راشد رحمان اور جنید حفیظ -حقائق کیا ہیں؟

راشد 2

بدھ 7 مئی 2014ء کی شام ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ملتان ٹاکس فورس کے کوآرڈینٹر اور ملتان بار کے رکن راشد رحمان ایڈوکیٹ اپنے نجی چیمبر نزد کچہری روڈ اپنے ایک معاون وکیل ندیم پرواز کے ساتھ بعض سائلوں سے ان کے کیسز پر تبادلہ خیال کررہے تھے جب چند نوچوان سائل بنکر ان کے چیمبر میں داخل ہوگئے اور اچانک فائرنگ شروع کردی
سر اور سینے میں گولیاں لگنے سے راشد رحمان ایڈوکیٹ کی فوری موت ہوگئی جبکہ اچٹتی گولیاں لگنے سے ان کے ساتھی وکیل ندیم پرواز اور ایک سائل زخمی ہوگئے

جنید حفیظ

راشد رحمان کے قتل سے دو ہفتے پہلے راشد رحمان کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا تھا کہ وہ توھین رسالت ایکٹ کے تحت گرفتار بہاءالدین زکریا ینورسٹی میں شعبہ انگریزی کے کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے لیکچرار جنید حفیظ کے کیس کی پیروی کے سلسلے میں پہلی پیشی پر جب سنٹرل جیل ملتان میں بنی سیسشن جج کی عدالت میں جرح کے لیے گئے تو دوران سماعت جنید کے خلاف استغاثہ کرنے والے کے وکیل امیر سندھو اور ان کے معاون نے کہا کہ
راشد تم اگلی سماعت پر تو تب آؤ گے جب زندہ رہو گے
راشد رحمان ایڈوکیٹ نے سیشن جج کو کہا کہ
محترم جج صاحب! اس بات کو نوٹ کیا جائے استغاثہ کے وکیل مجھے دھمکیاں دے رہے ہیں
اس پر جج نے کہا کہ
راشد!یہ وکلآء آپ کے کولیگ ہیں ،یہ مذاق کررہے ہیں
اسی سماعت کے دوران ایک مذھبی جماعت کے رہنماء نے بھی راشد کے خلاف انتہائی بدتمیزی والا رویہ اختیار کیا اور جب راشد کیس کی سماعت سے لوٹ رہے تھے تو بھی وہاں پر موجود عالمی ختم نبوت ،اہل سنت والجماعت دیوبندی اور جماعت اسلامی پاکستان کے مذھبی فاشسسٹوں نے ان کو دھمکیاں دیں
راشد رحمان ایڈوکیٹ نے ایچ آر سی پی پاکستان سمیت کئی انسانی حقوق کی تںطیموں اور اپنے قریبی دوست احباب کو بتایا کہ ان کو مذھبی فاشسسٹوں کی طرف سے قتل کئے جانے کی دھمکیاں موصول ہورہی ہیں
راشد رحمان ایڈوکیٹ نے ریجنل پولیس آفیسر امین وینس کو ایک درخواست لکھی تھی جس میں انھوں نے انھیں دھمکیاں دینے والے وکلاء اور مذھبی غنڈوں کا نام بھی لکھا تھا
راشد رحمان کو دھمکی ملنے کا واقعہ جب ملتان کی سول سوسائٹی کے علم میں آیا تو ملتان سیٹیزن فورم سمیت بہت سے سیاسی،صحافتی اور سماجی تنظیموں نے راشد رحمان سے یک جہتی کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ان کو دھمکی دینے والوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ ک
لیکن درخواست گزارے جانے کے باوجود پولیس نے راشد رحمان کو دھمکیاں دئے جانے کے زمہ داران کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی اور نہ ہی راشد رحمان کو کوئی سیکورٹی فراہم کی
جبکہ اس دوران جماعت اسلامی کے میڈیا سنٹر پر ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں عالمی ختم نبوت ،اہل سنت والجماعت دیوبندی انتہا پسند خارجی تنظیموں کے عہدے دارزں نے راشد رحمان کے خلاف بہت سخت زبان استعمال کی اور راشد پر الزام عائد کیا کہ وہ جنید جمشید کو بچانے کے لیے کیس کو انٹرنیشنل سظح پر لیجانے کی خواہش رکھتے ہیں اور اس موقعہ پر راشد رحمان کے خلاف سپاہ صحابہ پاکستان /اہل سنت والجماعت کے رہنماء اشفاق انجئیر نے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ
راشد کو ملعون تاثیر،شہباز بھٹی،عارف اقبال بھٹی کا انجام ذھن میں رکھنا چاہئیے

داشد 3

پولیس نے راشد قتل کی ایف آئی آر میں مذکورہ تصویر میں نظر آنے والے ایک فرد کو بھی نامزد نہیں کیا

راشد رحمان ایڈوکیٹ کو جنید حفیظ لیکچرار شعبہ انگریزی بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کا کیس لڑنے کو انسانی حقوق کمیشن براۓ پاکستان نے اس وقت کہا جب ملتان بار سے کسی بھی وکیل نے توھین رسالت ایکٹ کے تحت گرفتار ہونے کے بعد اس کا کیس لڑنے کی حامی نہ بھری
جنید حفیظ جوکہ انٹر اور بی ایس لٹریچر میں گولڈ میڈلسٹ ہے اور جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور کا باشندہ ہے اور وہ کنٹریکٹ پر بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں لیکچرار بھرتی ہوا تھا اور جب اس کی پروموشن ہونے والی تھی تو ایک دن اس کے خلاف شعبہ انگریزی بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کے طالب علم رانا اکبر تابش  جو کہ اسلامی جمعیت طلباء کا سرگرم کارکن ہے نے ایک پمفلٹ تقسیم کیا جس میں اسے گستاخ رسول اور اصحاب رسول واہل بیت کا گستاخ ‍ قرار دیا گیا تھا اور پھر اس کے 100 سے زیادہ طالب علموں کا ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جو جنید حفیظ کو ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کررہا تھا
وی سی بہاءالدین زکریا ینورسٹی خواجہ علقمہ نے پولیس بلوائی اور جنید حفیظ وہاں سے جان بچاکر فرار ہوا
پولیس نے جنید حفیظ کے خلاف توھین رسالت ایکٹ 295 اے اور بی کے تحت مقدمہ درج کیا اور جب اس نے ملزم کے خلاف چالان تیار کیا تو وہ 400 صفحات پر مشتمل تھا جس میں جنید حفیظ پر الزام لگایا گیا تھا کہ
جنید حفیظ ملاّ منافق کے نام سے فیس بک پر ایک اکاؤنٹ چلارہا تھا اور وہ ایک کلوز گروپ میں ایسا مواد لکھتا اور شایع کرتا تھا جس میں انبیائے کرام ،اصحاب رسول اور اہل بیت اطہار کے خلاف گستاخانہ کلمات بکثرت پائے جاتے تھے تو ملاّ منافق جنید حفیظ ہے اور جنید حفیظ اس طرح سے گستاخی کا مرتکب ہوا ہے

خواجہ علقمہ وی سی بی زیڈ یو ملتان

اس الزام لگائے جانے کے پس پردہ دیوبندی-وہابی ،جماعتی لابی بتلائی جاتی ہے جوکہ بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں اکیڈمک کونسل الیکشن میں شکست ،ایک لبرل وی سی کے بن جانے اور سنڈیکیٹ میں اقتدار کا توازن روشن خیال ترقی پسند لابی کے حق میں ہوجانے سے تنگ تھے اور جنید حفیظ کی جگہ شعبہ انگریزی میں اپنے آدمی کو ترقی دلانا چاہتے تھے اور وہ شعبہ انگريزی کی سربراہ ڈاکثر شریں کی جگہ اپنا ادمی لانا چاہتے تھے
جنید حفیظ پر توھین رسالت کا الزام عائد کئے جانے کے فوری بعد ملتان شہر اور بہاءالدین زکریا یونورسٹی میں زبردست خوف و ہراس پھیلایا گیا اور دیوبندی-وہابی و جماعتی ٹولے نے سنّی بریلویوں کو بھی اکسایا اور تحفظ ناموس رسالت کمیٹی بناکر روز مطاہرے شروع کردئے گئے جس میں جنید حفیظ کے خلاف مرضی کی تفتیشش اور مرضی کا پولیس چالان حاصل کرنے کے لیے مذھبی فاشسسٹوں نے دھمکی آمیز رویہ آختیار کیا
مذھبی فاشسسٹوں نے بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو زبردست دھانونس اور دھمکیوں سے جنید حفیظ کے خلاف رپورٹ تیار پر مجبور کردیا
اس دوران ملتان بار کے وکیلوں کو دھمکیاں دی گئیں کہ اگر وہ جنید حفیظ کے کیس کی پیروی کریں گے تو ان کو بھی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی وجہ سے جنید حفیظ کو وکیل نہ ملا اور اس دوران ملتان سے کوئی این جی او یا مذھبی فسطائیوں کے خلاف جدوجہد کی علمبردار این جی او بھی آگے نہ آئی تو یہ کیس راشد رحمان نے اپنے ہاتھ میں لے لیا
توھین رسالت ایکٹ میں گرفتار ملزم کے کیس کی پیروی کرنے یا اس کی سماعت کرنے کے دوران اس کو جائز ریلیف جج نے دیا تو ان کا قتل یقینی ہوا یا پھر اسے باہر جانا پڑا
فروری 1995ء میں دو رکنی بنچ جس میں جسٹس خورشید احمد اور جسٹس عارف اقبال بھٹی شامل تھے نے سلامت مسیح اور کرامت مسیح کو اس بنا پر ضمانت پر رہا کیا کہ سلامت مسح ،کرامت مسیخ نہ تو عربی سے واقف تھے اور نہ ہی کچھ بھی لکھ یا پڑھ سکتے تھے
دو سال بعد جب عارف اقبال بھٹی ریٹائرڈ ہوچکے تھے اور وکالت کررہے تھے اور اپنے چیمبر میں موجود تھے تو ایک آدمی نے ان کو سرمیں گولی ماری اور آرام سے نکل گیا اور جب وہ قاتل گرفتار ہوا تو اس نے عارف اقبال بھٹی کی جان اس لیے لی کہ اس نے توھین رسالت کے مرتکب دو مسیحیوں کی ضمانت لی تھی
راشد رحمان اور عارف اقبال بھٹی کے قتل میں بہت مماثلت ہے کہ دونوں کو پہلے فون پر دھمکیاں ملیں پھر خط آئے اور پھر حملہ ہوگیا
جبکہ راشد کے بارے ملتان شہر اور پریس میں ویسے ہی مہم چلائی گئی جیسی مہم سلمان تاثیر کے خلاف چلائی گئی تھی اور یہ اپنے شکار کو شکار کرنے سے پہلے اس کو تنہا کرنے اور انتہائی قابل نفرت آدمی بنانے کی حمکت عملی اپنائی گئی اور ایک دن اس پر عمل کیا گیا
ایک سئنیر صحافی کا کہنا ہے راشد کا قتل کسی وقتی اشتعال اور ابال کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا ہے اور یہ دیوبندی-وہابی لابی کی پالیسی ہے کہ ان کے تکفیری خارجی ایجنڈے کے آڑے آنے والی شخصیات کو ٹارگٹ کرکے مارا جائے
ایک اور تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ دیوبندی-وہابی تکفیری کلنگ نیٹ ورک مذھبی فاشسسٹ ایجنڈے کے تحت ایک طرف اپنے فاشسسٹ آئیڈیالوجی کا نفاز کرنے کی کوشش کررہا ہے تو ساتھ ہی دوسری طرف شیعہ،بریلوی کے درمیان ہم آہنگی کو توڑنے کے لیے اور اسے بڑھنے سے روکنے کے لیے وہ بریلویوں کی مذھبی قیادت کو جنون پرستی کے کنویں میں گرانا چاہتا ہے تاکہ وہ سنّی بنکر عوام کو دھوکہ دے رہا ہےاور ممتاز قادری جیسے اور چند بریلوی قاتل چہرے تلاش کررہا ہے تاکہ اپنی منظم اور مربوط دھشت گردی کو سنّی بریلوی کی انفرادی دھشت گردی کے لبادے میں چھپایا جاسکے
ریاست راشد رحمان کے قتل کے زمہ داروں اور ممکنہ قاتلوں کو گرفتار کرنے سے گریزاں ہے اور اس نے ایف آئی آر بھی نامعلوم قاتلوں کے خلاف درج کی ہے
ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں دیوبندی دھشت گردوں کا نیٹ ورک پھیلتا چلاجارہا ہے جبکہ پنجاب حکومت اس نیٹ ورک کے خلاف کوئی کریک ڈاؤن نہیں کررہی جبکہ ملتان،بہاول پور،ڈیرہ غازی خان اور سرگودھا ڈویژنوں میں دیوبندی مدراس دھشت گردی کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں
جبکہ دوسری طرف ملتان سے تمام بڑے میڈیا گروپس کے جو اخبارات شایع ہورہے ہیں ان اخبارات نے دیوبندی-وہابی عسکریت پسندی سے آنکھیں چرائی ہوئی ہیں اور وہ ملائت و فاشزم کو پوری کوریج دے رہے ہیں
سکربڈ نامی ایک سائٹ پر سقراط کے نام سے کسی انوسٹی گیٹو جرنلسٹ نے جنید حفیظ اور راشد رحمان کے بارے میں ایک جامع انوسٹی گیٹو رپورٹ شایع کی ہے جسے میں جوں کا توں دے رہا ہوں

Truth of Junaid Hafeez & Rashid Rehman
Junaid Hafeez hails from Rajanpur which is taken as the most remote district of Punjab province of Pakistan. Despite all the backwardness of his system and surrounding, he emerged as real harbinger of illumination and enlightenment. Consecutive gold medal
s at intermediate and bachelor’s level couldn’t hinder
him pioneering the interactive theatre in south Punjab and editing several books on poetry, fiction and critical thinking. He was bright enough to have the renowned Fulbright scholarship in 2009-10 which led him to Jackson University, America for the study in the domain of theatre and literature.
Returning to Pakistan in 2011, he joined Baha’uddin Zakariya University as
visiting faculty lecturer in dept of English whereby he was very keen about appreciating the concept and values of Democracy, feminism, liberty, pluralism, humanism and freedom of expression. He earned a lot of respect and praise among his students and moderate content of the dept; however, conservatives took him as a great threat and they were eager to plot various conspiracies against him. Main focus of the fanatics/conservatives/Taliban was to stop him from being the permanent faculty member of the dept; mean while, in February 2013, the regular seat got advertised and courtesy to his marvellous academic record and international exposure, Mr. Junaid was the best available choice. The conservatives realized the upcoming scenario and here the tragedy begins. 0n 13th march 2013, few pamphlets were distributed by a student of English dept.Rana Akbar Tabish( an active member of Islami jameat Talba) and his companions claiming that Mr. Junaid Hafeez is a blasphemer so he must be hanged immediately .The hatred was quick to be conceived. A violent mob of almost 100 people protested again the” suppose blasphemer” and cried for his blood. The administration called the police keeping in with this untoward situation. Junaid left the scene so as to save his life. The “efficient police” registered an F.I.R no 103/13 at police station Alpa Multan under section 295b/295c and arrested the man from sahiwal on the basis of a very quick operation. F.I.R is relying on the content of a pamphlet which alleges that Junaid is the founder and admin of a closed group on face book namely “ so called liberals of Pakistan “ where the “culprit” through a concealed id namely Mullah Munafiq comments on the respected wives of Holy Prophet (PBUH) in an indecent manner.After a very “intelligent” investigation, police was able to produce a Challan report comprising of more than 800 pages declaring the accused as culprit mainly relying on 19 statements of the protestors. Interestingly, these all statements stand in a self-contradictory manner and a mere reading of it suggests that vice chancellor khwaja Alqama was also a culprit in this regard; however, police was again wise enough not to put a hand on a established person whose father was governor and uncle was prime minister of Pakistan. More interestingly, the leading religious elements who were asking death for junaid used this allegation as a black-mailing tool and managed to have membership of several committees of university including syndicate besides a number of lucrative incentives and other perks.
Now, Central thesis of F.I.R. is drawn as under: MULLA MUNAFIQ is BLASPHAMER JUNAID is MULLA MUNAFIQ So JUNAID is BLASPHAMER The police must be praised for its efficiency as it concluded the same without consulting the cyber crime cell of F.I.A neither it thought about matching of internet protocol addresses. Moreover, police was wise enough to attach e-mail data of the accused along with a book namely“progressive Muslims” as evidence, although the above attachments are very indicative of the fact that the accused is a progressive Muslim. The unlucky family of the accused was forced to strive in an incessant fear. To manage a lawyer in such horrible circumstances was a herculean task, but at last the father of the accused was triumphant in its accomplishment. The lawyer, at the first resort, lodged an application in the court of A.S.J Multan praying for the issuance of directions to the concerned investigation officer for
consulting the cyber crime cell. Meanwhile the “free judiciary “along with the “Honorable religious scholars” managed to protest in front of the respective court to convey “well wishes” to the court and “greetings” to the lawyer, who
immediately decided to detach him from the case. As far as the real facts are concerned, the accused was gentle and plural guy enjoying soft image in his surroundings prior to this case; moreover, the address www.facebook /mulla.manhoos1 (id Mulla Munafiq) is active till date, uploading and posting the stuff whereas the accused is behind the bar from the last 14 months and neither internet is possible in jail nor he holds any ghostly characteristics. A twist in this story was magical appearance of Mr. Rashid Rehman who decided to take up the matter on a humanitarian ground. Sticking to this very context, he was the only ray of hope for the poor child (here is Pertinent to mention that it was not the very first time when he stood against the
fanatics).Rashid was too quick to ensure jail trial for the accused and this was intolerable for the blood-sucking vultures. On the very first date of trial
Mr.zulfiqar sindhu
and associates threatened him to be dumped before the next date of hearing. Similarly,
Qari Ahmad mian
of JAMIAT ULEMA-A-PAKISTAN with his worthy and sacred companions of peace launched a media trial against him in their trademark kutchi kutchi style. This was a very serious nature of threat and it was more than enough for most of the people; however, Rashid Rehman executed an ample proof of his commitment to the true values of justice. He denied bowing in front of self-
proclaimed gods and this plucky decision led him to R.P.O Multan and local & international media whereby he filed an application and report respectively with clear nomination of the assailants. Furthermore, he applied for security. It was obvious that police tried its best to stay cool, calm and composed with utmost accomplishment of doing nothing in this regard. Islam is the religion of peace which clearly narrates that one, who saves a human is the saviour of the whole mankind.The very sin of Rashid rehman is that despite of killing in the name of God, he was trying to save in the name of Allah; therefore, he was sentenced to
‘’be no more’’


Fear is a habit I am not afraid
,” is how Rehman defined his circumstances
amid threats to his life, what better way to describe destiny that awaits us sooner or later. Fear should be a habit for each one of us and whether we are afraid or not,
no one will be spared from the pious wrath of God’s self
-appointed helpers. Until then, sit back and await your turn. (Dawn: 9TH MAY 2014)Luckily, waiting
one’s turn
is the best remedy available; so there is nothing to
be afraid of. It’s the time for disco. Let’s make merry. Rashid rehman has died,
not a signal lawyer will dare to plead for junaid. Resultantly, he will be persecuted with extreme love and care. Death is the only option left which is far better than
living.

http://www.dawn.com/news/589587/high-profile-blasphemy-cases-in-the-last-63-years
http://www.ucanews.com/story-archive/?post_name=/1997/10/15/pakistani-judge-who-acquitted-christians-of-blasphemy-is-murdered&post_id=10265