طالبان ملک یعنی پیپلز پارٹی کا مسعود محمود ثانی – Rehman Malik is PPP’s Masood Mahmood 2

تاریخ میں کچھ ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جن کو پاکستانی عوام اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن ملک اور عوام کے غداروں کی حیثیت سے یاد کریں گے ان میں ایک ایسا کردار مسعود محمود ہے جس کو مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے اسلام آباد کی فیڈرل سکیورٹی فورس کا سربراہ بنا کر عوام اور عوامی حکومت کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری سونپی – پاکستان کے اکثر بیوروکریٹس کی مانند یہ ایسا نمک حرام نکلا جس نے جنرل ضیاءالحق دیوبندی یزیدی کے مارشل لا کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف نمک حرامی کی قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کو جھوٹے قتل کے کیس میں ملوث کر دیا اور ان کے خلاف جھوٹی گواہی دے کر سلطانی گواہ بن گیا تاریخ میں مسعود محمود کا نام یزید، ابو سفیان، ملا عمر ، ضیاالحق اور حقنواز جھنگوی کے ساتھ لکھا جائے گا

آجکل ہم مسعود محمود ثانی یعنی رحمٰن ملک کے کمالات دیکھ رہے ہیں رحمان ملک کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہیں

فوج کی تابعداری کرنا
سندھ، بلوچستان، پختونخواہ، پنجاب، گلگت بلتستان و اسلام آباد میں زیادہ سے زیادہ شیعہ اور سنی بریلویوں کا قتل عام کروانا
تمام صوبوں میں شیعہ اور سنی بریلویوں کے قاتل تکفیری دیوبندی دہشت گردوں یعنی سپاہ صحابہ اور طالبان کا نام لینے سے گریز کرنا اور ان کو قتل عام کرنے کی کھلی چھوٹ دینا
جس قتل عام کی ذمہ داری طالبان قبول کر لیں اس میں طالبان کی شمولیت سے انکار کرنا اور طالبان کی مذمت سے گریز کرنا
تکفیری دہشت گرد تنظیموں سپاہ صحابہ، لشکر طیبہ لشکر جھنگوی پر پابندی ہٹانے کی کوشش کرنا
تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے شیعہ، سنی بریلوی مسلمانوں کی شہادت کو سنی شیعہ فرقه واریت قرار دینا
فوج کو پیپلز پارٹی کے اندر کے رازفراہم کرنا
فوجی حمایت یافتہ لبرلز کے ساتھ مل کر شیعہ اور سنی بریلوی مسلمانوں کے خلاف سازش کرنا
شیعہ نسل کشی پر نظر رکھنے والی ویب سائٹوں کو بند کرنا لیکن سپاہ صحابہ اور تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کی ویب سائٹوں پر کوئی اعتراض نہ کرنا

اپنے حالیہ آرٹیکل میں بی بی سی اردو نے رحمان ملک کی منافقت اور طالبان نوازی کا پردہ یوں چاک کیا ہے

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک ذرائع ابلاغ کو اپنے مخصوص انداز میں بیانات جاری کرنے کی وجہ سے ملک بھر میں شہرت رکھتے ہیں۔
حال ہی میں ملک صاحب کی طرف سے ایک انوکھا بیان جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے ممنوعہ تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کو بیس کروڑ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اس سے پہلے ملالہ یوسف زئی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے پر بھی احسان اﷲ احسان کے سر کی قیمت دس لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔

حالیہ بیان اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کیونکہ رحمٰن ملک کوئی عام وزیر نہیں بلکہ وزیر داخلہ ہیں جو ملک کی سب سے اہم وزارت سمجھی جاتی ہے۔ اس عہدے پر مامور شخصیت کو مُلک کے دوسرے اہلکاروں کی نسبت ہرچیز کا زیادہ علم ہوتا ہے کیونکہ قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے خُفیہ ادارے بھی ان کے کنٹرول میں ہوتے ہیں لیکن جب انہیں اس بات کا علم نہیں کہ دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے والا کون ہے تو کسی عام شخص سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔

بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستانی وزیر داخلہ کے پاس معلومات کا شدید فقدان پایا جاتا ہے اور شاید خُفیہ ادارے بھی بے بس ہیں اس لئے عوام سے احسان اللہ احسان کی تلاش میں مدد مانگ رہے ہیں۔
برا کون ہے؟

رحمٰن ملک کا کہنا ہے کہ احسان اللہ احسان کا تعلق تحریک طالبان سے نہیں ہے بلکہ یہ ملک میں بیرونی عناصر کے لیے کام کر نے پر مامور ہیں ۔اگر رحمٰن ملک کو اتنا علم ہے کہ احسان اللہ احسان تحریک طالبان کے ترجمان نہیں ہے بلکہ بیرونی عناصر کے لئے کام کر رہے ہیں تو کیا اس کا مقصد یہ ہوا کہ تحریک طالبان پاکستان اچھے لوگ ہیں اور صرف احسان اللہ احسان برے ہیں۔
دوسری طرف رحمٰن ملک کا کہنا ہے کہ احسان اللہ احسان کا تعلق تحریک طالبان سے نہیں ہے بلکہ یہ ملک میں بیرونی عناصر کے لیے کام کر نے پر مامور ہیں ۔اگر رحمٰن ملک کو اتنا علم ہے کہ احسان اللہ احسان تحریک طالبان کے ترجمان نہیں ہے بلکہ بیرونی عناصر کے لئے کام کر رہے ہیں تو کیا اس کا مقصد یہ ہوا کہ تحریک طالبان پاکستان اچھے لوگ ہیں اور صرف احسان اللہ احسان برے ہیں۔

رحمٰن ملک کی یہ بات کہ احسان اللہ احسان کا تحریک طالبان سے کوئی تعلق نہیں ہے اگر یہ بات سچ ہے تو پھر تحریک طالبان احسان اللہ احسان کی طرف سے قبول کی جانے والی ذمہ داریوں کی تردید کیوں نہیں کرتی۔ تحریک طالبان پاکستان نے ابھی تک ان کے کسی بھی دعوے سے انکار نہیں کیا ہے۔

سب سے حیران کُن بات یہ ہے کہ احسان اللہ احسان روزانہ صحافیوں سے ٹیلی فون پر رابط کرتے ہیں لیکن رحمٰن ملک کو اس کی اطلاع نہ ملنا اس سے بھی زیادہ حیران کن بات ہے۔ وہ جس ٹیلی فون سروس کے ذریعے سے صحافیوں سے رابطہ کرتے ہیں وہ تمام ٹیلی فون لائنیں حکومت پاکستان کی ملکیت ہیں کسی غیر ملک کی نہیں۔ لیکن پھر بھی وزیر داخلہ صاحب کو علم نہیں ہوتا۔
پاکستان میں کوئی ایسا صحافی نہیں ہے جس کا ٹیلی فون ٹیپ نہ ہوتا ہو یا جس کے دفتر یا گھر کے بارے میں حکومتی افراد کو علم نہ ہو، چاہے یہ صحافی قبائلی علاقوں میں رہتا ہو یا ملک کے کسی دوسرے شہر میں۔
احسان اللہ احسان کون ہے؟

شدت پسندی پر تحقیق کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ احسان اللہ احسان کوئی ایک آدمی نہیں کہ ان کے سر کی قیمت مقرر کی جائے بلکہ یہ تو ایک نام ہے جو طالبان کی طرف سے رکھا گیا ہے ، اگر موجودہ احسان اللہ احسان نہیں رہے تو کوئی دوسرا اسی نام سے سامنے آجائےگا۔

ایک سینئر اہلکار سے جب ٹیلفیون ریکارڈ کرنے کی ٹیکنالوجی کے بارے میں گزشتہ دنوں دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا کہ صحافی امریکہ اور برطانیہ سے کہیں کہ وہ حکومت پاکستان کو یہ ٹیکنالوجی فراہم کرے۔

مصبرین کا کہنا ہے کہ احسان اللہ احسان ایک فرضی نام ہے۔ اس سے پہلے جنہیں احسان اللہ احسان کے نام سے مرکزی ترجمان مقرر کیا گیا تھا ان کا تعلق اورکزئی ایجنسی سے تھا اور آج کل جو ترجمان احسان اللہ احسان کے نام سے کام چلا رہے ہیں ان کا تعلق مہمند ایجنسی سے بتایاجاتا ہے۔ یعنی نام وہی پرانا استعمال کیا جا رہا ہے تاہم افراد تبدیل ہوتے رہے ہیں۔

مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان میں اندونی اختلافات ضرور پائے جاتے ہیں مگر وہ اتنے بڑے پیمانے پر نہیں ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے وجود کو کوئی خطرہ درپیش ہوجائے۔ تحریک کے اہم کمانڈر حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمن کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات ہیں تاہم دونوں کمانڈر تحریک کو ٹوٹنے سے بچا رہے ہیں

Latest Comments
  1. Babar
    Reply -
  2. khalid humayun
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

Current ye@r *