طاہر القادری پر تنقیدکرنے والےلوگ طاہر اشرفی پر خاموش کیوں؟ – حامد میر

ڈاکٹر طاہر القادری پر تنقید بہت آسان ہے۔ کوئی انہیں چابی والا بابا قرار دے رہا ہے تو کوئی انہیں کسی امریکی ڈرامے کا اردو ترجمہ قرار دے رہا ہے، کوئی انہیں جرنیلوں کی ناتمام خواہشات کا ٹوٹا ہوا آئینہ کہتا ہے اور کوئی انہیں سیاسی مداری قرار دیکر اپنے غصے کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا مذاق اڑانا اس لئے بھی بہت آسان ہے کہ ان کے ہاتھ میں بندوق نہیں ہے۔ انہوں نے 23 دسمبر 2012 کو مینار پاکستان لاہور کے سائے تلے لاکھوں کا مجمع اکٹھا کر لیا لیکن اس مجمعے کی طاقت کو میڈیا پر دباؤ کے لئے استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے میڈیا میں اپنی جگہ بنانے کیلئے اشتہارات کا سہارا لیا۔ سیاست بچاؤ یا ریاست بچاؤ کا نعرہ لگایا اور سیاستدانوں کی اکثریت کو اپنا دشمن بنا لیا۔ ڈاکٹر صاحب پر تنقید اس لئے بھی آسان ہے کہ انتہا پسند دیوبندی اور وہابی جماعتوں کے بر عکس ان کے مریدین نہ تو کسی اخبار یا ٹی وی چینل کے دفتر پر حملہ کرتے ہیں نہ ہی کیبل آپریٹرز پر دباؤ ڈال کر کسی چینل کی نشریات بند کرتے ہیں۔

تئیس دسمبر کے جلسے سے پہلے اور بعد میں کچھ اہل فکر و دانش نے خالصتاً نظریاتی یعنی کہ دیوبندی اور وہابی نظریات کی بنیاد پر اور سیاسی بنیادوں پر ڈاکٹر طاہر القادری کو آڑے ہاتھوں لیا کیونکہ ان کا نعرہ صاف پتہ دے رہا تھا کہ وہ غیر سیاسی قوتوں کو سیاست کا گند صاف کرنے کیلئے اقتدار پر قبضے کی دعوت گناہ دے رہے ہیں لیکن ڈاکٹر صاحب پر تنقید کرنے والوں میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہو گئے جو صرف تحریک طالبان پاکستان یا سپاہ صحابہ کو خوش کرنا چاہتے تھے۔

میں خود بہت گناہ گار انسان ہوں اس لئے جب کسی دوسرے کی عیب جوئی کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ سے ڈر لگتا ہے لیکن جب میں اپنے ایک بہت پرانے مہربان علامہ صاحب طاہر اشرفی دیوبندی کو مختلف ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر ڈاکٹر طاہر القادری پر الزامات لگاتے دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے وہ صحافی دوست یاد آنے لگتے ہیں جو ان علامہ صاحب کی شام کی مستی بھری محفلوں میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ علامہ صاحب شام کو میرے لبرل اور سیکولر دوستوں رضا رومی، نجم سیٹھی وغیرہ کے ساتھ بیٹھ کر طالبان کو ہدف تنقید بناتے ہیں اور دوپہر کو طالبان کے حامیوں لدھیانوی، اوریا مقبول جان کے ساتھ بیٹھے نظر آتے ہیں۔ میں جب اس علامہ صاحب کو ڈاکٹر طاہر القادری کے خلاف آگ برساتا دیکھتا ہوں تو میری نظریں جھک جاتی ہیں اور سوچتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب پر تنقید کتنی آسان اور اس علامہ صاحب پر تنقید کتنی مشکل ہے۔ اگر اس علامہ پر تنقید کروں تو کئی ساتھی اینکر، کئی نامور کالم نگار، کئی علماء اور کچھ کالعدم تنظیموں سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کے عہدیدار بھی مجھ سے ناراض ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری پر تنقید صرف ان علماء کرام کا حق ہے جن کا اپنا دامن صاف ہے۔

Source: Adapted and edited from Jang, 17 Jan 2013 http://jang.com.pk/jang/jan2013-daily/17-01-2013/col2.htm

Latest Comments
  1. Ahad
    Reply -
  2. Ali Erfani
    Reply -
  3. Fazil Barelvi
    Reply -
  4. saima
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>