BBC Urdu’s report confirms 21 Levies soldiers were killed by Deobandi militants of Sipah Sahaba

BBC Urdu’s report confirms 21 Levies soldiers were killed by Deobandi militants of Siaph Sahaba (other aliases: Lashkar-e-Jhangvi LeJ, Ahle Sunnat Wal Jamaat ASWJ). The report also confirms that LeJ-ASWJ and Taliban are two names of the same group, and that there is deep coordination and overlapping membership of Deobandi militants between Sipah Sahaba and TTP. The massacre of 21 Levies Jawans took place a few days ago, and was generally ignored by the media: #LeviesJawans: We condemn brutal murder of 21 Pakistan soldiers by Deobandi militants. Still indecisive, Gen Kayani? http://lubpak.com/archives/236083

لیویز اہلکاروں کو ندیم عباس گروپ نے ہلاک کیا‘

شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
آخری وقت اشاعت: منگل 1 جنوری 2013

لیویز کے اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل نے قبول کی تھی

پاکستان کے خفیہ اداروں کی جانب سے حکومت کو بھیجی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیم فوجی دستے کے اکیس اہلکاروں کو اغواء کر کے قتل کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ٹارگٹ گروپ ندیم عباس عرف انتقامی کو دی گئی تھی۔

خفیہ ادروں کی جانب سے بھیجی جانے والی اس واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹ میں اس ٹارگٹ گروپ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اُس کے ارکان ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں بھی ملوث ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ یہ گروپ پشاور اور متنی کے علاقوں میں زیادہ سرگرم ہے اور اس کے کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے قریبی روابط ہیں۔
یاد رہے کہ پشاور کے نزدیک ماشو خیل میں ایک چیک پوائنٹ سے اغوا کیے جانے والے اکیس نیم فوجی اہلکاروں کو شدت پسندوں نے ہلاک کر دیا تھا۔ لیویز کے اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل نے قبول کی تھی۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق لیویز اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد علاقے میں فرنٹئیر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے۔ اس سے کچھ عرصہ قبل ٹانک کے علاقے میں بھی نیم فوجی دستے یعنی لیویز کے سترہ اہلکاروں کو اغواء کرنے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

فرنٹئیر کانسٹیبلری تعینات
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اکیس لیویز کے اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد علاقے میں فرنٹئیر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق چند روز قبل خفیہ اداروں نے اِسی علاقے سے ایک ٹیلی فون کال ٹیپ کی تھی جس میں ٹارگٹ گروپ کے سربراہ طارق آفریدی نے ندیم عباس عرف انتقامی کو سکیورٹی فورسز اور نیم فوجی دستوں پر حملے کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔
واضح رہے کہ لیویز کے اہلکار پولیٹیکل ایجنٹ کے ماتحت ہوتے ہیں اور انہیں زیادہ تر وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے قریب فرنٹئیر ریجن میں تعینات کیا جاتا ہے۔ اور ڈپٹی کمشنر کو پولیٹکل ایجنٹ کے اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں۔
لیویز میں بھرتی کے لیے مقامی افراد کو فوقیت دی جاتی ہے اور اس کی ذمہ داری بھی پولیٹکل ایجنٹ پر ہی ہوتی ہے۔
متعقلہ حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس علاقے میں فرنٹئیر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے جو لیویز کے ساتھ مل کر علاقے میں امن وامان کی صورت حال پر نظر رکھیں گے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے سکیورٹی اداروں نے میران شاہ سے ایک کال ٹیپ کی تھی جس میں تحریک طالبان پاکستان کے رہنما حکیم اللہ محسود ملالہ یوسف زئی کے واقعہ سے متعلق میڈیا پر اُن کے گروپ پر تنقید کا بدلہ لینے کے لیے ندیم عباس کو میڈیا کے نمائندوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہدایات جاری کر رہے تھے۔

Source: http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/01/130101_kidnapped_troops_follow_up_rwa.shtml

Comments

comments

Latest Comments
  1. ali erfani
    -
  2. Ahmad
    -