہ کہ جناب ملک اسحق کو “ماورائے عدالت” نہیں مارا جانا چاہیئے تھا، گویا ایک دم سے قانونی بحث چھیڑ دی گئی۔ ان میں سے کوئی کمرشل لبرل عوام کو یہ نہیں بتائے گا کہ ملک اسحق کو عدالت سے سزا دلوانے کی ہر کوشش ماضی میں ناکام ہو چکی؛ کبھی ججز پر حملہ کروا دیا گیا، کبھی سرکاری وکیل پر اور کبھی گواہوں کو ہی مروا دیا گیا۔ اگر ہم بھی ٹھیٹ قانونی زبان میں بات کریں تو یہ کمرشل لبرل گروہ عام عوام کو یہ بھی نہیں بتائے گا کہ ابھی تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے پتہ چلے کہ یہ کوئی جعلی مقابلہ ہے۔

یہ کمرشل لبرل کوئی ثبوت مہیا کیئے بغیر محض الزام تراشی کر رہی ہے۔ مزید براں یہ کہ ایک صاحب نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے کی وجہ سے گویا اس دہشتگرد کو اس کے کالعدم گروہ میں “شہید” کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔ او میرے بھائی کیا اسی کالعدم تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہ سے تعلق رکھنے والے حق نواز کو کورٹ سے پھانسی کی سزا نہیں ہوئی تھی ؟ کیا حق نواز کو قصاص و دیت کے قانون کے تحت تختہ دار پر نہیں چڑھایا گیا تھا ؟ تو کیا اس کو اس کالعدم گروہ نہیں شہید نہیں کہا ؟ کیا اسی سال جنوری اور فروری میں اس کالعدم دہشتگرد گروہ کے جن دہشتگردوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا گیا کیا ان کی نماز جنازہ اسی دہشتگرد گروہ نے نہیں ہڑھائی؟ کیا ان کو اس کالعدم گروہ نے “شہید” کے لقب سے نہیں نوازا ؟ تو پھر پولیس مقابلے میں مرنے سے ایسا کون سا خصوصی اعزاز اور مقام ان دہشتگردوں کو مل جائے گا جو پھانسی پر چڑھنے سے نہیں ملتا ؟

آپ کو اس کمرشل لبرل لابی کی دو نشانیاں بتاتا ہوں جس سے یہ فوری پکڑے جاتے ہیں؛ ایک تو یہ کہ یہ ان تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کی مسلکی شناخت چھپاتے ہیں اور دوسرا یہ کہ یہ کمرشل لبرلز ان تکفیری دہشتگردوں کی طرف سے پورے پاکستان پر مسلط کردہ اس جنگ کو کبھی شیعہ سنی فرقہ وارانہ لڑائی بتاتے ہیں، کبھی ایران سعودی عرب دو طرفہ پراکسی وار۔ حالاں کہ یہ نہ تو سنی شیعہ بھائیوں کی کوئی آپسی لڑائی ہے اور نہ ہی ایران سعودی عرب کوئی دو طرفہ جنگ۔ بلکہ یہ سعودی معاونت سے تمام پاکستانیوں کے خلاف، چاہے وہ شیعہ مسلمان ہوں، بریلوی سنی ہوں، احمدی کمیونٹی ہو، عیسائی ہوں، ہندو ہوں یا کوئی اور، مسلح افواج ہوں یا پولیس فورس، ان تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کی یکطرفہ دہشتگردی ہے۔

کیا ہم ماورائے عدالت قتل کے حامی ہیں ؟ نہیں۔ لیکن کیا یہ تکفیری دیوبندی دہشتگرد کسی رحم کے مستحق ہیں جنھوں نے ریاست کے خلاف اعلان جنگ کیا ہوا ہے، جو ہر پاکستانی کو کافر مرتد اور ناپاک قرار دے کر قتل کر رہے ہوں، مسلح افواج کو ذبح کر رہے ہوں، ان کی گردنیں کاٹ رہے ہوں، مہمان سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کر رہے ہوں؟ اس کا جواب بھی نہیں میں ہے۔

یہاں بتاتا چلوں کہ یہ کمرشل لبرل لابی اور یہ تکفیری دیوبندی دہشتگرد ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور اس کے بعض افراد تو سامنے آ چکے، کچھ ابھی تک چلمن سے لگے بیٹھے ہیں کہ صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں۔ وقت آنے پر طاہر اشرفی، بینا سرور گینگ کے ہر کارندے کو بے نقاب کیا جائے گا۔

یہ بھی واضح رہے کہ صرف ملک اسحق اور غلام رسول شاہ کے جہنم واصل ہونے سے یہ تکفیری دیوبندی دہشتگرد قابو میں نہیں آئیں گے اور اس حوالے سے زیادہ خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ریاست نے ایک بہت ہی سخت پیغام دیا ہے لیکن اس پیغام کو مذید اقدامات سے سپورٹ اور بیک اپ کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک لدھیانوی، فاروقی، اشرفی، نعیم، عبد العزیز اور مینگل جیسے دہشتگرد زندہ ہیں، جب تک ان کے اتحادی مدارس مساجد کا نیٹ ورک کام کر رہا ہے، ان کی ریلیاں جلسے نکل رہے ہیں اس وقت تک اس تکفیری زہر کا معاشرے سے خاتمہ ممکن نہیں کیوں کہ یہ زہر معاشرے میں پچھلے 40 سال سے سرایت کر رہا ہے اور محض ملک اسحق کا خاتمہ اس زہر کا تریاق نہیں۔

ضروری ہے کہ پورے پاکستان میں موجود اس تکفیری گروہ سے منسلک مدارس کے خلاف ایک بھر پور آپریشن کیا جائے، ان کے اتحادی مولویوں کو انسداد دہشتگردی ایکٹ اور تحفظ پاکستان ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت بند کر کے معاشرے میں دہشتگردی پھیلانے اور فروغ دینے کے جرم میں ان پر مقدمات چلائے جائیں اور سزائیں دی جائیں۔ اس دہشتگرد گروہ کے قبضے میں موجود مساجد کو واگذار کروایا جائے، ان کے ابلاغی مواد پر مکمل پابندی عائد کی جائے بشمول سوشل میڈیا۔ اگر جنرل راحیل شریف یہ اقدامات لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو قوم ان کو ان کے شہید بھائی کی طرح ایک ہیرو، ایک مسیحا کی طرح یاد رکھے گی۔

Beena Sarwar creating sympathy for Malik Ishaq gets a stinging response from Ahmed Turi Snip20150729_29Snip20150729_30

Snip20150729_9Jibran

1  32

Appendix: Who is Malik Ishaq


32

Comments

comments

Latest Comments
  1. Hyder Zaidi
    Reply -
  2. lashker
    Reply -
  3. Z
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


*