توہین رسالت کے سب سے بڑے مرتکب مسلمان خود ہیں

کیا لخت جگر رسول حضرت فاطمہ کا مزار مقدس گرانے سے توہین رسالت نہیں ہوئی؟

مسلمانوں کی معصومیت نامی فلم اور اس کے بنانے والوں اور پشت پناہی کرنے والوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن کیا اس بات کو چھپایا جا سکتا ہے کہ اس توہین آمیز فلم کو عربی میں ترجمہ کر کے مصر اور دوسرے عرب ممالک میں پھیلانے والے لوگ سلفی مسلمان تھے ؟

کیا اس حقیقت کو چھپایا جا سکتا ہے کہ رحمت اللعلمین کے نام پر تشدد آمیز مظاہرے کرنے والے اپنے ہی ملکوں میں مسیحیوں، یہودیوں، شیعہ مسلمانوں ، صوفی (بریلوی) مسلمانوں اور دوسرے مظلوم گروہوں کے ساتھ جانوروں سے بھی برا سلوک کرتے ہیں؟

آپ سوچیں گے تو آپ کو اسلامی دنیا کی آستین میں سانپ اور مسلمانوں کے ہاں دوہرا معیار صاف دکھائی دے گا، لیکن اس کے لئے آپ کو تمام تر تعصبات کو بالائے طاق رکھ کر یہ سوچنا پڑے گا کہ کیا یہ “مسلمانوں کی معصومیت” نامی فلم اس لئے بری ہے کہ اس کا بنانے والا ایک عیسائی پادری ہے، یا پھر اس لئے بری ہے کہ اس میں معراج انسانیت اور ختمی المرتبت (ص) کی شان میں گستاخی کی گئی ہے؟

اگر آپ کے نزدیک اس فلم کی مخالفت کا معیار ختمی المرتبت صلی الله عالیہ واله وسلم کی شان میں گستاخی ہے تو پھر انصاف سے بتائیے کہ ۔۔۔

کیا جنّت البقیع میں رسول گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ اور ان کی آل کے مزارات کو منہدم کرکے توہین رسالت نہیں کی گئی؟

کیا رسول اکرم (ص) کی اکلوتی بیٹی کے مزار کو گرا کر ویران کرنے سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین نہیں ہوئی؟

کیا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب اور آل کے مزارات کو شرک کے مراکز کہنے سے رسول کی توہین نہیں ہوتی؟

کیا رسول اکرم کی اصلی آل (اولاد) جن پر  دردو اور سلام کے بغیر سنی اور شیعہ کی نماز مکمل نہیں ہوتی، کیا ان عظیم ہستیوں کے نام چھپانا اور ان کی بجاے پوری مسلمان امت کو آل رسول قرار دینے سے توہین رسالت نہیں ہوتی؟ کیا حجاج بن یوسف، عبدالملک بن مروان،جنرل ضیاء الحق ،  ملک اسحاق ، احمد لدھیانوی، ملا عبدالعزیز اور اس طرح کے دوسرے بد کردار لوگ آل رسول ہیں اور کیا ہم ان پر درود اور سلام بھیجتے ہیں؟ اور کیا جنت البقیع میں اور سامرہ میں جن آل نبی کے مزارات کو بم مار کر منہدم کیا گیا اس سے توہین رسالت نہیں ہوتی؟

کیا اس بات کو چھپایا جا سکتا ہے کہ معاویہ ابن ابی سفیان نے حضرت علی اور اولاد رسول پر خطبہ جمعہ میں گالیاں دینے کا رواج ڈالا ، سرکاری مورخ رکھے جنہوں نے محمد اور آل محمد کے خلاف توہین آمیز حدیثیں گھڑیں – کیا ان باتوں سے توہین رسالت نہیں ہوتی؟

کیا اس حقیقت کو چھپایا جا سکتا ہے کہ امام حسین کی شہادت سےآج تک مسلمان حکومتوں نے اور تکفیری گروہوں نے چن چن کر آل محمد کو قتل کیا ان کے مزاروں پر حملے کیے بنو امیہ، بنو عباس کے دور میں آل محمد اور آل علی کو بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا اور مسلمانوں کی اکثریت اس ظلم پر خاموش رہی – کیا اس ظلم سے توہین رسالت نہیں ہوئی؟

کیا یہ حقیقت نہیں ہے  ہماری حدیث کی کتابیں رسول اکرم کی وفات کے دو سو سال بعد تدوین کی گیئں اور ان میں دشمنان محمد و آل محمد کی گھڑی ہوئی حدیثیں ڈالی گئیں ان کتابوں میں بہت سی ایسی حدیثیں ڈال دی گئی ہیں جن سے براہ راست رسول اکرم کی توہین ہوتی ہے – دراصل راج پال کی گستاخانہ کتاب رنگیلا رسول میں بہت سا مواد مسلمانوں کی حدیث کی صحیح کتابوں سے لیا گیا تھا – کیا ایسی کتابوں کو صحیح کہنے اور بعد از قرآن معتبر سمجھنے سے توہین رسالت نہیں ہوتی؟

کیا حضور کے مزار کی جالی کو چومنے والوں کو ڈانٹنے اور انہیں مشرک کہنے سے حضور (ص) کی اہانت نہیں ہوتی؟

کیا اولیائے کرام کے مقدس مزارات پر دھماکے کرنے سے حضور (ص) کی اہانت نہیں ہوتی؟

کیا بے گناہ لوگوں کو قرآن مجید کی آیات پڑھ پڑھ کر جانوروں کی طرح ذبح کر دینے سے قرآن اور پیغمبر (ص) کی توہین نہیں ہوتی؟

کیا مسجدوں میں نمازیوں کو گولیاں مار دینے سے اسلام اور پیغمبر اسلام (ص) کی اہانت نہیں ہوتی؟

کیا بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے اور فلسطینیوں کی در بدری کے باوجود سعودی حکمرانوں کی امریکہ اور یورپ کی خوشامد سے اسلام اور پیغمبر اسلام (ص) کی اہانت نہیں ہوتی؟

کیا اپنے آپ کو طالبانِ اسلام کہنے والوں کے ہاتھوں بچیوں کے سکول بند کرانے اور عورتوں کو مجمع عام میں پیٹنے سے اسلام اور پیغمبرِ اسلام (ص) کی رسوائی نہیں ہوتی؟

آپ جس بھی مذہب اور جس بھی مکتب سے تعلق رکھتے ہوں، اپنے ضمیر سے پوچھئے کہ عورتوں اور بچوں کی چیخ وپکار کے درمیان کلمہ گو مسلمانوں کوکلمہ پڑھتے ہوئے، بسوں سے اتار کر موت کے گھاٹ اتار دینے سے اسلام اور پیغمبرِ اسلام (ص) کی شان میں اضافہ ہوتا ہے یا توہین ہوتی ہے؟

امریکی پادری ٹیری جونز اور اس کے ہمنواوں کو یہ جرات صرف اسی لئے ہوئی ہے کہ وہ ہمارے دوہرے معیار اور دوہرے پن سے آگاہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جب مسلمان خود ہر روز پیغمبرِ اسلام (ص) کی توہین کرکے “مجاہد اسلام” طالبانِ اسلام ” اور “خادم حرمین شریفین” رہ سکتے ہیں اور کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تو پھر انہیں مسلمانوں کے احتجاجات  کو خاطر میں لانے کی کیا ضرورت ہے۔

آج گلیوں اور بازاروں میں ظالمانہ طور پر شہید کے جانے والوں کا خون ہم سے کہہ رہا ہے کہ اے فرقوں اور علاقوں، نعروں اور تنظیموں، قبیلوں اور ٹولوں میں بٹے ہوئے مسلمانو! اگر ناموس رسالت (ص) کے تحفظ کے لئے مخلص ہو تو میری طرح ظاہر و باطن کو ایک کر دو، جس کے نام کا کلمہ پڑھتے ہو، جس کی امّت کہلاتے ہو، اسی کی محبت کو زندگی کا معیار قرار دو، چاہے گستاخ رسول کوئی بھی ہو، اس کی سزا ایک ہی مقرر کرو ۔۔۔ بصورت دیگر نعرے لگاتے رہو اور احتجاج کرتے رہو

یقین جانیں ہمارے دوغلے پن، دوہرے معیار اور کھوکھلے احتجاجوں کو دیکھ کر ٹیری جونز،طارق فتح، سلمان رشدی، ایمن زواہری، حکیم الله محسود، ملک اسحاق وغیرہ ہنستے ہوں گے چونکہ وہ جانتے ہیں کہ جو قوم دوہرے پن اور دوہرے معیار کی عادی ہو جائے اسے ذلت و رسوائی کی گھاٹیوں سے کوئی نہیں نکال سکتا۔

(فیس بک سے ماخوذ )

Latest Comments
  1. Maryam
    Reply -
  2. Ch. Azmat
    Reply -
  3. Bashir Ahmed
    Reply -
  4. kaalchakra
    Reply -
  5. Rai Naveed
    Reply -
  6. Raza
    Reply -
  7. Hasan Zaidi
    Reply -
  8. DAUD MUNAWAR
    Reply -
  9. Abdullah
    Reply -
  10. Yasin
    Reply -
  11. Yasin
    Reply -
  12. Yasin
    Reply -
  13. Yasin
    Reply -
  14. Yasin
    Reply -
  15. Yasin
    Reply -
  16. Yasin
    Reply -
  17. Yasin
    Reply -
  18. Yasin
    Reply -
  19. Yasin
    Reply -
  20. Yasin
    Reply -
  21. Rahat Ali Changezi
    Reply -
  22. saima
    Reply -
  23. Bilal
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>