محبتوں کو آسیب سمجھنے والے – عامر حسینی

محبتوں کو آسیب سمجھنے والے

لیل و نہار
عامر حسینی

بہاول پور کی نادیہ کو پسند کی شادی کرنے پر اس کے بھائیوں نے موت کے گھات اتار دیا-حیدر آباد میں ثمینہ اور اس کے شوہر کو پسند کی شادی کرنے پر اس کے والد نے گولی مار دی وہ اس وقت حاملہ بھی تھی-لاہور میں ماں نے کرائے کے قاتلوں کے ذریعہ پسند کی شادی کرنے والی بیٹی صائمہ کو قتل کرڈالا-بلوچستان میں جعفر آباد میں دو بچیاں پسند کی شادی کرنے پر ماں سمیت زندہ دفن کر دی گئیں

ایسے ان گنت واقعات ہمارے سماج میں ہر روز پیش آرہے ہیں -پسند کی شادی کرنے پر باپ،بہے،چچا اور ماموں،کزن اور کبھی کبھی ماں عمومی طور پر لڑکی کو یا پھر دونوں کو قتل کر دیتے ہیں-اور ایسے قتل کو ہمارے سماج میں اول تو درست فعل قرار دیا جاتا ہے-اگر اس کی مذمت ہی کی جائے تو اگر،مگر،لیکن کے ساتھ کی جاتی ہے-اور عمومی طور پر پولیس اور عدالتوں کا رویہ بھی غیر ہمدردی کا ہوتا ہے-اس حوالے سے آئے دن بچیوں کے قتل میں بہت زیادہ اضافہ ہورہا ہے-اگر پسند کی شادی کرنے والے مرد و عورت قتل ہونے سے بچ بھی جائیں تو ان کو غلط مقدمات میں پھنسایا بھی جاتا ہے-اور وہ کورٹکے دھکے کھاتے پھرتے ہیں-ایسی شادی کرنے والوں کے بارے میں ہمارا سماج بہت زیادہ منافقت سے بھی کام لیتا ہے-وہ محبت کی شادی منانے والوں کو اخلاقی ملزم قرار دیتا ہے-اور گھر والوں کو بھی مشتعل کرنے سے باز نہیں آتا-پسند کی شادی کو ایک مذموم فعل بنا دیا گیا ہے-اور اس فعل کے بارے میں تنگ نظری صرف دیہی اور جاگیر داری سماج میں ہی موجود نہیں ہے بلکہ شہری اور اربن سماج میں بھی یہ موجود ہے

میں اس بات پر حیران ہوں کہ پسند کی شادی اور مرد و عورت کے درمیان محبت کا جزبہ پاکستان کے سندھی،بلوچی،سرائیکی،پنجابی،کلچر میں محبت کی عظیم داستانوں “ہیر رانجھا”سسی ،پنوں “ماروی جام تماچی “لیلیٰ مجنوں “کی شکلوں میں موجود ہے-اور ان کی محبتوں کے حوالے سے ان کرداروں کو خراج احسین بھی پیش کیا جاتا ہے-ہیر پنجاب کے دیہایتوں میں عام سنائی جاتی تھی-اور کیدو ایک قابل نفرت کردار مانا جاتا ہے-کیدو جیسے کردار کے ذریعہ دو محبت کرنے والوں کے درمیان تفریق کو مجسم کر دیا گیا ہے-مگر ہمارے ساتھ معاملہ کیا ہے؟کہ جب ہیر رانجھا جیسے کردار مجسم ہوکر ہمارے سامنے آتے ہیں اور اپنی محبت کا اقرار کرتے ہیں تو ناجانے کیوں ہم بجائے ہیر و رانجھا کو ملانے کا کردار اداکرنے والوں کے سب سے قابل نفرت کردار کیدو کا کاسٹیوم پہن لیتے ہیں-اور دور حاضر کے ہیرورانجھا کو دفن کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں-محبت جیسے فطری جذبے پر ہماری بھنویں تن جاتی ہیں-غصے سے چہرہ سرخ ہوجاتا ہے-اور ہم اس جذبے کو جو قدرتنے ہر مرد اور عورت کو دیا ہے اس کو شرم،غیرت اور اقدار کے منافی خیال کرنے لگتے ہیں-بھلا کوئی محبت کو بھی آسیب خیال کرتا ہے؟اس سوال کا جواب اثبات میں ہے-اور اس آسیب کو اتارنے کے لئے خون کا دریا بھی پار کرنا پڑے تو گریز نہیں کیا جاتا-اگر خون آشامی کا مظاہرہ کرنے والوں سے یہ سوال کرلیا جائے کہ پسند کی شادی دنیا کے کسی مذھب منع ہے تو وہ یہ اقرار کرتے ہیں کہ منع تو نہیں ہے مگر ان کی غیرت گوارا نہیں کرتی

میں کہتا ہوں کہ ہمارے سماج میں عورتوں کی آزادی اور عورتوں کے اپنے حقوق پر اصراراصل میں اس سماج کے مردوں کی اکثریت کو اپنے غلبے اور اپنی طاقت کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج لگتا ہے-اور مردوں کو اپنی ان کچلی ہوئی محسوس ہوتی ہے-یہ معاشرہ مردوں کے نامعقول قبضہ گیر مقام کو چیلنج کرنے والی کوئی بھی حرکت برداشت نہیں کرتا-پسند کی شادی ہو ی عورت کی تعلیم میں برتری کا معاملہ ہو-اکثر مرد عورتوں کی تعلیم اور ان کی معاشی خود مختاری کو اپنے غلبے اور اتھارٹی کے لئے اخت خطرہ قرار دیتے ہیں اور ایسی عورتیں ایک قدم آگے جاکر اگر پسند کی شادی جیسا قدم اٹھائیں تو بس وہ اپنے جینے کا حق کھو بیٹھتی ہیں-ایک طرف معاشی دباؤ اور جدید سرمایہ داری کے بد ترین استحصال سے عورتوں پر باہر جاکر کام کرنے اور جدید تعلیم سے آراستہ ہونے پر مجبور کرتا ہے تو دوسری طرف اس سے عورتوں میں اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا جذبہ اور امنگ پیدا ہوتی ہے تو اس کی زبردست مخالفت سماج سے سامنے آتی ہے اور عورتوں کا قتل اس رہ سے آسان کر لیا جاتا ہے-مرد اپنی انا کو پہنچنے والی ٹھیس کا بدلہ تشدد اور جارحیت کے ساتھ لیتا ہے

ہم کس قدر منافقت کے شکار ہیں کہ ایک طرف تو ہمارا ادب،شعر ،کہانی ،ناول گیت،فلم،ڈرامے ،لوک کہانیاں،داستانیں محبت میں ڈوبی ہوئی ہیں-اور ان سب سے ہم لطف اندوز بھی ہوتے ہیں-سینما میں محبت کی کہیں ناکامی ہو تو اکثر تماش بینوں کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اور ہم سب فلم میں محبوب اور محب کی محبت کو کامیاب ہوتا دیکھنے اور کدوں کی بربادی کے متمنی ہوتے ہیں-جب فلم کا ہیرو اپنی ہیروئن کو پالیتا ہے تو ہال تالیوں سے گونجتا ہے اور سب کے چہرے خوشی سے دمک رہے ہوتے ہیں،اگر فلم کا اینڈ ٹریجڈی و المیہ ہو تو ہم سب دل میں کہتے ہیں کاش ایسا نہ ہوتا اور افسردگی کے ساتھ گھر کو لوٹتے ہیں-ہماری شعری زندگی میں ہجر،فراق و وصال سے لیکر کوچہ یار کے طواف کرنے کی باتیں اور اس میں واعظ ،ناصح اور محتسب کی مذمت کرنےتک سب باتیں محبت کے گرد گھومتی ہیں-اور ہم محبت کو اگر آسیب خیال بھی کرتے ہیں تو اس کو حظ اور مسرت والا آسیب کہتے ہیں-مگر یہی محبت جب کچھ کرداروں کی شکل میں گوشت پوست کے حقیقی مرد و عورت کی صورت ہمارے سامنے کھڑی ہوجائے تو ہم سب مل کر اس کو دفنانے اور موت کے گھات اتارنے کی کوشش کرنے لگ جاتے ہیں-اور اس کو معاشرے میں سب سے الگ کرکے اور غیر کے مارنے کی کوشش کرتے ہیں

مجھے اکثر خیال آتا ہے کہ ہمارا سماج ظلم،جبر اور گھٹن کے خلاف ماضی میں بغاوت کرنے والوں اور ہر طرح کی قربانی کے لئے خود کو پیش کرنے والوں کے قصیدے پڑھنے سے باز نہیں آتے لیکن ایسا کوئی باغی یا مرد حر حقیقی طور سامنے آجائے تو وہ غربت و کسمپرسی میں ظالموں کے ہاتھوں مارا جاتا ہے-اور پھر اس کو آزادی کا بغاوت کا استعارہ بنا لیا جاتا ہے-حسین کے ساتھ کیا ہوا؟حلاج کے ساتھ کیا بیتی ؟اور سرمد کے ساتھ کیا کیا گیا؟آج ہم ان سب کو پوجنے کو بھی تیار ہیں

ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جو محبت ،بغاوت اور مزاحمت کی خیالوں میں تو پوجا کرتا ہے مگر اس کی تجسیم ہو تو اس کو مٹا ڈالتا ہے-ایسی اجتماعی بیمار نفسیات کے ساتھ زندگی گزارنا کم از کم مجھ جیسے آدمی کے لئے تو کسی عذاب سے کم نہیں ہے-میں سوچتا ہوں کہ ایک باغی اور اک عاشق دونوں کا انجام سولی شائد اس لئے بھی ہوتا ہے کہ وہ افلاطونی اور آسمانی سمجھی جانے والی قدروں کو مادی لباس پہنانے کی کوشش کرتے ہیں-خیال کو عمل کا روپ دیتے ہوئے زمین زادوں کو وصال میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں -وہ رازوں کے راز کو ظاہر کرنے کی ہمت کرتے ہیں-ایک بڑے پاگل خانے میں چھوٹا ذہنی طور پر صحت مند سماج قائم کرنے کی طرف قدم بڑھاتے ہیں-یہی سب سے بڑا جرم ہوا کرتا ہے-ایک ثقالت اور رذالت کے مارے سماج میں محبتوں کی لطافتوں کو تجسیم کرلینا اور ان کا مادی حصول کرنا غیرت جیسے جذبوں کو ہی آواز دے سکتا ہے-غیرت ہوتی کیا ہے یہ تو دراصل ہوا کرتی ہے-حاکموں کا مارشل لاء اور حاکموں کی حاکمیت کو باقی رکھنے کا سب سے آسان رستہ بھی-یہ جہالت ،درندگی ،تشدد،بربریت سب کو آسانی کے ساتھ اپنے دامن میں چھپا لیتی ہے-اور محبتوں کی لطافت کو ثقالت و رذالت کی بدبودار دلدل میں دھنسا دیتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>