شیعہ نسل کُشی کے مخالف دیوبندی علماءکے قاتل کون؟ حصّہ اوّل – خالِدبنوری

دیوبندی مکتبِ فکرکے حامِل افراد میں شیعہ نسل کُشی میں مُلوّث مختلف نام بدلنے والی دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کو مدارس میں سرگرمیوں سے روکنے، مدارِس کے طلبہ کی اس میں شمولیت کی حوصلہ شِکنی کرنے اورشیعہ مسلک کے حامِل علماء سے تعلّق رکھنے، اِن کے اجتماعات میں شِرکت کرنے والے افراد کے پُراسرار قتل کا موضوع شاید کم ہی لوگون کے لئے دِلچسپی کا موضوع ہو چوں کہ اِس حوالے سے معلومات کبھی مین اسٹریم میڈیا کا موضوع نہیں رہے۔ اِسی لیئے اس حوالے سے تفصیلات پر ہمیشہ اخفاء کا پردہ پڑا رہا ہے۔

مولانا مُحمد بنوری الحُسینی کا قتل

مولانا مُحمد بنوری الحسینی، جامعۃ العلوم الاسلامیہ علّامہ بِنوری ٹاوّن کے بانی ومہتمم مولانا یوسف بنوری الحسینی مرحوم کے بیٹے اور حالیہ ناَئب مہتمم مولانا خالد بنوری صاحب کے بڑے بھائی تھے۔ مولانا صاحِب شیعہ مُخالف تنظیم سپاہ صحابہ کے انتہائی مُخالف اور شیعہ سنّی ہم آہنگی کے بہت بڑے داعی تھے۔ وہ بارہا شیعہ مجالس میں مدعو کئے جاتے اور شریک ہوتے، ہندوستان سے آئے ہوئے شیعہ عالم علّامی کلبِ صادِق نقوی کی مجلس میں نہ صرف وہ شریک ہوئے بلکہ وہاں نماز کی اِمامت بھی کروائی، اس حوالے سے تمام بڑے اخبارات نے اس مجلس کی خبر تصویر کے ساتھ چھاپی۔

بنوری پاگل ہوگیا ہے؟

اس جراّت کی پاداش میں انہیں نہ صرف مخالِفت کا سامنا کرنا پڑا بلکہ پاکستان کی خُفیہ ایجنسیوں سے روابط بلکہ دیوبندی جماعت میں “ٰعلماء کا امریکہ” کے نام سے معروف مفتی محمد جمیل اور جامعہ بنوری ٹاوّن میں بیٹھے چند احباب نے مولانا محمد بنوری کے حوالے سے زہریلا پروپیگنڈا شروع کردیا اور ان کے بارے میں یہ خبر عام کی گئی کہ وہ مدرسے کے انتظامی معاملات پر اثرانداز ہونے کے لئے زیادہ اختیارات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اِس حوالے سے انہیں خوب بدنام کرنے کے بعد اگلا پروپیگنڈا یہ کیا گیا کہ مولانا محمد بنوری کا دماغ چل گیا ہے اور وہ ذہنی توازُن کھو بیٹھے ہیں اور بتدریج ان کی نقل وحرکت محدود کرکےان کو اپنے حجرے تک مدود کردیا گیا۔ حالاں کہ وہ قریبی رفقاء سے چیخ چیخ کر کہتے رہے کہ میں پاگل نہیں ہوں یہ لوگ مُجھے ماردیں گے۔ ۔ ۔ ۔

 خودکشی ؟

اور پھر یہ خبر آئی کہ مولانا محّمد بنوری نے خودکُشی کرلی، جائے واردات پر پھیلے شواہد چیخ چیخ کر یہ گواہی دے رہے تھے کہ مولان کو قتل کیا گیا ہے، سر کے گھاوّ پر ایک سے زیادہ گولیوں چلائے جانے کے شواہد، گولیوں کے خول اور قاتل کے عجلت میں ہاتھ صاف کئے ہوئے تولیے کی موجودگی اور ایسی کئی چیزیں اسے قتل بنارہی تھیں لیکن ڈی ای پِی کو اٹھارہ لاکھ کی ادائیگی اور چند بارسوخ افراد کی مُداخلت سے معاملہ رفع ہوگیا

نہ کسی دیوبندی نے احتجاج کیا نہ کسِی شیعہ کے کان پر جوں رینگی، شاید بہت سوں نے تو یہ نام بھی نہ سُنا ہو، لیکن وہ لوگ جو شیرٹن میں علّامہ کلبِ صادق کی مجلس میں موجود تھے ضرور مُتجسس ہوں کہ وہ دیوبندی مولوی کہاں گیا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>