شام میں وہابی دہشت گردوں نے عظیم صحابی رسول حضرت حجر بن عدی کی قبر کھود کر جسد مبارک اغوا کر لیا

h3

شام میں سعودی عرب اور امریکہ کے حمایت یافتہ وہابی دیوبندی دہشت گردوں نے جلیل القدر صحابی رسول (صلی الله علیہ والہ وسلم) حضرت حجر بن عدی رضی الله تعالیٰ عنہ کی قبر مبرک کی بے حرمتی کی اور ان کے جسد مبارک کو کھود کر اپنے ساتھ لے گئے

شام میں سعودی عرب، لیبیا، پاکستان اور دیگر ممالک کے وہابی دیوبندی دہشت گردوں کی کثیر جماعت القاعدہ سے منسلک النصر ہ فرنٹ کے تحت جہادی دہشت گردی کی کاروائیوں میں حصہ لے رہی ہے

سلفی امام ابن تیمیہ اور وہابی ملا محمد بن عبدالوہاب کے پیروکارو وہابی اور دیوبندی (نیم وہابی) سنی صوفی مسلمانوں اور شیعہ مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں اور اہلبیت عظام ، صحابہ کرام اور اولیااللہ کے مزارات کو منہدم کرنا چاہتے ہیں وہابی دیوبندی منصوبے میں روضہ رسول الله کو گرانا بھی شامل ہے تکفیری وہابی اور دیوبندی دہشت گرد امام حسین رضی الله تعالیٰ عنہ، حضرت زینب رضی الله تعالیٰ عنہا اور حضرت غوث الاعظم عبدلقادر جیلانی رحمت الله علیہ کے مزارات بھی تباہ کرنا چاہتے ہیں یہ وہی بدبخت لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان میں لاہور میں حضرت داتا گنج بخش،کراچی میں عبداللہ شاہ غازی ، پاکپتن میں بابا فرید گنج شکر اور خیبر پختونخواہ میں رحمان بابا کے مزاروں پر حملے کیے – انڈیا میں دار العلوم دیوبند کے فتوے کے مطابق یہ لوگ اہلبیت رسول صلی الله علیہ والہ وسلم کو شہید کرنے والے اموی خلیفہ یزید ملعون کو امیر المومنین اور رحمت الله علیہ کہنا جائز سمجھتے ہیں

دمشق سے آنے والی اطلاعات کے مطابق شام میں حکومت کے خلاف لڑنے والے تکفیری وہابی دہشتگروں نے صحابی رسول (ص)حضرت حجر ابن عدی رضی الله تعالیٰ عنہ کی قبر مبارک کو کھود کر آپ کے مزار کو منہدم کر دیا ہے۔ ایک عرب نیوز چینل کے مطابق حجر بن عدی کا جسد خاکی صحیح و سالم ہے اور تکفیری وہابیباغیوں نے اسے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ خبر کے مطابق یہ واقعہ 2 مئی کو شام میں واقع دمشق کے مضافاتی علاقے ” عدرا “ میں پیش آیا۔ حجر ابن عدی قبیلہ کندی سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ قبیلہ ایک یمنی قبیلہ ہے جس نے کوفہ کی جانب ہجرت کی۔ پینتیس سنہ ہجری میں حجر کندی حضرت علی رضی الله تعالیٰ عنہ کے انصار میں شامل ہوئے۔ ہجر پچپن میں ہی اپنے بھائی ہانی بن عدی کے ہمراہ رسول خدا (ص) کی خدمت میں حاضر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ حضرت حجر بن عدی زہد و کثرت عبادت کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ یہاں تک کہ ان کے بارے میں روایت ہے کہ ہر شب و روز میں ایک ہزار رکعت نماز پڑھتے تھے۔ حضرت حجر بن عدی اپنی کم سنی کے باوجود پیغمبر اسلام(ص) کے بزرگ اور فاضل صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔

امام ِاہل ِسنت ابن عبدالبر نے صحابہ کے متعلق لکھی گئی کتاب الاستیعاب فی تمیز الاصحاب، ج 1 ص 97 میں حضرت حجر بن عدی (رض) کو بھی شامل کیا ہے اور ان کے متعلق لکھا ہے:

كان حجر من فضلاء الصحابة
حجر فاضل صحابہ میں سے ایک تھے

امام ِاہل ِسنت ابن اثیر جزری نے صحابہ کی زندگیوں پرلکھی گئی کتاب اسد الغابہ فی معرفت الصحابہ، ج 1 ص 244 میں حضرت حجر بن عدی (رض) کو بھی شامل کیا ہے اور ان کے متعلق لکھا ہے:

كان من فضلاء الصحابة

وہ فاضل صحابہ میں سے ایک تھے

امام حاکم اپنی حدیث کی مشہور کتاب المستدراک، ج 3 ص 468 میں لکھتے ہیں:

ذكر مناقب حجر بن عدي رضى الله تعالى عنه وهو راهب أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم وذكر مقتله

حجر بن عدی رضی اللہ تعالی ٰ عنہ کے مناقب اور ان کے قتل کا ذکر جو اصحاب ِمحمد (ص) میں سے ہیں

ابن عساکر نے بیان کیا ہے کہ حضرت حجر بن عدی (رض) رسول اللہ (ص) سے ملے اور ابن عساکر کے اسی حوالے پر نواصب کے پسندیدہ امام ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ، ج 8 ص 55 انحصار کیا ہے:

قال ابن عساكر‏:‏ وفد إلى النبي صلى الله عليه وسلم، وسمع علياً وعماراً وشراحيل بن مرة، ويقال‏:‏ شرحبيل بن مرة‏.

ابن عساکر کا قول ہےکہ حجر رسول اللہ (ص) کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے علی، عمار، شراجیل بن مرۃ جو کہ اصل میں شجیل ہیں، سے احادیث سنیں۔

امام ِاہلِسنت کمال الدین عمر بن العدیم (متوفی 660 ھ) اپنی کتاب بغیت الطلب فی تاریخ الحلب، ج 2 ص 298 میں حضرت حجر بن عدی (رض) کے متعلق لکھتے ہیں:

وكان من أهل الكوفة، وفد على النبي صلى الله عليه وسلم، وحدث عن علي بن أبي طالب

وہ کوفہ کے لوگوں میں سے تھے، وہ رسول اللہ (ص) کے پاس بحیثیت سفیر تشریف لائے اور انہوں نے علی بن ابی طالب سے احادیث سنیں۔

امام ابن قتیبہ (متوفی 276 ھ) اپنی مشہور کتاب المعارف، ص 76 میں ضرت حجر بن عدی (رض) کے متعلق لکھتے ہیں:

وفد إلى النبي صلى الله عليه وسلم وأسلم وشهد القادسية وشهد الجمل وصفين مع علي، فقتله معاوية بمرج غدراء مع عدة

وہ رسول اللہ (ص) کے پاس بحیثیت سفیر تشریف لائے اور السلا م قبول کرلیا، انہوں نے قادسیہ کی جنگ میں حصہ لیا پھر انہوں نے علی کے ہمراہ جنگ جمل اور صفین میں حصہ لیا پھر معاویہ نے انہیں ان کے ساتھیوں سمیت عذراء میں قتل کردیا۔

صحابہ کے کرامات کا ذکر کرتے ہوئے علام حبت اللہ للکائی الشافعی (متوفی 418 ھ) اپنی کتاب شرح اصول اعتقاد اہل سنہ، ج 17 ص 18 لکھتے ہیں:

ما روي من كرامات حجر بن عدي أو قيس بن مكشوح في جماعة أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم

ہم نے رسول اللہ (ص) کے صحابہ میں سے حجر بن عدی اور قیس بن مکشوح کے کرامات بیان کیئے ہیں۔

اور اگر، اب بھی کوئی شک و شبہ باقی رہ گیا ہو تو اہل ِسنت میں علم الرجال میں امیر المومنین تسلیم کئے جانے والے امام زھبی کے الفاظ بیان کئے دیتے ہیں جو انہوں نے اپنی کتاب سیراعلام النبلاء، ج 3 ص 463 میں حضرت حجر بن عدی (رض) کے متعلق بیان کیئے ہیں:

وہ صحابی اور سفیر تھے

مولانا مودودی نے کتاب خلافت و ملوکیت، ص 164-165 میں پورا احوال یوں پیش کیا ہے:

اس نئی پالیسی کی ابتداء حضرت معاویہ کے زمانہ میں حضرت حُجر بن عدی کے قتل 51 ہجری سے ہوئی جو ایک زاہد و عابد صحابی اور صلحائے امت میں ایک اونچے مرتبے کے شخص تھے۔ حضرت معاویہ کے زمانے میں جب منبروں پر خطبوں میں علانیہ حضرت علیؓ پر لعنت اور سب و شتم کا سلسلہ شروع ہوا تو عام مسلمانوں کے دل ہر جگہ ہی اس سے زخمی ہو رہے تھے مگر لوگ خون کا گھونٹ پی کر خاموش ہو جاتے تھے۔ کوفہ میں حُجر بن عدی سے صبر نہ ہو سکا اور انہوں نے جواب میں حضرت علیؓ کی تعریف اور حضرت معاویہ کی مذمت شروع کر دی۔ حضرت مغیرہؓ جب تک کوفہ کے گورنر رہے وہ ان کے ساتھ رعایت برتتے رہے۔ ان کے بعد جب زیاد کی گورنری میں بصرہ کے ساتھ کوفہ بھی شامل ہو گیا تو اُس کے اور ان کے درمیان کشمکش برپا ہو گئی۔ وہ خطبے میں حضرت علیؓ کو گالیاں دیتا تھا اور یہ اُٹھ کر اس کا جواب دینے لگتے تھے۔ اسی دوران میں ایک مرتبہ انہوں نے نماز جمعہ میں تاخیر پر بھی اُس کو ٹوکا۔ آخر کار اس نے انہیں اور ان کے بارہ ساتھیوں کو گرفتار کر لیا اور ان کے خلاف بہت سے لوگوں کی شہادتیں اِس فرد جُرم پر لیں کہ ’’انہوں نے ایک جتھا بنا لیا ہے، خلیفہ کو علانیہ گالیاں دیتے ہیں ، امیر المومنین کے خلاف لڑنے کی دعوت دیتے ہیں، ان کا دعوی یہ ہے کہ خلافت آل ابی طالب کے سوا کسی کے لئے درست نہیں ہے ، انہوں نے شہر میں فساد برپا کیا اور امیر المومنین کے عامل کو نکال باہر کیا، یہ ابوتُراب و حضرت علیؓ کی حمایت کرتے ہیں ، اُن پر رحمت بھیجتے ہیں اور اُن کے مخالفین سے اظہارِ برائت کرتے ہیں ۔‘‘ ان گواہیوں میں سے ایک گواہی قاضی شُریح کی بھی ثبت کی گئی ، مگر انہوں نے ایک الگ خط میں حضرت معاویہ کو لکھ بھیجا کہ میں نے سُنا ہے آپ کے پاس حُجر بن عدی کے خلاف جو شہادتیں بھیجی گئی ہیں ان میں ایک میری شہادت بھی ہے۔ میری اصل شہادت حجر کے متعلق یہ ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں ، زکواۃ دیتے ہیں ، دائما حج و عمرہ کرتے رہتے ہیں ، نیکی کا حکم دیتے اور بدی سے روکتے ہیں۔ ان کا خون اور مال حرام ہے۔ آپ چاہیں تو انہیں قتل کریں ورنہ معاف کر دیں۔

اِس طرح یہ ملزم حضرت معاویہ کے پاس بھیجے گئے اور انہوں نے ان کے قتل کا حکم دے دیا۔ قتل سے پہلے جلادوں نے ان کے سامنے جو بات پیش کی وہ یہ تھی کہ ’’ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اگر تم علیؓ سے برا ئت کا اظہار کرو اور ان پر لعنت بھیجو تو تمہیں چھوڑ دیا جائے ورنہ قتل کردیا جائے۔‘‘ ان لوگوں نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا اور حُجر نے کہا’’ میں زبان سے وہ بات نہیں نکال سکتا جو رب کو ناراض کرے۔‘‘ آخر کار وہ اور ان کے سات ساتھی قتل کر دئیے گئے۔ ان میں سے ایک صاحب عبد الرحمن بن حسان کو حضرت معاویہ نے زیاد کے پاس واپس بھیج دیا اور اس کو لکھا کہ انہیں بدترین طریقہ سے قتل کرو چنانچہ اس نے انہیں زندہ دفن کرادیا۔
(تاریخ طبری، ج 4، صفحہ 190 تا 208۔
الاستیعاب ، ابن عبد البر ، ج 1، صفحہ 135
تاریخ ابن اثیر، ج 3، صفحہ 234 تا 42۔
البدایہ والنہایہ ، ابن کثیر، ج 8، صفحہ 50 تا 5۔
ابن خلدون، ج 3۳، صفحہ 13)۔
خلافت و ملوکیت، ص 164-165

Related:

 

http://worldshiaforum.wordpress.com/2012/08/22/are-the-saudi-wahhabi-clergy-waiting-for-an-opportunity-to-destroy-the-prophets-mosque-in-medina-by-ali-taj/

Latest Comments
  1. Abdallah
    Reply -
  2. Abdallah
    Reply -
  3. Raza
    Reply -
  4. Raza
    Reply -
  5. FJ2
    Reply -
  6. Ihsan Qadri
    Reply -
  7. Ihsan Qadri
    Reply -
  8. Abdullah AlFaisal
    Reply -
  9. Fazil Barelvi
    Reply -
  10. Abdullah AlFaisal
    Reply -
    • Ahmad Suharwardi
      Reply -
  11. Abduallah AlFaisal
    Reply -
    • Nabeela Niazi
      Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>