(کرپٹ” زرداری اورصادق وامین فرشتوں کی اصل کہانی (1″

تحریر: امام بخش

صدرپاکستان آصف علی زرداری 26 جولائی 1955ء کو کراچی میں حاکم علی زرداری مرحوم کے گھر پیدا ہوئے۔ آصف علی زرداری اولادِ نرینہ میں اکلوتے ہیں۔ حاکم علی زرداری ایک قبائلی سردار اور ممتاز زمیندار تھے۔ نواب شاہ میں ان کی ہزاروں ایکڑ زمین ہے۔ انکا اندرونِ سندھ زمینداری کے ساتھ کراچی میں بھی کاروبار تھا۔ حاکم علی زرداری کی ملکیت میں کراچی میں ایک بمبینونامی مشہور سینما تھا۔ جو اُنھوں نے ایک اسکول کو عطیہ کردیا۔

خان بہادرحسن علی آفندی، آصف علی زرداری کے نانا تھے۔ جو سندھ مدرسۃ الاسلام کے بانی تھے۔ یہ وہی مدرسہ ہے جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح جیسی عظیم ہستی زیر تعلیم رہی۔

آصف علی زرداری اپنی پرائمری تعلیم کراچی گرامر اور سینٹ پیٹرکس  سکول میں مکمل کرنے کے بعد سیکنڈری تعلیم کے لیے دادو میں قائم کیڈٹ کالج پٹاروچلے گئے۔ 1972ء میں پٹاروسے انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے کے بعد وہ بزنس کی تعلیم کے لئے لندن چلے گئے۔ آصف زرداری اوائل عمر سے ہی “یاروں کے یار” ٹائپ شخص کے طور پر کراچی کے متمول حلقوں میں جانے جاتے تھے۔ وہ نوجوانی میں پولو اور باکسنگ کے کِھلاڑی رہے ہیں۔ انہوں نے پولوکی “زرداری فور” نامی ٹیم کی قیادت بھی کی ہے۔

آصف زرداری کے اُس زمانے کے ایک ساتھی کے بیان کے مطابق آصف زرداری ایک بڑے دل والا شخص ہے۔ بقول اس کے ایک مرتبہ کراچی کے مضافات میں ہم لوگ ہارس رائڈنگ کر رہے تھےکہ ہمارے گروپ میں شامل ایک جرمن سفارتکار کی بیٹی کا گھوڑا دلدل میں دَھنس گیا۔ اس صورتحال میں کوئی آگے نہیں بڑھا۔ لیکن آصف دَلدل میں اکیلا اُتر گیا اور اُس نے پہلے لڑکی کو بچایا پھر گھوڑے کو بھی باہر نکال کر سب کو حیران کر دیا ۔

سیاست سے آصف علی زرداری کا اسی کی دہائی کے وسط تک دُور دُور تک واسطہ نہیں تھا۔ بس ایک سراغ یہ مِلتا ہے کہ 1985ء کے غیرجماعتی انتخابات میں آصف علی زرداری نے نواب شاہ میں صوبائی اسمبلی کی ایک نِشست سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے۔ مگر یہ کاغذات واپس لے لئے گئے۔ اسی زمانے میں آصف علی زرداری نے کنسٹرکشن کا کاروبار شروع کیا لیکن اس شعبے میں وہ صرف دو ڈھائی برس ہی فعال رہے۔

1987ء آصف علی زرداری کے لئے فیصلہ کن سال تھا تب اِن کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا اور ان کی زندگی ایک نئی ڈگر کو چل نکلی، جب ان کی سوتیلی والدہ ٹمی بخاری اور بیگم نصرت بھٹو نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ آصف علی زرداری کا رشتہ طے کیا۔

 18 دسمبر1987ء کو ہونے والی بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری  کی شادی کراچی کی یادگار تقاریب میں شمار ہوتی ہے۔ جس کا استقبالیہ کراچی کے امیر ترین علاقے کلفٹن کے ساتھ ساتھ غریب ترین علاقے لیاری کے ککری گراؤنڈ میں بھی منعقد ہوا اور اُمرا کے شانہ بشانہ ہزاروں عام لوگوں نے بھی شرکت کی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد بے نظیر بھٹو اور انکے لاکھوں سیاسی پرستاروں کے لیے یہ پہلی بڑی خوشی تھی۔

آصف علی زرداری کی زندگی محترمہ بے نظیر بھٹو سے شادی کے بعد ہنگامہ خیزہو گئی۔ چِیرہ دست اِسٹیبلیشمنٹ نے زرداری پربے نظیر بھٹوسے رشتہ طے ہونے کے دن سے ہی اپنی “نظرِعنایت” اور کرتب کاری شروع کردی تھی جو 1967ء سے پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کی پرانی خواہش مند تھی۔ کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی اِسٹیبلیشمنٹ کے لئے پہلے دن سے ہی ایک دہشت کا نام رہی ہے۔ اور یہ دہشت زدہ اِسٹیبلیشمنٹ ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چھوٹے سے چھوٹے نشان سےبھی گھبرا کر اُسے مٹانے کے درپے رہی ہے۔ مثال کے طور پر ضیاءالحق کےدور میں پی پی پی کے جھنڈے کے تین رنگ یعنی کالا، لال اور سبز پر غیر اِعلانیہ پابندی تھی۔ پابندی اتنی سخت تھی کہ گلی محلے اور بازار کے رنگ ریز خواتین کے دوپٹے رنگتے ہوئے بھی یہ احتیاط کرتے تھے کہ مبادا یہ تین رنگ کسی دوپٹے میں یکجا ہو کر”مومنی”مارشل لاء کے جاہ و جلال کونہ للکاردیں۔

1988ء کے الیکشن  کی انتخابی مہم کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی کے خلاف غدار اور ملک توڑنے کے الزامات عائد ہوتے رہے۔ مگرجب عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی کو بے پناہ دھاندلی کے باوجودجتوا دیا اور اِس طرح بھٹو فیملی کے خلاف بے بنیاد الزامات کی بھرمارکے باوجود عوام کے رجحان نے اِسٹیبلیشمنٹ کے سامنے حقیقت کھول کر رکھ دی تھی۔ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد پُر کار اِسٹیبلیشمنٹ کو نئی جہت میں آصف علی زرداری آسان ٹارگٹ لگے۔ اپنی آتما ٹھنڈی کرنے کے لیے اِن پر خُوب خُوب طبع آزمائی کی گئی اور گھٹیا سے گھٹیا حرکت تک سے گریز نہ کیا گیا۔ اور اس دن سے زرداری کے بارے میں ان فرشتوں کا طریقہْ واردارت ڈاکٹر جوزف گوئبلز والا رہا ہے۔

پی۔ایچ۔ ڈی ڈگری ہولڈرگوئبلز کے بارے میں مختصر بتاتا چلوں کہ وہ پروپیگنڈےمیں مہارت کی وجہ سےبہت جلد ایڈولف ہٹلر کا قریبی ساتھی اور وزیرپروپیگنڈہ بن گیا اور اس نے اپنی وزارت کو بڑی کامیابی سے چلایا۔ یہ وزارت جنگ عظیم کے اواخر یعنی 1945ء تک گوئبلز کے پاس رہی۔ گوئبلزکا بڑا مشہور قول ہے کہ ”جھوٹ بارباراور اتنی بار بولو کہ سننے والے اسے سچ مان لیں”۔

جب میں اپنے پاکستان میں پروپیگنڈے کے “صادق و امین “گوئبلز کو وافر مقدار میں دیکھتا ہوں تو بے چارہ گوئبلز ان کے سامنےبالکل طفلِ مکتب لگتا ہے۔ ان پاکستانی گوئبلز نےاپنی مہا کاری 1987ء سے لے کر آج تک منظم انداز میں “کرپٹ” آصف علی زرداری پر خوب آزمائی ہے۔ انہوں نے میڈیا کے ذریعےآصف علی زرداری کی کردار کشی کی بد ترین مہم چلائی۔ زرداری کے خلاف جھوٹ بارباراور اتنی بار بولے کہ اب ان کے خلاف کوئی بھی الزام آئے تو لوگ فوراً سچ

مان لیتےہیں۔ (جاری ہے)

Source: Mochi Gate

Latest Comments
  1. Ali
    Reply -
  2. IHSAN DAYO
    Reply -
  3. Rana Jamshed
    Reply -
  4. Asif Chandio
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>