گستاخ کون؟ – از حق گو

images

گستاخ کون؟

لکھتے وقت تو مجھے بھی یہی محسوس ہو رہا ہے کے میں بھی اس طرح کی تحریر لکھ کے گستاخی کر رہا ہو.

نہیں..ہرگز نہیں..رسول پاک (ص) کی شان میں ہرگز نہیں.

مگر ان لوگوں کو میری یہ بات ضرور نہ گوار گزرے گی…جو اپنے سوا سب کو کافر سمجھتے ہیں…اور شاید میری یہ تحریر پڑھنے کے

بعد مجھ پر  بھی گستاخی رسول کا الزام لگا دیا جائے.

بندا نا چیز سید گھرانے کا چشم و چراغ ہے اور رسول محترم (ص) کی شان میں  گستاخی کرنے کی جسارت کا تصور بھی نہیں کر سکتا.

اپنے کاغذات کی خلاصی کے بعد ایک سوال کرنے کی جسارت کر رہا ہو.

کیا ہمارے پیغمبر (ص) جو سر تا پا سراپا رحمت تھے اور ان کی رحمت کا سا یا تمام جہانوں پی اس وقت تک قائم دائم رہے گا جب تک یہ

عالم قائم رہیں گے.

کیا وہ اپنی مبینہ گستاخی کے نام پر وہ سب کرنے کی اجازت دیتے جو ان کے  نام لیواؤں نے بادامی باغ میں کیا؟

یقیناً نہیں..ہرگز نہیں،..بھلا دے بھی کیسے سکتے ہیں جب ان کی تمام حیات طیبہ میںہمیں  ان کی رحمت کے وہ عظیم مثالیں نظر آتی

ہیں کے حیرت طاری ہو جاتی ہے.

کوڑا پھینکنے والی اگر ایک دن کوڑا نہ پھینکے تو وو خود اس کے گھر عیادت کے لئے تشریف لے جاتے ہیں.

مسجد میں اگر کوئی عربی بدو گلے میں  چادر ڈال کے کھینچتا ہے اور اس چادر کی کھینچ جانے کی وجہ سے اگر گردن مبارک پے نشان

پڑھ جاتے ہیں اور صحابہ اس بدو کو سبق سکھانے  کے لئے آگے بڑھتے ہیں تو انھیں روک دیتے ہیں.

اس طرح کی ہزاروں مثالیں تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں..اور ہم بڑے فخر سے ان سب کتابوں کو ماننے کا دعوا بھی کرتے ہیں…مگر

کبھی ہم نے یہ سوچا کے جو کچھ ان کتابوں میں لکھا ہے اس پر عمل کرنے میں ہمیں کون سی طاقت روکتی ہے؟

چند نام نہاد مولوی.جو صرف چند ٹکوں کے بدلے اپنا ایمان فروخت کرنے سے باز نہیں آتے..

کیا رحمت عالمین کے نام پر بے گناہوں کو قتل کرنا جائز ہے؟.

کیا رحمت عالمین کے نام پر لوٹ مار جائز ہے؟

شواہد بتاتے ہیں کے حلیہ بادامی باغ کا واقعہ ایک عیسائی اور مسلمان کے درمیان شراب کے نشے مے دھت ہو کے ہونے والی لڑائی کا

شاخسانہ ہے..

اس واقعے کے بعد علاقے میں موجود ایک قبضہ گروپ جس کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے ہے اور جو مختلف ناموں سے کام کر رہی

ہے .اس کے لوگوں نے اس واقعے کو بنیاد بنا کر کچھ سیاسی لوگوں کی پشت پناہی سے باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ مسیح آبادی کے گھروں

پر حملہ کیا اور لوٹ مار کے ساتھ ساتھ آگ بھی لگایی..گوجرہ کے واقعے میں بھی  کچھ تنظیموں کے لوگ ملوث تھے.

جی ہاں یہ وہی تنظیمیں ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی کر رہی ہیں…ان کے نام اہل سنت ول جماعت،لشکر جھنگوی اور سپاہ صحاب

ہیں.

یہ تنظیمیں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اقلیتوں پر بھی حملے کرنے میں پیش پیش ہیں..حالیہ واقعہ بادامی باغ اور اس سے پہلے کے گوجرہ

کے واقعے میں بھی انہی تنظیموں کے لوگ ملوث تھے.

سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی نے گوجرہ فسادات کے ذمے دار بھی انہی تنظیموں کو قرار دیا تھا اور پھر انہی تنظیموں نے شہباز بھٹی کو

گھات لگا کے قتل بھی کیا.

 اور یہی تنظیمیں جو کہ کالعدم بھی ہیں..ان  کے لوگوں کا کردار بنیادی ہے…میڈیا بھی اس بات کا تو اعتراف کر رہا ہے کے یہ قبضہ مافیا

کے اشاروں پے ہوانے والی کاروائی ہے…جس نے جوزف کالونی پی قبضہ کرنے کی غرض سے یہ سارا ڈرامہ رچایا ہے….مگر کوئی

..بھی اس قبضہ گروپ کی نشاندہی کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہا.

شیعہ  ،بریلوی،احمدی اور ہندو و ں پر ہونے والی حملوں میں بھی یہی تنظیمیں  ملوث ہیں…مگر حیرت کی بات ہے کہ کوئی بھی ان کا نام

..نہیں لیتا.سب ان کی دہشت گردی سے خوف زدہ ہیں.

اگر ان واقعیات پر غور کریں تو آپ کو سب سے زیادہ توہین رسالت کرنے والوں میں بھی یہی کالعدم تنظیموں کے لوگ نظر آہیں گے.

ٹھنڈے دماغ کے ساتھ سوچیں اور اپنے آپ سے سوال کریں.

کیا یہ پاکستان میں رہنے والی اعتدال پسند لوگوں کو ایک وارننگ تو نہیں.؟

کیا رحمت عالمین کے نام پر ان کے ماننے والوں کا قتل توہین رسالت نہیں ؟

کیا مسلمان اور عیسائی دونوں حضرت عیسیٰ (ع) پر ایمان نہیں رکھتنے؟

کیا مسلمان اور مسیح دونوں حضرت عیسیٰ (ع) کا انتظار نہیں کر رہے؟؟

مسلمان اور مسیح اپنے عقاید کے اعتبار سے کافی قریب تصور کے جاتے ہیں.

کیا عیسائی اهل کتاب نہیں ہیں؟

.کیا انکی کتاب آسمانی نہیں ہے

کیا بائبل مقدس کو جلانا توہین رسالت نہیں؟

کیا وہ ہماری طرح حضرت عیسی (ع ) کے منتظر نہیں ہیں؟

کیا ان کے املاک کو جلانا اور ان کے حقوق کو پامال کرنا رسول پاک (ص) کی تعلیمات سے انحراف نہیں؟

کیا یہ سب کرنے والے توہین رسالت کے مرتکب نہیں؟

اپنے آپ سے سوال کریں اور اس کا جواب دیں  کے رحمت عالمین کے نام پر  تشدد کی روایت کو فروغ دے کر ہم توہین رسالت کے مرتکب  تو نہیں ہو رہے”؟

اور پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعیت پر نظر ڈالیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کے ٩٥ % دہشت گردی کے

واقعیات  میں انہی دیوبندی دشت گرد تنظیموں کے لوگ ملوث ہیں..ضرورت اس امر کی کی ہے کا قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ہماری

سول اور فوجی اسٹیبلشمنٹ ان تنظیموں کو نہ صرف لگام ڈالے بلکہ ان کے خلاف سخت سے سخت کروائی کر کے اس تصور کو زائل کیا

جائے کے کے ان کو ہمارے قومی اداروں کی سرپرستی حاصل ہے.

یہ لوگ نہ صرف پاکستان میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں بلکہ بین ال اقوامی لیول پر بھی پاکستان کے لیا بدنامی کا موجب بن رہے ہیں.

 

 

http://www.akhbarpk.com/newspapers/daily-asas-newspaper-epaper-sunday-10-march-2013/

http://www.akhbarpk.com/newspapers/daily-asas-newspaper-epaper-sunday-10-march-2013/

Latest Comments
  1. Sapna Sahil
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

Current ye@r *