میں جعفر حسین ہوں اور میں شیعہ نہیں ہوں

sunni

Related post: Being a Shia in Pakistan: A personal experience – by Ale Natiq http://lubpak.com/archives/226665

میں جعفر حسین ہوں اور میں شیعہ نہیں ہوں!۔

یکایک ایسا بیان جاری کرنے پر آپ سوچ سکتے ہیں کہ ہم القاعدہ میں شامل ہوگئے ہیں یا کم ازکم سعودی پے رول پر تو آہی گئے ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ دونوں قیاس، درست نہیں ہیں۔ اس بیان کی جڑیں ماضی میں بہت دور تک پھیلی ہوئی ہیں اور مجبورا ہمیں یہ اعلان کرنا پڑا ہے ورنہ جہاں اتنی دیر ہم نے بغیر وضاحت کے گزار دی ہے، بچا کچھا عرصہ بھی جیسے تیسے گزر ہی جاتا لیکن ہمارا پیمانہ صبر، چونکہ لبریز ہوچکا ہے بلکہ “ڈُلنا” بھی شروع ہوگیا ہے پس اس قصّے کا “کٹّا کٹّی” نکالنا ضروری ہوچکا ہے۔ تو آئیے، اس کہانی کو فلیش بیک میں لیے چلتے ہیں۔

ہمارا نام رکھنےکی سعادت، ہمارے داداجنت مکانی کے حصے میں آئی تھی۔ روایت ہے کہ ہم کُونڈوں والے دن پیدا ہوئے تھے، جسے اس وقت بنا تخصیص فرقہ، حضرت جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب دن کی حیثیت حاصل تھی اور اکثر گھرانوں میں حلوہ پوری وغیرہ بنائے جاتے تھے اور تقسیم کیے جاتے تھے۔ ہمارا نام اسی نسبت سے جعفر حسین رکھا گیا تھا۔ بچپن اسی لیے سنہرا ہوتا ہے کہ اس وقت آپ صرف بچے ہوتے ہیں، شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث وغیرہ نہیں ہوتے۔ ہم بھی چھٹی جماعت تک صرف بچے ہی تھے اور اپنے نام کی وجہ سے کسی خصوصی یا امتیازی سلوک کا نشانہ اگر بنے بھی ہوں گے تو ہمیں پتہ نہیں چلا تھا۔

ساتویں جماعت میں پہنچے تو ہمارے ایک استاد جو چی گویرا کا فیصل آبادی ایڈیشن تھے یعنی شدید انقلابی تھے، ہیڈ ماسٹر کے خلاف نعرہ بغاوت ہو یا دوسرے کولیگز کے ساتھ اِٹ کھڑکّا، وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹے تھے اور “انٹی ایسٹبلشمنٹ” ہونے کی وجہ سے سینئیرز یعنی نویں، دسویں کے طلباء میں عمران خان کی طرح مقبول تھے، انہیں بطور سزا ساتویں جماعت کو اردو پڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ پڑھاتے وہ خوب تھے اور نہایت دلچسپ شخصیت تھے۔ وہ ” مولابخش” پر بالکل یقین نہیں رکھتے تھے اور مزے دار کہانیاں اور واقعات پورے ڈرامائی تاثر کے ساتھ سنانا ان پر ختم تھا۔ ایک دن پیریڈ کے اختتام پر انہوں نے کمرہ جماعت سے باہر جاتے ہوئے دروازے پر توقف کیا اور ہمیں اپنے پاس بلاکر آہستگی سے دریافت کیا، “کیا تم سیّد ہو؟” ہم حیران ہوئے اور نفی میں سر ہلادیا۔ اس پر انہوں نے پھر سیّد پر “زور” دیتے ہوئے ہم سے دوبارہ پوچھا لیکن ہمارا جواب پھر نفی میں تھا۔ وہ ذرا مایوس تو ہوئے لیکن سکول کا بقیہ عرصہ ان کی خصوصی توجہ ہم پر ارزاں رہی۔ ان کا نام سیّد گلزار حسین تھا۔

کالج میں پہنچے تو جذبہ “اسلامی” سے سرشار تھے۔ اسی لیے جمعیّت میں شامل ہوئے اگرچہ اس پر ہمیں فخر نہیں ہے لیکن کوئی شرمندگی بھی نہیں ہے۔ اس سے کم ازکم ہمیں ان سوالات اور استفسارات سے نجات مل گئی جو ہمارے نام کی وجہ سے ہمیشہ ہمارے ساتھ جڑے رہتے تھے۔ کالج کے اساتذہ بھی ایک دفعہ ہمارا نام سن کر غور سے ہمیں دیکھتے اور جب ہمارے سینے پر لگے ہوئے جمعیّت کے “بِلّے” کو دیکھتے تو ان کی پریشانی کم اور حیرانی زیادہ ہوجاتی۔ جبکہ ایک دو کیسز میں یہ حیرانی کم اور پریشانی زیادہ ہوتی بھی دیکھی گئی۔

ہمارے بچپن کے ایک دوست، جو محلے دار بھی تھے، اہل تشیّع سے تعلق رکھتے تھے۔ جبکہ سکول سے کالج تک ہمارے ہم جماعتوں میں بھی شیعہ حضرات شامل رہے۔ جن میں سے دو تین ہمارے جگری یار بھی ہیں۔ ان سب باتوں کے باوجود ہم حضرت اکبر الہ آبادی کے پیروکار رہے کہ

مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں۔۔۔۔ فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

ہم میں فالتو عقل تو کیا، جتنی عقل چاہیے تھی وہ بھی نہیں تھی۔ لہذا آج تک ہم مذہبی بحثوں سے کنّی کتراتے رہے۔ البتّہ اپنے لنگوٹیے کو ہم ضرور چھیڑا کرتے تھے کہ یار، اس دفعہ دس محرم کو میں بھی تمہارے ساتھ جاوں گا تم زنجیر زنی کرتے ہوئے تھک جاو تو مجھے بتانا میں تمہیں زنجیریں مارتا رہوں گا۔ اس پر وہ پہلے تو گالیاں دیتا اور پھر ہنستا۔ جبکہ “بتّیاں بجھانے” والی بات پر صرف گالیاں ہی دیتا تھا اور میں ہنستا تھا۔ (شام غریباں کے بارے میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف دیوبندیوں اور وہابیوں کے نفرت انگیز پراپیگنڈے کی طرف اشارہ ہے – ادارہ )

ہمارے ابّا راوی ہیں کہ بھلے وقتوں میں محرّم میں بڑے سے بڑا فساد بھی تین چار لوگوں کے پھٹے ہوئے سروں اور سوڈے کی بوتلوں کے دو تین کریٹ ٹوٹنے تک ہی محدود رہتا تھا۔ انقلاب ایران کی فصل چونکہ ایرانی ضروریات سے زائد ہوگئی تھی لہذا انہوں نے یہ انقلاب برآمد کرنے کا سوچا اور چونکہ پہلاحق ہمسایوں کا ہوتا ہے تو یہ اثنا عشری انقلاب سب سے پہلے ہماری قوم کو ہی بھگتنا پڑا۔ عرب و عجم کی اس جدید کشمکش میں عرب کسی سے پیچھے کیوں رہتے۔ لہذا انہوں نے بھی اپنے “گھوڑے” تیار کیے اور پھر اللہ دے اور بندہ لے۔ وہ گھمسان کا گھڑمس برپا ہوا کہ اس اسلامی مملکت میں کوئی مسلمان ہی باقی نہ بچا، سب کسی نہ کسی زاویے سے کافر قرار پائے۔ (موصوف بھول رہے ہیں کہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی کا پہلا واقعہ ساٹھ کے عشرے میں سندھ ٹھری میں پیش آیا – دوسری بات یہ کہ پاکستان میں سنی شیعہ فرقہ واریت کا مسئلہ نہیں، جو تکفیری دیوبندی خوارج شیعہ مسلمانوں کو شہید کر رہے ہیں وہی سنی صوفی مزاروں اور درباروں پر بھی حملے کرتے ہیں، احمدیوں اور مسیحیوں کو بھی قتل کرتے ہیں – ادارہ)

بلاگستان میں ہماری آمد ایک عظیم تاریخی واقعہ (سانحہ بھی کہہ سکتے ہیں) ہے۔ شروع میں ہمیں اکثر محسوس ہوا کہ اکثر ساتھی ہمیں وہی سمجھتے تھے جو آج تک لوگ ہمارا نام سن کے سمجھتے آرہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک دو مثالیں تبصروں کی شکل میں بھی موجود ہیں، جو ڈھونڈنے والے ڈھونڈ سکتے ہیں۔ جب ان ساتھیوں سے تعلق بڑھا اور یہ محترم بلاگرز سے اوئے اور تو کے مرحلے پر پہنچے تو تقریبا سب نے ہی ہم کو یہ ضرور کہا کہ اوئے ہم تو تمہیں شیعہ سمجھے تھے۔ تس پر ہم نے انہیں وہی کہا جو ہم آج تک سب سے کہتے آئے ہیں، کہ تم کوئی پہلے شخص نہیں ہو جسے یہ “خوش فہمی” ہوئی ہو۔ فیس بک پر بھی ہمیں دھڑا دھڑ ایسے گروپس میں شامل کیا جاتا رہا جہاں مخصوص لوگوں کو ہی داخلہ دیا جاتا ہے۔ جن دنوں ملعون خاکوں کا بہت شور تھا، انہی دنوں ہمیں فیس بک پر ایک ایونٹ کا دعوت نامہ ملا، جس کا عنوان “ڈرا عمر ڈے” تھا۔ یقین مانیے، زندگی میں بہت کم ایسے لمحات ہوں گے جب ہمیں اس شدّت سے غصّہ آیا ہو۔ اپنے عقیدے پر قائم رہنا ایک چیز ہے اور کسی کے لیے قابل احترام شخصیات کو گالی دینا اور چیز۔ مذہبی رواداری اور وسیع المشربی کے نام پر ہم ایسی خرافات کو ہضم کرنے کی ہمّت کبھی پیدا نہیں کرسکے۔ (موصوف کو ڈرا عمر ڈے پر غصہ آیا لیکن اہلبیت کے شام غریباں کی توہین خود کرتے رہے ہیں اور اس پر کوئی شرمندگی بھی نہیں – دوسری بات یہ کہ ڈرا عمرڈے اور اس طرح کے دیگر توہین آمیز اقدامات ایرانی اور عراقی آیت الله عظام کے فتاوی کے مطابق حرام ہیں – ادرہ) ہمیں یہ بھی حیرانی ہوتی ہے کہ ان سب چیزوں کے دعوت نامے تو ہمیں بھیجے جاتے رہے لیکن کبھی کسی نے ہمیں “مُتعہ” کرنے کی دعوت نہیں دی۔ اب پتہ نہیں اس کے لیے بھی کوئی خصوصی “کرائی ٹیریا” ہے۔ (موصوف یہاں پر شیعہ مسلمانوں کے خلاف سپاہ صحابہ جیسی زبان استعمال کر رہے ہیں – ادارہ)

اونٹ کی کمر پر آخری تنکا کے مصداق حالیہ دنوں میں ہمیں ایک سرکاری ملازمت صرف اس لیے نہیں مل سکی کہ ہمارے نام کی وجہ سےہم پر شیعہ ہونے کا شبہ کیاگیاتھا۔ باوجود اس کے کہ ملازمت کے لیے درکار تمام ضروری چیزیں ہمارے پاس وافر موجود تھیں اور انٹرویو بھی بہت دھانسو ہوا تھا، ہمیں لارا لگا دیا گیا۔ معاشی مار سب سے “گُجھّّی” ہوتی ہے کہ نشان بھی نہیں پڑتا اور تکلیف بھی بہت ہوتی ہے۔ اگر چہ ہم نے بہت یقین دلایا کہ ہم وہ نہیں ہیں جو آپ سمجھے ہیں اور ثبوت کے طور پر اپنے والد سے لے کر پردادا تک تمام نام ان کے گوش گذار کیے۔ لیکن شاید وہ حضرات سمجھے ہوں کہ ہم “تقیہ” سے کام لے رہے ہیں۔ ہم نے کبھی سچّا ہونے کا دعوی نہیں کیا اور مختلف وجوہات مثلا کمینگی، خودغرضی، بزدلی کی بناء پر اکثر جھوٹ بولتے پائے جاتے ہیں لیکن اپنے ان جھوٹوں کو ہم نے مذہبی جواز دینے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ یہ بات عربی بھائیوں کو سمجھانا لیکن کارے دارد ہے کہ دماغی طور پر ان میں اور پختون بھائیوں میں بالکل فرق نہیں ہےکہ جہاں سوئی اٹکی سو اٹک گئی۔ (یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ اہل تشیع کو تشدد، قتل و غارت اور نفرت کے علاوہ ملازمت اور عام زندگی میں بھی تعصب کا سامنا ہے – ادارہ)

ہم “بٹر فلائی افیکٹ” کو کبھی سمجھ نہیں پائے تھے۔ خود پر گزری ہے تو یہ اتنی اچھی طرح سمجھ میں آیا ہے کہ لگ سمجھ گئی ہے۔ لہذا ہم ایک دفعہ پھر اعلان کرتے ہیں کہ
میں جعفر حسین ہوں اور میں شیعہ نہیں ہوں!۔

http://jafar-haledil.blogspot.ae/2011/09/blog-post.html

mh111112

Comments

comments

Latest Comments
  1. Sarah Khan
    -
  2. dhnvjchbo
    -
  3. wow gold
    -