Moderate Deobandi vs Takfiri Deobandis دیوبندی بمقابلہ تکفیری دیوبندی

دیوبندی بمقابلہ تکفیری

علی شیرازی

مولانا فضل الرحمن پر ہونے والے حالیہ خودکش حملے اور اس سے بھی پہلے مولانا حسن جان کی شہادت، رائج دیوبندی علماء اور تکفیری جہادیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی چپقلش کا شاخسانہ ہے، بلکہ اگر اس کو ایک بڑے اُفق کی چھوٹی سی تصویر کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا۔ تکفیری عناصر کون ہیں، دیوبندی علماء کلامی حوالے سے کس مکتب سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے آپسی اختلاف کیا ہیں، یہ تمام ابحاث کسی اور وقت کے لیے اُٹھا رکھتے ہیں۔

اگر پاکستان میں موجودہ “جہادی مرکب” کو سمجھنے کی کوشش کریں تو اس وقت یہ “جہادی مرکب” دو اہم عناصر پر مشتمل ہے۔ پہلا عنصر “القاعدہ اور عرب مجاہدین” ہیں، جو جہاد کے لیے ایک وسیع میدان کی تلاش میں افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آئے۔ جبکہ دوسرا عنصر “پاکستان کی جہادی تنظیمیں اور جوان” ہیں۔ اول الذکر تکفیری، جبکہ آخر الذکر دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔

افغانستان پر روس کے حملے کے بعد ان دونوں عناصر کے درمیان تعلقات بڑھے، القاعدہ اور عرب مجاہدین پاکستانی دیوبند مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی جہادی تنظیموں کو نہ صرف مالی امداد فراہم کرتے بلکہ ٹریننگ کیمپس بھی یہی لوگ چلاتے، انہی ٹریننگ کیمپس میں جسمانی تربیت کے ساتھ ساتھ فکری تربیت کا بھی انتظام ہوتا۔ دیوبندی جہادی آرگنائزیشنز جیسے جہاد اسلامی، حرکت المجاہدین، حرکت الانصار، جیش محمد وغیرہ پورے پاکستان سے نوجوانوں کو ڈھونڈ کر ان معسکروں میں پہنچاتیں۔ جہاں پر پورا تربیتی پروگرام انہی تکفیری تفکر کے حامل عرب مجاہدین کے پاس ہوتا۔ تکفیری عناصر کے زیر اہتمام چلنے والے ٹریننگ کیمپس میں ان نوجوانوں کو دارالکفر اور دارالسلام کے تکفیری تفکر کے مطابق معنی بتائے جاتے۔ “تترس” جیسی جہادی فقہی اصطلاحات کے ذریعے، خودکش حملوں میں بے گناہ جانی و مالی نقصان کی توجیہہ کی جاتی، جب ایک نوجوان ان ٹریننگ کیمپس اور معسکروں میں آتا تو دیوبندی ہوتا لیکن جب وہ تین ماہ یا سال کی تربیت مکمل کر کے واپس پلٹتا تو فکری لحاظ سے تکفیری بن چکا ہوتا، اگرچہ فقہی حوالے سے وہ حنفی ہی رہتا۔

پاکستان میں موجودہ تکفیری گروپس، عرب مجاہدین کی سرپرستی میں ایسے ہی افراد پر مشتمل ہیں، جو انہی دیوبند جہادی تحریکوں کی ریکروٹنگ کا نتیجہ ہیں۔ نائن الیون کے بعد اس متشدد مزاج تکفیری فکر نے پاکستان میں اپنا رنگ دیکھانا شروع کیا۔ علماء دیوبند کو یہ پوری گیم سمجھنے کے لیے ایک لمبا عرصہ لگا۔ لیکن جب یہ بات سمجھ میں آئی تو پانی سر سے اونچا ہو چکا تھا کیونکہ یہ تکفیری گروپس اپنے جہادی نظریے میں علماء دیوبند سے شدید مخالفت رکھتے تھے۔

دیوبندی علماء نے پہلے مرحلے میں ان تکفیری جہادی گروپ سے الگ ہونا شروع کیا۔ ایک بڑی تعداد میں ایسے علماء کے نام لیے جا سکتے ہیں جو انتہائی روشن جہادی بیک گراونڈ رکھتے تھے لیکن اب ان جہادی تکفیری گروپس سے الگ ہو چکے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں ان کی حمایت سے ہاتھ اُٹھا لیا، وفاق المدارس العربیہ سے لیکر سابقہ جہادی بیک گروانڈ رکھنے والا الرشید ٹرسٹ تک، جیش محمد کے امیر مولانا مسعود اظہر سے لیکر حرکت المجاہدین کے امیر فضل الرحمن خلیل تک، علماء میں مفتی تقی عثمانی و رفیع عثمانی سے لیکر مفتی نعیم تک سبھی خاموش ہیں یا اپنے کردار سے ایسی تکفیری جہادی تحریکوں کی نفی کر رہے ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ نے ہمیشہ ایسی تکفیری طالبانی تحریکوں کی نفی کی ہے۔ لال مسجد کے واقعہ میں وفاق المدارس العربیہ کا کردار انتہائی روشن رہا، اسی وجہ سے تکفیری عناصر وفاق المدارس العربیہ سے اپنے وفاق کو الگ کرنے کے لیے کوشاں رہے۔ الرشید ٹرسٹ کے زیر اہتمام چلنے والا اخبار “روزنامہ اسلام” پاک فوج کے مقابلے میں مرنے والے “تحریک طالبان” کے تکفیری افراد کو ہمیشہ “ہلاک شدگان” ہی لکھتا ہے۔ یہ صرف خبر نہیں، بلکہ اخبار کی جانب سے موقف کا اظہار بھی ہے۔

ابھی تیسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے یا شروع ہونے کو ہے جس میں ان تکفیری عناصر اور گروپس کے خلاف دیوبند کی خاموشی ٹوٹتی نظر آ رہی ہے کیونکہ خاموشی کا توڑنا خود دیوبندی مسلک کی بقا کے لیے بے حد ضروری ہے۔ دیوبندیت کو تکفیریت کے خلاف اپنی حدبندی کرنی پڑے گی، تاکہ تاریخ طالبان اور تکفیریوں کے سفاک جرائم دیوبندیت کے زمرے میں نہ لکھے۔ اس تلخ حقیقت کا خود دیوبندی علماء کو پہلے سے بیشتر احساس ہے۔

تکفیریوں سے اظہار برائت کرتے ہوئے قرآن اکیڈمی ماڈل ٹاون لاہور کے منتظم اعلی دیو بند عالم دین حافظ محمد زبیر “الشریعہ” میگزین نومبر دسمبر 2008ء کے شمارے میں یوں لکھتے ہیں۔

“ہماری رائے کے مطابق یہ تکفیری ٹولہ امت مسلمہ کے مسائل حل کرنے کی بجائے بڑھا رہا ہے۔ ٹینشن، فرسٹریشن اور ڈیپریشن میں مبتلا اس قتالی تحریک کو سوئی ہوئی امت کو جگانے کا بس ایک ہی طریقہ نظر آتا ہے کہ ان سب کو باہمی جنگ و جدال میں جھونک دو۔” تھوڑا سا آگے حافظ محمد زبیر صاحب، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی جانب سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ “آخری زمانے میں ایک جماعت ایسی ہو گی جو کہ نوجوانوں اور جذباتی قسم کے احمقوں پر مشتمل ہو گی وہ قرآن سے بہت زیادہ استدلال کریں گے اور اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے پس یہ جہاں ملیں تم ان کو قتل کرو کیونکہ جس نے ان کو قتل کیا اس کے لیے قیامت کے دن اجر ہو گا”

صحیح بخاری، “کتاب فضائل القرآن، باب اثم من رای بقراء القران اوتا کل بہ”

ماہنامہ “الصیانہ” لاہور میں جامعہ الاسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد زاہد اپنے کالم “موجودہ پر تشدد تحریکیں اور دیوبندی فکر و مزاج” میں ان تکفیری عناصر کے خلاف خاموشی توڑنے کے متعلق لکھتے ہیں

” دیوبندی حلقے کی قیادت چاہے وہ سیاسی قیادت ہو، مدارس اور وفاق کی قیادت ہو، اساتذہ کرام ہوں، دینی صحافت سے وابستہ حضرات ہوں، اُن پر وقت نے بہت بڑی ذمہ داری عائد کر دی ہے۔ وہ ذمہ داری امریکا، حکومت وقت اور موجودہ نظام کو گالیاں دینے کی نہیں۔ یہ کام کتنا ہی مستحسن سہی، اتنا مشکل نہیں ہے جتنا اپنوں سے اگر غلطیاں ہو رہی ہوں، ان کے بارے میں راہنمائی کرنا، یہ مشکل اور صبر و عزیمت کا متقاضی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مصلحت پسندی کے خول سے نکل کر یہ کام اب دیوبندی قیادت کو کرنا ہی پڑے گا۔ اب تک بھی بہت تاخیر ہو چکی ہے، مزید تاخیر مزید نقصان کا باعث ہو گی”۔

دیوبندیت کی جانب سے اس ٹوٹتی خاموشی نے دیوبندیت کو تکفیریت کے مقابلے میں لا کھڑا کیا ہے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے معروف دیوبندی عالم دین مولانا حسن جان نے انتہائی دلیری کے ساتھ پاکستان میں ہونے والے خودکش دھماکوں کے خلاف فتوی دیا، جس کے جواب میں مولانا حسن جان کو تکفیریوں نے شہید کر دیا۔ مولانا فضل الرحمن کو بھی تکفیری ازم کے خلاف بولنے اور تکفیری ایجنڈے پر نہ چلنے کے جرم میں خودکش دھماکوں کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق لال مسجد کے واقعہ میں منافقانہ کردار کے الزام میں عثمانی برادران رفیع عثمانی و تقی عثمانی، کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر، حرکت المجاہدین کے امیر فضل الرحمن خلیل سمیت کئی جہادی کمانڈروں کے خلاف بھی تکفیری عناصر نے موت کے پروانہ جاری کیے ہوئے ہیں۔
نام نہاد تکفیری جہادی گروپس اب شیعہ، بریلوی دشمنی کے بعد اگلے مرحلے دیوبندی دشمنی میں داخل ہو چکے ہیں۔

قسط دوم:۔

تکفیریوں نے دیوبندیت کو اپنا شکار صرف جہادی معسکروں میں ہی نہیں بنایا بلکہ “تکفیریوں” نے دیوبندیت پر اپنے عقائد و نظریات ٹھونسے کے لیے اُن کے تبلیغی و فلاحی اداروں میں بھی نفوذ کیا۔ جیسا کہ ہم اپنے پچھلے کالم میں بیان کر چکے ہیں کہ دیوبندیت اور تکفیریت کے درمیان “جہادی روابط” افغان جہاد کے دوران قائم ہوئے۔ جہادی اسٹرکچر کو سپورٹ کرنے کے نام پر عرب تکفیریوں نے صوبہ خیبر پختونخواہ میں فلاحی و تبلیغی اداروں کا ایک جال بچھا دیا۔ اُن میں سے ایک تبلیغی و فلاحی ادارہ “اشاعت توحید و السّنہ” بھی تھا۔

“اشاعت توحید و السّنۃ” کی بنیادیں دیوبند عالم دین حسین علی الوانی پنجائی اور شیخ القرآن مولانا محمد طاہر نے رکھیں، مولانا محمد طاہر دیوبندی مدارس سے فارغ التحصیل تھے، 1938ء میں مکہ گئے اور کچھ عرصہ وہیں سکونت اختیار کی اور وہیں سے سعودی وہابی تفکر سے متاثر ہوئے، واپسی پر سعودی علماء کے تعاون سے انہوں نے “اشاعت توحید و السّنہ” کی بنیاد رکھی۔ بعد میں مولانا غلام اللہ خان، سید عنایت اللہ شاہ بخاری، قاضی نور محمد، شیخ الحدیث مولانا قاضی شمس الدین، شیخ التفسیر مولانا محمد امیر بندیالوی وغیرہ نے اس جماعت کو فکری و نظریاتی بنیادیں فراہم کیں، ان میں اکثریت اُن دیوبند علماء کی تھی جو سعودی عرب سے اپنی تعلیم مکمل کر کے آئے، اور دیوبندی ہونے کے باوجود وہابی و تکفیری نظریات سے زیادہ متاثر تھے۔

ادارہ اشاعت التوحید و السّنۃ اپنی ابتداء سے ہی رائج علماء دیوبند کے فکری و علمی مذاق کے برخلاف وہابیت کی طرف مائل تھا۔ افغان جہاد کے دوران وہابی تکفیری مجاہدین کے دیوبندی علماء کے ساتھ روابط اور سعودی شہزادوں، عرب بزنس ٹائیکونز کی مالی معاونت نے “اشاعت توحید و السّنۃ” اور اس جیسے دیگر تکفیری عقائد رکھنے والے اداروں کو مضبوط کیا۔ ان تبلیغی و فلاحی اداروں کا کردار دیوبندیت کے اندر ایک طرح سے ففتھ کالم کا سا تھا۔ یہ گھر کے ایسے بھیدی تھے جو سعودی تکفیری سوچ کو دن بدن دیوبندیت میں راسخ کرنے پر لگے ہوئے تھے۔ افغان جہاد کے دوران سعودی اور تکفیری مالی معاونت سے “اشاعت توحید و السّنۃ” نے اپنی جڑیں خیبر پختونخواہ میں مضبوط کیں۔ خیبر پختونخواہ اور اُس سے ملحقہ فاٹا کی سات ایجنسیوں میں اپنا تبلیغی و فلاحی اسٹرکچر مضبوط بنانے کے بعد اس ادارے نے پنجاب، سندھ اور بلوچستان حتٰی ایران اور افغانستان کا بھی رخ کیا۔ “اشاعت توحید والسّنہ” کے ان تکفیری و وہابی عقائد و نظریات سے جب بڑی تعداد میں لوگوں نے متاثر ہونا شروع کیا تو پھر علماء دیوبند کو ہوش آیا اور انہوں نے اپنے اندر سے پھوٹنے والے اس تکفیری فتنے کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ اشاعت توحید و السّنۃ اور علماء دیوبند کے درمیان اس وقت پنجاب و سندھ میں گھمسان کی عقیدتی و نظریاتی جنگ جاری ہے۔

“حیات النبی ص” پر بحث اس ساری جنگ میں مرکزی کردار اختیار کیے ہوئے ہے۔ علماء دیوبند کا نظریہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے انتقال کے بعد اپنی قبر مبارک میں اپنے جسد خاکی کے ساتھ زندہ ہیں۔ جبکہ اس کے برخلاف اشاعت توحید و السّنۃ و تکفیری تفکر کے حامل علماء کا نظریہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے بعد اب اُن کا اس دنیا سے کوئی تعلق نہیں رہا، اُن کا جسد مبارک نعوذ باللہ مٹی میں مل چکا ہے۔ اول الذکر اپنے آپ کو “حیاتی” کہتے ہیں جبکہ آخر الذکر “مماتی” کہلاتے ہیں۔

تکفیری تفکر رکھنے والے دیوبند علماء اور روایتی دیوبند علماء کے درمیان حیات النبی ص کے علاوہ بھی مندرجہ ذیل عقائدی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک پر کھڑے ہو کر آپ سے استشفاع جائز ہے یا نہیں؟ دیوبند جائز کے قائل ہیں جبکہ تکفیری تفکر سے متاثر حرمت کے قائل ہیں۔

۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے استغاثہ کیا جا سکتا ہے؟ اور آپ کے توسل سے دعا مستحسن ہے یا نہیں؟ دیوبند علماء استغاثہ اور توسل کے قائل ہیں جبکہ تکفیری تفکر رکھنے والے علماء اس کو جائز نہیں مانتے۔

۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبر اقدس میں ہماری جانب سے پڑھا گیا درود و سلام سنتے ہیں؟ روایتی دیوبند علماء اس بات کے قائل ہیں کہ نبی اکرم ص اپنے انتقال کے بعد بھی سنتے ہیں اور اس بات کے بھی قائل ہیں کہ فرشتے ہمارا سلام نبی اکرم ص کی قبر اقدس میں لے جاتے ہیں۔ جبکہ تکفیری “سماع موتی” کے قائل نہیں۔

۔ کیا نبی اکرم ص کی قبر اقدس کی زیارت کے لیے سفر کی نیت کرنا مستحسن ہے؟ علماء دیوبند مستحسن کے قائل ہیں جبکہ تکفیری تفکر سے متاثر علماء ایسے سفر کو حرام شمار کرتے ہیں۔

۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں نعت پڑھی جا سکتی ہے؟ علماء دیوبند ایسی نعت جس میں شرک آمیز غلو شامل نہ ہو، پڑھنا جائز سمجھتے ہیں جبکہ تکفیری اس کو حرام شمار کرتے ہیں۔

دیوبند میں تکفیری تفکر سے متاثر علماء کی تعداد اگرچہ بہت کم ہے لیکن ان کو سعودی اور مشرق وسطٰی کے شہزادوں اور علماء کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ پیسے کی فروانی کی وجہ سے یہ لوگ بڑے پیمانے پر اپنے تبلیغی و فلاحی پراجیکٹس چلا رہے ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخواہ کو تکفیری عقائد سے شدید متاثر کرنے کے بعد ان لوگوں نے پنجاب، سندھ، بلوچستان، زاہدان، چاہ بہار وغیرہ میں بھی قدم جمانے شروع کیے ہوئے ہیں۔ ان کو صرف پنجاب اور سندھ میں روایتی دیوبند علماء کی طرف سے مزاحمت کا سامنا ہے۔
علماء دیوبند کی اپنے اندر سے پھوٹنے والے فتنہ تکفیریت و وہابیت کے خلاف حالیہ کوششوں کو دیکھنے کے بعد لگتا ہے کہ علماء ناصرف بیدار ہیں بلکہ اس فتنے کے پس پشت کارفرما سعودی و وہابی سازشوں کو بھی سمجھ رہے ہیں۔

Moderate Doebandis with a Sunni Barelvi and a Shia scholar

قسط سوم:

دیوبندی علماء اور تکفیری تفکر کے درمیان تضادات لال مسجد کے واقعہ کے دوران کھل کر سامنے آئے۔ رائج علمائے دیوبند کا فکر و مزاج لال مسجد کی قتالی اور تکفیری تحریک سے بہت ہٹ کر تھا۔ اسی علمی مذاق کی پختگی کے باعث اکابرین علمائے دیوبند نہ تو اس تحریک کا ایندھن بنے اور نہ ہی انہوں نے اس کو سراہا، بلکہ آخر تک لال مسجد کے سربراہان سے اظہار برائت کرتے رہے۔ اکابرین علمائے دیوبند نے 18، 19 اپریل 2007ء کو وفاق المدارس العربیہ کی مجلس عاملہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد اپنے فکر و مزاج اور لال مسجد و جامعہ حفصہ تحریک سے اظہار لاتعلقی کا اعلامیہ یوں جاری کیا۔

“وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلسِ عاملہ ملک میں اسلامی احکام و قوانین کی عملداری، اسلامی اقدار و روایات کے فروغ اور منکرات و فواحش کے سدّباب کے لئے پُرامن اور دستوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور جدوجہد کے کسی ایسے طریقہ کو درست تصور نہیں کرتی، جس میں حکومت کے ساتھ براہِ راست تصادم، عوام پر زبردستی یا قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوئی شکل پائی جاتی ہو”
اسی اعلامیہ میں مزید بتایا گیا کہ

“جامعہ حفصہ اسلام آباد کی طالبات اور لال مسجد کے منتظمین نے جو طریقِہ کار اختیار کیا ہے اسے یہ اجلاس درست نہیں سمجھتا اور اس کے لئے نہ صرف وفاق المدارس العربیہ کی اعلیٰ قیادت خود اسلام آباد جا کر متعلقہ حضرات سے متعدد بار بات چیت کر چکی ہے، بلکہ “وفاق” کے فیصلہ اور مؤقف سے انحراف کے باعث جامعہ حفصہ کا “وفاق” کے ساتھ الحاق بھی ختم کیا جا چکا ہے۔ یہ اجلاس وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے مؤقف اور فیصلہ سے جامعہ اسلام آباد اور لال مسجد کے منتظمین کے اس انحراف کو افسوس ناک قرار دیتا ہے اور ان سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس پر نظرِثانی کرتے ہوئے ملک کی اعلیٰ ترین علمی و دینی قیادت کی سرپرستی میں واپس آجائیں”

جاری کردہ “مجلس عاملہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان”
منعقدہ 29/ربیع الاول و یکم ربیع الثانی 1428ھ مطابق 18‘19/اپریل 2007ء

جیسے کہ بعد کے واقعات واضح کرتے ہیں کہ “وفاق المدارس العربیہ” کی یہ اپیل رائیگاں گئی، لال مسجد کے بزرگان کی رائج دیوبندی علماء کے فکر و مزاج سے بغاوت انہیں مہنگی پڑی، مولانا عبدالعزیز کی ذلت آمیز گرفتاری اور عبدالرشید غازی کی ہلاکت کے بعد اگرچہ نچلے درجے کے دیوبندی طبقات، تکفیری سوچ سے متاثرہ افغان ٹرینڈ بوائز اور مدارس کے طلاب میں اشتعال پایا جاتا تھا، لیکن سمجھدار اور حالات سے آگاہ دیوبند اکابرین اس تکفیری تفکر کی بغاوت کو خوب سمجھ رہے تھے۔

7
اگست 2007ء کو ملتان میں وفاق المدارس کی مجلس عاملہ کا لال مسجد کے واقعہ کے بعد اجلاس منعقد ہوا، جس میں مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق سمیت دیگر علماء اور وفاق المدارس العربیہ کے ممبران کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن کی تعداد 500 کے لگ بھگ تھی، یہ اجلاس دیوبند کے اندر پائے جانے والے تکفیری خلفشار کو بہت واضح کرتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جیسے ہی جلسہ شروع ہوا، لال مسجد کے حامی تکفیری تفکر کے حامل افراد نے وفاق المدارس العربیہ کی قیادت کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کر دی، یہ افراد وفاق المدارس العربیہ کے صدر مولانا سلیم اللہ خان، سیکرٹری جنرل قاری حنیف جالندھری، مولانا رفیع عثمانی، مولانا زاہدالراشدی وغیرہ سے لال مسجد کے واقعہ میں منفی کردار ادا کرنے کی وجہ سے استعفٰی لے کر وفاق کے نئے الیکشن کا مطالبہ کرتے رہے۔ مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں نیا “وفاق المدارس لال مسجد” بنانے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے۔

اس اجلاس میں رائج دیوبندی علماء اور تکفیری تفکر کے حامل افراد کے درمیان بات گالم گلوچ سے بڑھ کر تھپڑوں اور داڑھی نوچنے تک بھی پہنچی۔ اسی اجلاس میں جمعیت علماء اسلام ف سے تعلق رکھنے والے مولانا زرگل کو لال مسجد کے بزرگان پر تنقید کرنے کے جرم میں لال مسجد حامی گروپ نے تشدد کا نشانہ بنایا اور موت کی دھمکیاں بھی دیں۔

اس اجلاس میں “وفاق المدارس العربیہ” کے اکابرین نے طالبان کی جانب سے دھمکی آمیز اُن خطوط کا بھی ذکر کیا، جس میں تکفیری طالبان راہنماوں نے جنوبی وزیرستان آپریشن پر خاموشی اور لال مسجد میں منفی کردار کی وجہ سے وفاق المدارس کے افراد کو دھمکیاں دیں تھیں نیز ان خطوط میں گورنمنٹ کے ساتھ تعلقات پر بھی “وفاق المدارس العربیہ” کو تنبیہ کی گئی تھی۔ بعض ذرائع کے مطابق “وفاق المدارس العربیہ” کی مجلس عاملہ کا اجلاس طالبان کے انہیں دھمکی آمیز خطوط کی وجہ سے بلوایا گیا تھا، جو بعد میں لال مسجد کے تنازعے کی وجہ سے لڑائی جھگڑے کا شکار ہو کر ختم ہو گیا۔

“وفاق المدارس لال مسجد” کے حامی افراد میں مولانا خلیل سراج ڈیرہ اسماعیل خان، مولانا طاہر اشرفی، مولانا زاہد محمود قاسمی وغیرہ شامل تھے۔ ان افراد کو اکابر علمائے دیوبند میں سے ڈاکٹر شیر محمد اور مولانا سمیع الحق اکوڑہ خٹک کی خاموش حمایت بھی حاصل تھی۔ پچھلے اجلاس کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاق المدارس العربیہ کا اگلا کنٹرولڈ اجلاس 18 اگست 2007ء کو کراچی میں بلایا گیا۔ جہاں پر تکفیری تفکر کے حامل اقلیت کا مکمل طور پر بائیکاٹ کیا گیا۔ چنانچہ یہ اجلاس پرامن منعقد ہوا۔ لیکن “وفاق المدارس العربیہ” کی قیادت اور علمائے دیوبند پر واضح ہو چکا تھا کہ ہمارے اندر “سب اچھا” نہیں ہے۔

جیسا کہ پچھلے دو کالمز میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ دیوبندیت کے جہادی معسکر ہوں، تبلیغی و فلاحی میدان ہوں یا مدارس، سبھی تکفیری عقائد و نظریات کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ اب علماء و اکابرین دیوبند کے سامنے دو راستے ہیں۔ تکفیریوں کے حملوں کے خوف سے خاموش رہیں اور اس قتالی و تکفیری تحریک کو اپنے جوان اور لخت جگر کھانے دیں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ پوری استقامت اور ثابت قدمی سے دیوبندی فکر و مزاج کے مطابق اس تکفیری سوچ کو رد کریں اور اپنے جوانوں، اپنی تنظیموں اور اپنے مدارس کو تکفیریت سے الگ کر لیں۔ ممکن ہے شروع میں نقصان اُٹھانا پڑھے، لیکن دیوبندیت کو اپنی 154 سالہ علمی و اصلاحی تحریک کو بچانے کے لیے یہ قربانی دینا پڑھے گی۔

پاکستان میں جاری طالبان کی موجودہ قتالی و تکفیری تحریک نے وہ کونسے ایسے جرائم ہیں جو نہیں کئے۔ عوامی مقامات اور بازاروں میں بم دھماکوں سے لیکر لاشوں کو مثلہ کرنے اور گاڑیوں کے پیچھے باندھ کر گھسیٹنے تک، انسانوں کو جانوروں کی طرح سرعام ذبح کرنے سے لیکر بچوں کو خودکش حملہ آور بنا کر بیچنے تک، کیا علماء و اکابرین دیوبند اس بات کے متحمل ہو سکتے ہیں کہ یہ سارے جرائم دیوبند کی اصلاحی و علمی تحریک کے تناظر میں دیکھے جائیں۔ آج اکابرین و علماء دیوبند کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے کونسا راستہ اختیار کرنا ہے۔ اگرچہ اب بھی بہت دیر ہو چکی ہے، لیکن پھر بھی فیصلہ کرنے کا وقت باقی ہے۔

Source: Wilayat

Latest Comments
  1. Abdul Nishapuri
    Reply -
  2. Ahsan Shah
    Reply -
  3. Behzad Bugti
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

Current ye@r *